Tuesday , 21 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » اسلامیات » معراج النبیؐ عظیم الشان معجزہ

معراج النبیؐ عظیم الشان معجزہ

قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں رب ذوالجلال کا اِرشادِ مبارک ہے۔پاک ہے وہ ذات جو اپنے بندے کو راتوں رات لے گیا مسجد حرام سے مسجدِ اقصیٰ کی طرف جس کے اِردگرد ہم نے برکت رکھی کہ ہم اسے اپنی عظیم نشانیاں دکھائیں بے شک وہ سْنتا دیکھتا ہے‘‘۔ اس آیت مبارک میں تین لفظ قابلِ توجہ ہیں:۱۔ اَسریٰ ۲۔عَبدِہ ۳۔لَیلًا۔
اس میں حضور نبی کریم کی سیر کا ذکر ہے اَسرٰی کے معنی سیر پر لے جاناتو رات کو ہی ہوتا ہے اور لفظ لَیلًا سے مزید تقویت پہنچ گئی کہ یہ سیر رات ہی کو ہوئی اور پھر لفظ لَیلًا نے یہ بات واضح کر دی رات ہی میں یارات کے کچھ حصہ میں یہ سیر ہوئی ہے۔اِس سیر کے کرانے کا دعویٰ رب ذوالجلال والاکرام کا ہے چونکہ سفر محیر العقول تھا اسلئے رب کائنات نے پہلے اپنی تسبیح بیان فرما دی تا کہ پڑھنے سننے والے کے دل میں یہ بات اْتر جائے کہ جس ذاتِ برحق نے سیر کرائی ہے وہ ہر قسم کی کمزوری اور نقص سے پاک ہے اْس کیلئے ایسی سیر کرا دینا ناممکن اور مشکل نہیں صرف مسجدِ حرام سے مسجد اقصیٰ کا آنے جانے کا سفر تقریباً دو ماہ کے قریب ہوتا تھا لیکن رات کے کچھ حصہ کا دعویٰ ہے اور دعویٰ بھی قادرِ مطلق رب ذْوالجلال والاکرام کا ہے اور پھر یہ سفر رْوح کا سفر نہیں یا خواب کا واقعہ نہیں بلکہ رْوح مع الجسد اور بیداری کا واقعہ ہے مذکورہ بالا تینوں الفاظ ’’رْوح مع الجسد بیداری‘‘ میں سیر کی تاکید قرآنِ حکیم سے ہو جاتی ہے جیسا کہ ربِ حقیقی نے حضرت موسیٰ ؑ کو سورۃ الدخان کی آیت نمبر۳۲ میں ارشاد فرمایا: قرآنِ مجید فرقانِ حمید میں رب ذوالجلال والاکرام کا اِرشادِ مبارک ہے ۔ (ترجمہ) ’’راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جاؤ ضرور تمہارا پیچھا کیا جائیگا اس آیت کی تائید میں دیگر چار آیات مبارکہ ملاحظہ کی جا سکتی ہیں‘‘حضرت موسیٰ ؑ ہی کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:(ترجمہ) یہ کہ راتوں رات میرے بندوں کو لے کر چل (طہ:۷۷)
(ترجمہ) اور ہم نے موسی کو حکم بھیجا کہ میرے (ان) بندوں کو شباشب(مصر سے باہر) نکال لے جاؤ ۔الشعراء :۲۵
حضرت لوط ؑ کی بستی کو فرشتے تباہ کر نے کیلئے آئے توفرشتوں نے کہا اے لوط ؑ ہم آپ کے رَب کے بھیجے ہوئے ہیں وہ آپ تک نہیں پہنچ سکتے آپ اپنے گھر والوں کو راتوں رات لے جاؤ(ہود:۱۸)
اسی طرح سورۃ الحجر کی آیت نمبر۵۶ میں حضرت لوط علیہ السلام کو فرمایا: ’’آپ اپنے گھر والوں کو کچھ رات رہے لے کر باہر جائیے بحولابالا پانچ آیات جن میں سے تین میں حضرت موسیٰ ؑ اور دو میں حضرت لوط ؑ کا ذکرِ خیر ہے۔‘‘
اَسرٰی‘عَبدِ لَیلًا یا اَسرٰی اَھلِ اور لَیلً کا ذکر جن آیاتِ قرآنیہ میں ہے اْن میں یہ بات اِنتہائی واضح ہے کہ میرے بندوں کو اور اپنے گھر والوں کو راتوں رات ان بستیوں سے لے کر نکل جاؤاس سے یہ مراد نہیں کہ ان کی روحوں کو نکال کر لے جاؤں یا یہ سو جائیں اور خواب میں حکم ہو کہ ان کو خواب میں یہاں سے باہر لے جاؤ بلکہ جاگتے ہوئے اس بستی سے لے جاؤ۔ یہ تمام آیات اَسرٰی بِعَبدِہ لَیلًا کی وضاحت کر دیتی ہیں کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے حضرت محمدؐ کی روح کو سیر نہیں کرائی اور نہ ہی خواب میں سیر کرائی بلکہ جاگنے کی حالت میں سیر کرائی۔اگر یہ رْوح کی سیر یا خواب کا واقعہ ہوتا تو کوئی شخص بھی اِنکار نہ کرتا دعویٰ بیداری کی حالت میں سیر کرانے کا ہے اِسلئے عظمت رَبِّ ذْوالجلال والاکرام اور مقام مصطفی ؐسے بے خبر لوگوں نے جھگڑا کھڑا کر دیا اور کچھ سادہ لوگ بھی بہک گئے ایک طرف بے خبر لوگوں کی جماعت تھی جو اس عظیم سفر کا اِنکار کررہی تھی اور دوسری طرف ابو بکر صدیقؓ جیسی اَنبیاء و رسل ؐ کے بعد انسانوں میں عظیم ہستی تھی جو اِس عالی شان واقعہ کی تصدیق کر کے ’’صدیق‘‘ ہونے کا لا زوال اِعزاز حاصل کر رہی تھی مزید برآں اْن کی طرف سے یہ اِعلان ہو رہا تھا کہ میں اپنے پیارے آقا ورہنما کی اِس سے بڑی باتوں کی بھی تصدیق کرتا ہوں واقعہ معراج کو سچا ماننے والوں کے قائد حضرت ابو بکر صدیقؓ اور دیگر صحابہ کرامؓ ہیں اور اِس کا اِنکار کرنے والوں کا امام‘ ابو جہل اور اْس کے ساتھی ہیں۔واقعہ اسریٰ کا’’سب سے بڑا‘‘ بیان فرمانے والا خود ربِّ ذوالجلال ہے اور واقعہ اسریٰ کو بیان کرنے سے پہلے سبحان الذی‘‘فرمایا گیا ہے جب خود اللہ ربّْ العزت ’’سبحان الذی‘‘ فر ما رہا ہے تو اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے ہر وہ شخص جو واقعہ معراج بیان کرے پہلے ’’سبحان اللہ‘‘کہہ لے اور سننے والے بھی سبحان اللہ کہیں لکھنے والے بھی سبحان اللہ لکھیں تا کہ سنت الٰہیہ پر عمل ہو جائے۔اِس دنیا کا نظام دیکھئے کہ اگر باپ سفر کرتا ہے تو سفر نامہ اْس کے ساتھ سفر کرنے والا بیٹا بیان کرتا ہے اْستاد سفر کرتا ہے تو شاگرد سفر نامہ بیان کرتا ہے بادشاہ سفر کرتا ہے تو وزیر سفر نامہ بیان کرتا ہے وزیراعظم سفر کرتا ہے تو اخبار نویس سفر نامہ بیان کرتا ہے پیر ومرشد اور شیخِ کامل سفر کرتا ہے تو مریدِ صادق سفر نامہ بیان کرتا ہے لیکن یہاں جب نبی آخر الزماں حضرت محمدؐکے سفر کا معاملہ آتا ہے تو سفر خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیؐ کرتے ہیں اور سفر نامہ رب العالمین بیان فرماتا ہے اور عظیم سفر کا بیان بھی اْس کتابِ عظیم میں ہوتا ہے جس کی دوسری سورۃکے شروع میں یہ بتا دیا گیا کہ ’’یہ وہ کتاب ہے جس میں شک کی جگہ نہیں ہے‘‘۔ معراج شریف کا واقعہ عظیم الشان معجزہ ہے۔ اِس سفر عظیم میں نبی کریم ؐنے بڑے بڑے واقعات ملاحظہ فرمائے جو ہمارے لئے اِیمان اَفروز اور عبرتناک ہیں۔ اِن واقعات کا تعلق ہماری روزمرہ زندگی سے ہے۔
حضرت انس بن مالکؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ ؐبراق پر روانہ ہوئے۔ ایک جگہ حضرت جبرائیل ؑ نے عرض کیا کہ اْتر کر نماز پڑھئے۔ آپؐ فرماتے ہیں میں نے نماز پڑھی پھر جب جبرائیل ؑ نے عرض کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ ؐنے کہاں نماز پڑھی (پھر خود ہی عرض کیا) یہ مقام طیّبہ ہے جہاں آپؐ ؐہجرت کر کے تشریف لائیں گے۔ پھر روانہ ہوئے‘ ایک مقام پر آ کر پھر عرض کیا کہ اْتر کر نماز پڑھ لیجئے اور عرض کیا یہ طورِ سینا ہے جہاں حضرت موسیٰؑ نے تبارک و تعالیٰ سے کلام فرمایا تھا۔ پھر روانہ ہوئے اور تھوڑی ہی دیر بعد عرض کیا۔اْتریئے اور نماز پڑھئے اور عرض کیا یہ بیت اللحم ہے جہاں حضرت عیسیٰ ؑ پیدا ہوئے۔ (مواہب الرحمن جلد۵ ص۱۱)
معلوم ہوا مقدس مقامات اور انبیاء کرامؓ کے مقاماتِ ولادت پر نماز پڑھنا سْنّت امام الانبیاءؓ ہے۔حضرت انسؓ ہی فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ؐنے فرمایا کہ معراج کی رات جب میں (حضرت) موسیٰ ؑ کی قبر اَنور سے گزرا تو میں نے اْنہیں قبر میں نماز پڑھتے پایا۔ (ابن کثیر جلد۳ ص۷‘ ابوداؤدد شریف)
معلوم ہوا انبیاء اپنی قبور میں جو جنت کے باغوں سے بہترین وسیع وعریض باغ ہیں میں زندہ ہیں اور نمازیں پڑھتے ہیں۔
واقعہ معراج احادیث کی روشنی میں
جب براق کو پسینہ آگیا
حضرت ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا’’ جس رات مجھے بیت المقدس لیجایا گیا تو میرے سامنے دو پیالے لائے گئے‘ایک دودھ کا اور دوسرا شراب کا‘میں نے دونوں کو دیکھا پھر دودھ کا پیالہ لے لیا۔اس وقت جبرائیلؑ نے کہا اللہ کا شکر ہے جس نے آپؐ کوفطری راستے(یعنی اسلام) کی طرف رہنمائی کی۔‘‘ حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ معراج کی رات نبی اکرمؐ کے پاس براق لایا گیا جسے لگام دی گئی اور اس پر کاٹھی ڈالی گئی۔ اس نے شوخی کی تو جبرائیلؑ نے کہا’’ محمد ﷺ سے شوخی کرتے ہو‘ حالانکہ اللہ کے ہاں ان سے زیادہ بزرگ کوئی نہیں جو تم پر سوار ہو۔‘‘ یہ سنتے ہی براق کا پسینہ ٹپکنے لگا۔(ترمذی)حضرت بریدہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریمؐ نے ارشاد فرمایا ’’معراج کی رات میں جب بیت المقدس پہنچا تو جبرائیلؑ نے اپنی اُنگلی سے اشارہ کر کے ایک ستون کو چیرا اور اس سے براق کو باندھ دیا۔‘‘
جنت میں موتیوں کی گنبد
نبی پاکؐ کا ارشاد ہے’’ معراج کی رات جبرائیل ؑ مجھے لیکر چلے تو ہم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے۔ اُسے کئی طرح کے رنگوں سے ڈھانپا گیا تھا۔ پھر وہ مجھے جنت میں لے گئے‘وہاں کیا دیکھتا ہوں کہ گنبد تو موتیوں کے ہیں اور اس کی مٹی کستوری کی ہے۔‘‘(بخاری)
واقعہ معراج کی حکمت
معراج کا فائدہ بیان فرماتے ہوئے جو سب سے مختصر اور عظیم بات کہی گئی‘وہ یہ ہے’’ تا کہ ہم(اللہ تعالیٰ) آپ ؐکو اپنی نشانیاں دکھلائیں۔‘‘پھر ان نشانیوں کے دکھلانے کا جو مقصود تھا‘ اُسے بھی اللہ تعالیٰ اپنے ارشاد’’ تا کہ وہ یقین کرنیوالوں میں سے ہو‘‘ کے ذریعہ واضح فرمادیا۔چنانچہ جب انبیا کرامؑ کے علوم کو اسطرح کے مشاہدات کی سند حاصل ہوتی تھی تو انہیں عین الیقین کا مقام حاصل ہوجاتا تھا جس کا اندازہ لگانا ممکن نہیں۔
انوار قرآن
اہل جہنم پر درد ناک عذاب
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’بے شک زقوم کا درخت بڑے مجرم کا کھانا ہوگا، جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا، وہ پیٹ میں تیز گرم پانی کی طرح کھولتا ہوگا(کہا جائے گا ) اس گنہگار کو پکڑلو اور گھسیٹتے ہوئے دوزخ کے بیچ میں لے جاؤ، پھر اس کے سر پر تکلیف دینے والا کھولتا ہوا پانی ڈالو (پھر کہا جائے گا ) عذاب کا مزہ چک ! تو اپنے آپ کو بڑی عزت و شان والا سمجھتا تھا، یہی وہ عذاب ہے جس کے بارے میں تم شک کیا کرتے تھے‘‘۔
گنہگار کی اطلاع
قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’ائے ایمان والو! اگر کوئی گنہگار تمہارے پاس کوئی خبر لیکر آئے تو اس کی تحقیق کرلیا کرو۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی قوم کو اپنی لاعلمی سے کوئی نقصان پہنچادوپھر تم کو اپنے کئے پر پچھتانا پڑے‘‘۔
انوار حدیث
پانچوں نمازیں ادا کرنے پر بشارت
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’’میں نے آپ کی امت پر پانچ نمازیں فرض کی ہیں اور اس بات کا عہد کرلیا ہے کہ جو شخص ان(پانچوں نمازوں) کو وقت پر پابندی سے ادا کرے گا ، تو میں اس کو جنت میں داخل کردوں گا اور جو اسے پابندی سے ادا نہیں کرے گا ، تو اس کیلئے میرے پاس کوئی عہد نہیں ہے‘‘۔
دروازے پر سلام کرنا
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی کے گھر کے دروازہ پر آتے ، تو بالکل سامنے کھڑے نہ ہوتے ، بلکہ دائیں طرف یا بائیں طرف تشریف فرما ہوتے اور ’’السلام علیکم ‘‘ فرماتے۔

Comments

comments