Tuesday , 22 May 2018
بریکنگ نیوز
Home » دیگر » ٹیکنالوجی » الکٹرانک کچرا بھی ماحول کیلئے خطرناک
الکٹرانک کچرا بھی ماحول کیلئے خطرناک

الکٹرانک کچرا بھی ماحول کیلئے خطرناک

ہمارے ملک میں کروڑوں افراد ہیں جو اسمارٹ فونس‘ٹیبلٹس‘لیب ٹاپ اور دوسرے الکٹرانک آلات کا استعمال کرتے ہیں۔ایسے لوگوں کی تعداد بھی کم نہیں ہے جو ان الکٹرانک اشیاء کو ہر چند دن‘مہینوں یا کم سے کم سال میں بدل لیتے ہیں ایشیاء اور یورپ کے مختلف ممالک میں بھی الکٹرانک اشیاء کے استعمال میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے۔ اس کے نتیجہ میں الکٹرانک کچرے میں بھی تیزی سے اضافہ ہورہا ہے جو ماحولیات پر غلط اثرات مرتب کررہا ہے۔ یہ کچرا انسانی صحت کیلئے مضر ثابت ہورہا ہے۔ اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق گزشتہ5برسوں کے دوران ایشیاء میں الکٹرانک کچرے میں63فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اس رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایشیائی ممالک نے اگر کچرے سے چھٹکارا پانے کیلئے ری سائیکلنگ اور ڈسپوزل کے جدید طریقوں کو اختیار نہیں کیا تو الکٹرانک آلودگی سے نئی بیماریاں پیدا ہوسکتی ہیں۔ اقوام متحدہ کی اس رپورٹ کو تیار کرنیوالے روڈ ریگر کانر کا کہنا ہے کہ بہت سے ممالک میں اس کچرے سے نمٹنے کی سہولتوں کا فقدان ہے ایسے میں اس میں اضافہ تشویش کا باعث ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے چین اور کئی دوسرے ترقی پذیر ممالک نے الکٹرانک کچرے کو خرید کر ان کی ری سائیکلنگ کا کام شروع کیا ہے۔ یعنی اس کچرے سے کار آمد اشیاء اور آلات کو نکال کر باقی ڈھانچہ کو پھینک دیا جاتا ہے۔ ایسی فیکٹریوں میں جہاں ری سائیکلنگ کا کام ہوتا ہے وہاں حفاظتی انتظامات نہیں ہیں۔ ان فیاکٹریوں میں غیر کارآمد الکٹرانک کچرے کو کھلے میدان میں رکھ کر آگ لگا دی جاتی ہے۔ اس سے بد ترین فضائی آلودگی پیدا ہورہی ہے۔ اس سے نہ صرف فضا بلکہ پانی بھی متاثر ہورہا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اب ان ممالک میں الکٹرانک اشیاء کا استعمال بہت بڑھ گیا ہے جس کی وجہ سے یہ کچرا بھی بہت بڑھ گیا ہے۔ چین سب سے زیادہ الکٹرانک کچرا پیدا کرنیوالا ملک ہے جبکہ ہانگ کانگ اس میں سر فہرست ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق ہانگ کانگ کا ہر فرد تقریباً22کیلو گرام الکٹرانک کچرا پھینکتا ہے۔ سنگا پور اور تائیوان بھی اس فہرست میں شامل ہیں۔ کمبوڈیا‘ویتنام‘ فلپائن نسبتاً کم کچرا پیدا کرنیوالے ممالک ہیں۔ رپورٹ کے مطابق چند ممالک غیر قانونی طریقے سے اس کچرے کو زمین میں دفن کررہے ہیں اس سے بھی ماحول خراب ہورہا ہے۔جن علاقوں کی زمین الکٹرانک کچرے کو دبایا جارہا ہے وہاں بچوں کے خون میں لیڈ(سیسہ) کی مقدار زیادہ پائی گئی ہے اور وہ بیماریوں کا شکار ہورہے ہیں۔ہندوستان میں بنگلور کے قریب الکٹرانک ویسٹ مینجمنٹ کارخانہ قائم کیا گیا ہے یہ12ایکڑ پر ہے 50کروڑ کی لاگت سے قائم اس کارخانہ میں 100 افراد کام کررہے ہیں۔

Comments

comments