Tuesday , 24 April 2018
بریکنگ نیوز
Home » اسلامیات » حکایت سعدی رحمتہ االلہ علیہ دوست کے گھرچوری
حکایت سعدی رحمتہ االلہ علیہ دوست کے گھرچوری

حکایت سعدی رحمتہ االلہ علیہ دوست کے گھرچوری

ایک درویش تنگ دستی میں مبتلا ہوا تو اس نے اپنے ایک دوست کے گھر سے کمبل چرالیا اُسے فروخت کر کے اپنی ضرورت پوری کر لی۔ لیکن اس کا یہ گناہ ظاہر ہوگیا۔ اُسے گرفتار کر لیا گیا اور قاضی نے مقدمہ کی کاروائی مکمل کرنے کے بعداسلامی شریعت کے مطابق اُس کا ہاتھ کاٹ ڈالنے کی سزا سنائی۔جس شخص کاکمبل چرایا گیا تھا جب اُسے پتہ چلا کہ میرے دوست کا ہاتھ کاٹاجائیگاتو وہ قاضی کی عدالت میں حاضر ہوااور سفارش کی کہ قاضی صاحب مہربانی کرکے اُسے سزا نہ دیجئے۔ اُس نے میرا کمبل چرایا تھا۔ میں اُسے معاف کرتا ہوں۔
قاضی نے جواب دیا تیرے معاف کردینے سے بھی یہ شخص سزا سے بچ نہ سکے گا۔ کیونکہ چور کو سزا دینا اسلامی شریعت کا منشا ہے۔ اُس شخص نے کہا یہ ٹھیک ہے کہ اسلامی شریعت میں چوری کی سزا ہاتھ کاٹنا ہے لیکن اگر چوری کیاجانے والا مال وقف ہوتو پھر یہ سزا نہیں دی جاسکتی ‘ ہم جیسے درویشوں کا مال وقف ہوتا ہے۔ ہم اپنی کسی چیز کو بھی اپنی ملکیت نہیں سمجھتے۔
رحم وکرم خدائی صفات ہیں ‘ خدا اُن لوگوں سے بہت خوش ہوتا ہے جوان صفات کو اپناتے ہیں۔ عقلی طور پر بھی یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ اگر انسان کسی کے ساتھ اچھا سلوک کرے تو غیرارادی طور پر اس کے دل میں اس کیلئے عزت اور محبت کے جذبات پیدا ہوتے ہیں اور اگر پہلے کی قسم کے خصومت ہو تو وہ سرد پڑ جاتی ہے۔ اس کے مقابلے میں سخت گیری اور دشمنی دوستوں کو بھی دشمن بنادیتی ہے۔ پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ ایسی نیکی بہت بڑے پیمانے پرکی جائے ادنیٰ سی نیکی بھی انسان کی عاقبت سنوار دیتی ہے۔
نیکی کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہوتا
حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام ا س وقت کھانا نہ کھاتے تھے جب تک ان کے ساتھ کھانے میں کوئی مہمان شامل نہ ہوتا۔ ایک مرتبہ ایسا ہوا کہ ایک ہفتے تک کوئی مہمان آپ علیہ السلام کے گھر نہ آیا آپ علیہ السلام مہمان کی تلاش میں خود بھی کئی مرتبہ گھر سے باہر تشریف لے گئے تا کہ اگر کوئی مسافر بھی مل جائے تو اُسے اپنے گھر لے آئیں اور کھانے میں شریک کریں۔ ایک ہفتے کے اس فاقے نے آپ علیہ السلام کو بھی بے حد کمزور کرد یا تھا۔ بالآخر آپ علیہ السلام کو ایک ہفتے کے بعد ایک بیمار اور کمزور بوڑھا شخص مل گیا جو بھوک سے بے حال تھا۔ آپ علیہ السلام نے اُسے کھانے کی دعوت دی تو وہ آپ علیہ السلام کے ساتھ بخوشی گھر چلا آیا۔ آپ علیہ السلام نے اُسے نہایت عزت واحترام کے ساتھ دسترخوان پر بٹھایا اور اُس کے آگے کھانا رکھا۔
جب کھاناشروع ہوا تو حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حسب معمول بسم اللہ شریف پڑھی اور کھانا شروع کیا جبکہ اس بوڑھے نے بسم اللہ نہ پڑھی۔ آپ علیہ السلام نے حیرانگی سے اس بوڑھے سے دریافت کیا کہ تم نے کھانا شروع کرنے سے قبل بسم اللہ کیوں نہ پڑھی ؟ اس نے کہا کہ میں مسلمان نہیں بلکہ آتش پرست ہوں۔ آپ علیہ السلام نے جب اس بوڑھے کا جواب سنا تو اُسے دسترخوان سے اُٹھادیا اور دل میں افسوس کرنے لگے کہ میں نے ایک غیر مسلم کو اپنے دسترخوان پر بٹھایا اور اپنا مہمان بنایا۔
اللہ عزوجل نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی جانب وحی نازل کی اور فرمایا کہ اے خلیل (علیہ السلام ) ہم جانتے ہیں کہ یہ ہماری بجائے آگ کو اپنا رب جانتا ہے اور اسی کے آگے سر جھکاتا ہے لیکن ہم اس کے باوجود اُسے سوسال سے رزق پہنچارہے ہیں۔ تو اس کی بات سن کر اسے ایک وقت کا کھانا بھی نہ کھلا سکا اور اُسے اپنے دستر خوان سے اُٹھا دیا۔
حضرت شیخ سعدی رحمتہ اللہ اس حکایت میں بیان کررہے ہیں کہ نیکی کا تعلق کسی مذہب سے نہیں ہوتا نہ ہی نیکی کسی کا رنگ ونسل دیکھ کر کی جاتی ہے۔ نیک کام کا صلہ اللہ عزوجل کی جانب سے ہے اور اللہ عزوجل جسے چاہے نیک کام کرنے کی توفیق عطا فرماتا ہے۔ پس کسی کے مذہب ‘ رنگ اور نسل کو دیکھ کر نیکی کو ہرگز نہ چھوڑو۔

Comments

comments