Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » اسلامیات » سزا کے مثالی واقعات کا مشاہدہ
سزا کے مثالی واقعات کا مشاہدہ

سزا کے مثالی واقعات کا مشاہدہ

’’حضرت انسؓ سے روایت ہے کہ ایک روز رسول اللہؐ نے ہمیں نماز پڑھائی پھر منبر پر چڑھ کر مسجد کے قبلہ کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا میں نے ابھی تمہیں نماز پڑھاتے ہوئے اس دیوار کے آگے جنت اور دوزخ کو ایک خاص شکل وصورت میں دیکھا اور میں نے جنت سے زیادہ اچھی اور جہنم سے زیادہ بری چیز آج تک نہیں دیکھی۔‘‘ (رواہ البخاری)
اس روایت میں آپ ؐنے جنت اور جہنم کو مثالی شکل میں دیکھا لیکن بہت سی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ؐکو معراج کے موقع پر اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے بہت سے عجائبات دکھلائے ان باتوں کو عموماً واقعات کے انداز میں پیش کیاجاتا ہے لیکن واقعہ معراج کا ایک اہم پہلو ایسا بھی ہے جو یقیناًسامان عبرت ہے۔ جسمیں آپ ؐنے سزاؤں کے مثالی واقعات دیکھے ہیں حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ؒ نے اپنی سیرت کی معتبر ترین کتاب ’’ نشر الطیب فی ذکر النبی الحبیب‘‘ میں بارھویں فصل ’’ تنویر السراج فی لیلۃ المعراج‘‘ میں واقعہ ششم کے عنوان کے تحت اس واقعہ برزخ کاذکر فرمایا ۔
نماز میں سستی کرنے والے:آپؐ کا گذر ایسی قوم پر ہوا جن کے سر پتھروں سے کچلے جارہے تھے ، پتھر سر پر پڑتے ہی قیمہ قیمہ ہوجاتا پھر صحیح وسالم ہوجاتا ، پھر پتھروں سے کچلا جاتا آپ ؐنے جبرئیل ؑ سے دریافت کیا یہ کون لوگ ہیں جبرئیل ؑ نے بتایا یہ وہ لوگ ہیں جو فرض نمازوں میں سستی کرتے تھے اذان کی آواز سن کر اپنے سر تکیہ پر رکھے ہوئے آرام کی نیند سوتے رہتے تھے حق تعالیٰ ان کے سروں کو فرشتوں کے ذریعہ عذاب دلارہے ہیں۔
زکواۃ ادا نہ کرنے والے:اس کے بعد آپؐ کا گذر ایسے لوگوں کے قریب سے ہوا جو اپنے سر پر چیتھڑے لپیٹے ہوئے جانوروں کی طرح چررہے ہیں اور زقوم اور جہنم کے پتر کھارہے ہیں۔ آپ ؐنے جبرئیل سے پوچھا یہ کون لوگ ہیں انہوں نے بتایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے مال کی زکوٰۃ ادا نہیں کرتے تھے۔
پاکیزہ زندگی سے روگردانی کرنے والے: پھر آپؐ کا گذر ایسے لوگوں پر ہوا جن کے سامنے ایک ہانڈی میں پکا ہوا پاکیزہ ، اور دوسری میں کچا اور سڑا ہو گوشت رکھا ہوا ہے اور وہ اسی کچے اور سڑے ہوئے گوشت کو رغبت سے کھارہے ہیں آپ ؐنے دریافت فرمایا یہ کون لوگ ہیں جبرئیل ؑ نے جواب دیا یا نبی اللہ‘یہ آپؐ کی اُمت کے ان لوگوں کی مثالی شکل ہے جوا پنی حلال و طیب بیوی کو چھوڑ کر غیر منکوحہ عورت سے اپنی خواہش پوری کرتے ہیں۔
امانت میں خیانت کرنے والا:پھر آپؐ کا گزر ایسے شخص کے قریب سے ہوا جس نے لکڑیوں کا ایک بڑا گٹھا باندھا ہوا ہے اور اسے اٹھا کر سر پر رکھنا چاہتا ہے لیکن وہ اس سے نہیں اٹھتا، لیکن پھر بھی وہ اور لکڑیاں لاکر اس گٹھے میں رکھتا جاتا ہے (وزن کم کرنے کے بجائے اور بڑھاتا جارہاہے) آپؐ نے دریافت فرمایا یہ بوجھ اٹھانے والا کون ہے جبرئیل ؑ نے جواب دیا یہ ایسا شخص ہے جو لوگوں کو امانتیں اپنے پاس رکھ کر ان میں خیانت کرتا ہے اور پہلے لوگوں کی امانتیں ادا کرنے کے بجائے اور دوسرے لوگوں کی امانتیں رکھتا جاتا ہے۔
حلال چھوڑ کر حرام کھانے والے: آپ ؐنے دیکھا ایک گروہ کے سامنے دسترخوان پر حلال اور پاکیزہ گوشت رکھا ہوا ہے او ر دوسرے دسترخوان پر سڑا ہوا گوشت رکھا ہے وہ لوگ حلال گوشت چھوڑ کر حرام اور سڑا ہوا گوشت کھارہے ہیں۔ پوچھنے پر بتایاگیا کہ یہ ان لوگوں کی مثالی حالت ہے جو حلال روزی کو چھوڑ کر حرام روزی اختیار کرتے ہیں۔
سود خور: پھرآپؐ ایسے لوگوں کے پاس سے گزرے کہ انکے پیٹ کوٹھڑیوں کی طرح بڑے بڑے اورشیشہ کی طرح صاف وشفاف ہیں کہ انکے اندر سانپ‘ بچھو صاف نظر آتے ہیں ۔جب ان میں سے کوئی اٹھنا چاہتا ہے تو بھاری ہونے کی وجہ سے گر پڑتا ہے بتایا گیا کہ یہ سود کھانے والوں کی مثال ہے ۔
بے سوچے سمجھے باتیں کرنے والے:ایک جگہ سے گزرہواوہاں ایک چھوٹے سے پتھر سے ایک بڑا بیل پیدا ہوتا ہے۔ پھر بیل واپس پتھر کے اندر جانا چاہتا ہے لیکن کوشش کے باوجود اندر نہیں جاسکتا۔ بتایا گیا یہ ان لوگوں کی مثالی کیفیت ہے جو بغیر سوچے سمجھے غیر ذمہ دارانہ بات منہ سے نکال دیتے ہیں اور جب خراب نتیجہ دیکھتے ہیں تو اپنی بات اور الفاظ واپس لینا چاہتے ہیں۔
غیبت کرنے والے:آپؐ نے فرمایا میں اس سفر میں ایسے لوگوں کے پاس سے گزرا جن کے ناخن تانبے کے تھے وہ ان سے اپنا منہ نوچتے تھے بتایا گیاکہ یہ غیبت کرنے والے ہیں جو لوگوں کی آبروسے کھیلتے تھے۔
گمراہی میں ڈالنے والے واعظ: آپؐ کا گزر ایسی قوم پر ہوا جن کے ہونٹ اور زبانیں آگ کی قینچی سے کاٹی جارہی تھیں کٹنے کے بعد پھر پہلی حالت پر واپس آجاتیں اور یہ سلسلہ چلتا رہا‘ بتایا گیا کہ یہ لوگوں کو گمراہی میں ڈالنے والے واعظ ہیں۔
جھوٹی گواہی دینے والے:آپ ؐنے ایسے لوگوں کو دیکھا جن کے چہرے خنزیر جیسے تھے اور ان کی زبانیں پشت پر کھنچی ہوئی تھیں اور بڑے عذاب میں مبتلا تھے جبرئیل نے بتایا کہ یہ جھوٹی گواہی دینے والے ہیں۔ نافرمان اولاد:ایک جگہ آپؐ نے دیکھا کہ ایک گروہ آگ میں جل رہا ہے ادھر جل کر راکھ ہوئے اور ادھر پھر پہلے کی طرح ہوگئے پھر جلنے لگے، جبرئیل نے بتایا کہ یہ وہ بدقسمت لوگ ہیں جو دنیا میں اپنے والدین کی نافرمانی کرتے اور ستاتے تھے جس کی وجہ سے وہ غصہ میں جلا کر تے تھے اب یہ لوگ اس سزا میں خود جل رہے ہیں۔
اللہ رب العزت ہمیں ان تمام گناہوں سے محفوظ فرمائے اور اگر ایسے گناہ سرزد ہوگئے ہوں تو ان سے توبہ کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین
شب معراج کی عبادات
آقا ئے نامدار حضرت محمد ؐکاارشادپاک ہے کہ بے شک رجب عظمت والامہینہ ہے اس میں نیکیوں کاثواب دگنا ہوتا ہے جوشخص رجب کاایک دن کاروزہ رکھے گاتوگویا اس نے سال بھرکے روزے رکھے۔ستائیسویں رجب المرجب کے روزے کی بڑی فضیلت ہے حضرت سلمان فارسیؓ سے روایت ہے کہ سرکارمدینہ راحت قلب وسینہ حضرت محمدؐ نے ارشاد فرمایا رجب میں ایک دن اوررات ہے جواس دن کاروزہ رکھے اوروہ رات نوافل میں گزارے یہ سوبرس کے روزوں کے برابر ہواوروہ 27ویں رجب ہے اسی تاریخ کواللہ پاک نے محمد ؐکو مبعوث فرمایا۔(شعب الایمان)حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضوراکرم ؐنے ارشادفرمایا کہ جوشخص ستائیسویں رجب کوروزہ رکھے گااللہ تعالیٰ اس کیلئے ساٹھ مہینوں کے روزوں کاثواب لکھ دے گا۔اس کی وجہ فضیلت یہ ہے کہ اس دن حضرت جبرائیل ؑ پہلی وحی لیکرحضوراکرمؐ کی خدمت اقدس میں تشریف فرماہوئے اسی ماہ میں حضوؐرکومعراج کی فضیلت سے سرفرازفرمایاگیا۔حضوراکرم نورمجسم صلعم نے ارشادفرمایاکہ ’’رجب اللہ تعالیٰ کامہینہ ہے جس نے رجب کاایک روزہ رکھااس نے اپنے لئے اللہ تعالیٰ کی رضاکوواجب کرلیا۔ (مکاشفۃ القلوب)حضرت سیدناسلمان فارسیؓ سے مروی ہے اللہ کے محبوب دانائے غیوب حضرت محمدمصطفی کافرمان ذیشان ہے رجب میں ایک دن اوررات ہے جو اس دن روزہ رکھے اوررات کوقیام (عبادت)کرے توگویااس نے سوسال کے روزہ رکھے اوریہ رجب کی ستائیسویں تاریخ ہے اسی دن محمد صلعم کواللہ پاک نے مبعوث فرمایا۔(شعب الایمان)سرکار علیہ الصلوٰۃ والسّلام ؐنے ارشاد فرمایا ’’رجب شریف ایک عظیم الشان مہینہ ہے اس میں اللہ تعالیٰ نیکیوں کودگناکرتاہے جوآدمی رجب المرجب کے ایک دن کا روزہ رکھتاہے گویاکہ اس نے سال بھرکے روزے رکھے اورجوشخص رجب المرجب کے سات دن روزہ رکھے تواس پردوزخ کے سات دروازے بندکئے جائیں گے جواسکے آٹھ دن کے روزے رکھے تواس کیلئے جنت کے آٹھ دروازے کھل جائیں گے اورجوآدمی رجب المرجب کے دس دن روزے رکھے اللہ تعالیٰ سے جس چیزکا سوال کریگاوہ اُسے دیگااورجورجب کے پندرہ دن روزہ رکھے توآسمان سے ایک منادی پکارے گاکہ تیرے گزشتہ گناہ معاف ہو گئے پس نئے سرے سے عمل کر اورجو آدمی زیادہ روزے رکھے گااسے اللہ کریم زیادہ دیگا۔(ماثبت من السنۃ )
حضرت انسؓ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ؐنے ارشادفرمایاکہ رجب کی ستائیسویں رات میں عبادت کرنے والوں کو100سال کی عبادت کاثواب ملتا ہے۔جوشخص ستائیسویں رجب المرجب کی رات بارہ رکعت نمازاس طرح پڑھے کہ ہررکعت میں سورۃ فاتحہ پڑھ کرقرآن کریم کی کوئی سورۃ پڑھے اوردورکعت پر تشہد (التحیات للّٰہ ) آخرتک پڑھ کر (بعددرود)سلام پھیرے اوربارہ کعت پڑھنے کے بعد 100 مرتبہ یہ تسبیح پڑھے سْبحَانَ اللّٰہِ وَالحَمدْلِلَّہِ وَلَا اِلٰہَ اِلَّااللّٰہْ وَاللّٰہْ اَکبَرْ پھر100 مرتبہ اَستَغفِرْاللّٰہَ اور100مرتبہ درودشریف پڑھے تو دُنیا و آخرت کے امورکے متعلق جوچاہے دعاکرے اورصبح میں روزہ رکھے تویقینااللہ تعالیٰ اسکی تمام دعائیں قبول فرمائے گامگریہ کہ وہ کوئی ایسی دعانہ کرے جوگناہ میں شمارہوتی ہوکیونکہ ایسی دعاقبول نہ ہوگی۔(شعب الایمان،احیاء العلوم صفحہ 372 جلد1)حضرت عبداللہ بن عباسؓ کامعمول تھاکہ رجب کی ستائیسویں کواعتکاف کی حالت میں صبح کرتے تھے اور ظہر کے وقت تک نمازپڑھتے رہتے تھے اورظہرپڑھنے کے بعد تھوڑی دیرتک نفل پڑھاکرتے تھے اس کے بعدچاررکعت نما ز پڑھتے اورہرایک رکعت میں ایک دفعہ الحمدشریف اورایک دفعہ معوذتین ‘ تین دفعہ سورۃ القدراورپچاس مرتبہ سورۃ الا خلاص پڑھتے تھے اورکہاکرتے تھے کہ سرورکونینؐ کایہی معمول تھا۔
واقعہ معراج کی اہم باتیں
بیت المقدس میں تما م سابقہ انبیاؑ کا جمع ہونا اور جبرائیل ؑ کا آپ ؐ کو امامت کیلئے آگے بڑھانا اور آپؐ کا امامت کرانا جس سے آپؐ کی تمام انبیاؑ پر فضیلت ثابت ہوتی ہے۔مختلف آسمانوں پر بعض رسولوں سے آپؐ کی ملاقات کا ہونا۔ دن میں پانچ نمازوں کی فرضیت یا معراج کا تحفہ جس کے بعد پنچ وقتہ نماز ادا کی جانے لگی۔ ساتوں آسمانوں سے اوپر سدرۃ المنتہیٰ کی سیاحت اور اللہ تعالیٰ کے عجائبات کا مشاہدہ‘ جنت اور دوزخ کا مشاہدہ اور بعض جرائم کی سزاؤں کا مشاہدہ وغیرہ۔ آپؐ کو سدرۃ المنتہیٰ تک لیجایا گیا جو ساتویں آسمان پر واقع ہے۔ فرشتے بھی اس مقام سے آگے نہیں جاسکتے۔پھر آپؐ کیلئے بیت المعمور کو ظاہر کیا گیا۔پھر اللہ کے دربار میں پہنچایا گیا اور آپؐ اللہ کے اتنے قریب ہوئے کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔ اب قیم نے اس بارے میں اختلاف کا ذکر کیا ہے کہ نبیؐ نے اپنے رب کو دیکھا یا نہیں؟ پھر امام بن تیمیہ کی ایک تحقیق کا ذکر کیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنکھ سے دیکھنے کا سرے سے کوئی ثبوت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی صحابیؓ اس کے قائل ہیں۔ مگر سورۂ نجم میں اللہ تعالیٰ کا جو یہ ارشاد ہے۔’’پھر وہ نزدیک آیا اور قریب تر ہوگیا۔‘‘تو یہ اس قربت کے علاوہ ہے جو معراج کے موقع پر حاصل ہوئی تھی۔سورۂ نجم میں جس قربت کا ذکر ہے‘اس سے مراد حضرت جبرائیل ؑ تھے۔ انہیں محمد ﷺنے ان کی اپنی اور اصل شکل میں دو مرتبہ دیکھا تھا۔ ایک مرتبہ زمین پر اور دوسری مرتبہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس۔
نور جبینِ کائنات
آدمیت جس پہ خود نازاں ہے ایسا شاہکار
ریگزارِ زندگی میں جلوہ صبحِ بہار
جس نے روشن کردیئے آیاتِ قرآں کے چراغ
روح جاگی‘قلب مہکے‘جگمگا اُٹھے دماغ
روشنیوں کا صحیفہ‘لالہ وگُل کی کتاب
جس کا اک اک لفظ تقدسِ عمل کا آفتاب
معدلت کی اولیں تحریر‘تنویر حیات
جس کو دُنیا نے کہا نورِ جبینِ کائنات
وقت کی تاریخ کی راہوں میں جس کے نقش پا
تا ابد دیتے رہیں گے حق پرستی کو صدا
ابر رحمت بن کے آیا تو بُجھی صدیوں کی پیاس
جس نے پہنایا ہر اک تہذیبِ عریاں کو لباس
صبح بن کر چھا گیا راتوں پہ جس کا ہر پیام
ہر اذان کے ساتھ اب بھی گونجتا ہے جس کا نام
احمدِ مرسل‘محمد مصطفےٰ‘حق کا رسولؐ
تا ابد جس کی مہک رہے وہ ایک پُھول
وقارِؔ خلیل مرحومؒ
سفر معراج کی سواریاں
امام علائی نے اپنی تفسیر میں تحریر فرمایا ہے کہ معراج میں حضورؐ نے پانچ قسم کی سواریوں پر سفر فرمایا مکہ سے بیت المقدس تک براق پر، بیت المقدس سے آسمان اول تک نور کی سیڑھیوں پر، آسمان اول سے ساتویں آسمان تک فرشتوں کے بازؤں پر‘ ساتویں آسمان سے سدرۃ المنتہیٰ تک حضرت جبریلؑ کے بازو پر‘ سدرۃ المنتہیٰ سے مقام قاب قوسین تک رف رف پر۔
سفر معراج کی منزلیں
بیت المقدس سے مقام قاب قوسین تک پہنچنے میں آپؐ نے دس منزلوں پر قیام فرمایا اور ہر منزل پر کچھ گفتگو ہوئی اور بہت سی خداوندی نشانیوں کو ملاحظہ فرمایا۔
(1) آسمان اول (2) دوسرا آسمان (3) تیسرا آسمان (4) چوتھا آسمان (5)پانچواں آسمان (6) چھٹا آسمان (7) ساتواں آسمان (8) سدرۃ المنتہیٰ (9) مقام مستویٰ جہاں آپ نے قلم قدرت کے چلنے کی آوازیں سنیں (10) عرش اعظم

Comments

comments