Tuesday , 24 April 2018
بریکنگ نیوز
Home » بزنس » خانگی بینکوں کی جانب سے چارجس کی وصولی
خانگی بینکوں کی جانب سے چارجس کی وصولی

خانگی بینکوں کی جانب سے چارجس کی وصولی

وزیر اعظم نریندرمودی کی زیر قیادت بی جے پی حکومت نے نقدی کے بغیر لین دین کو فروغ دینے کیلئے کئی ترغیبات کا اعلان کرتے ہوئے ڈیجٹیل لین دین کو لازمی کردیا ہے لیکن اب خانگی بینکوں کی جانب سے حکومت کے تیقنات کے مغائر نقد یا ڈیجٹیل دونوں طرح کے لین دین پر چارجس وصول کئے جارہے ہیں۔ بینکوں کی جانب سے اپنی شاخوں پر4سے زیادہ لین دین کرنے پر فیس عائد کردی جارہی ہے اس عمل کو کنفیڈریشن آف آل انڈیا ٹریڈرس نے معاشی دہشت گردی قرار دیا ہے۔ آئی سی آئی سی آئی‘ایچ ڈی ایف سی اور ایکسیس بینک کی جانب سے رقم جمع کرنے یا نکالنے پر 150روپے فیس وصول کی جارہی ہے۔ان بینکوں نے اعلان کیا ہے کہ بچت کھاتوں سے5سے زیادہ مرتبہ رقم نکالنے پر یکم مارچ سے(ایچ ڈی ایف)یکم جنوری سے (ایکسیس)150روپے فیس وصول کی جائیگی۔آئی سی آئی سی آئی بینک کا کہنا ہے کہ نوٹ بندی کے بعد سے کوئی اصول و ضوابط تبدیل نہیں ہوئے ہیں اور فیس وصولی کے ضابطے پر گزشتہ سال جولائی سے عمل کیا جارہا ہے قابل تشویش بات یہ ہے کہ پانچویں مرتبہ رقم نکالنے کے بعد چھٹویں مرتبہ رقم نکالنے پر نہ صرف150روپے ہر مرتبہ وصول کئے جائیں گے بلکہ اس پر ٹیکس اور دیگر چارجس بھی عائد ہوں گے ایچ ڈی ایف سی کی کسی بھی شاخ میں اگر آپ کا کھاتا ہے تو آپ ماہانہ صرف 2 لاکھ روپے نکال سکتے ہیں ۔اس کے بعد ہر ایک ہزار روپے کیلئے5روپے وصول کئے جائیں گے۔آئی سی آئی سی آئی اپنے گاہکوں سے یہ فیس گزشتہ جولائی سے ہی وصول کررہا ہے ایک مہینے میں اگر آپ4مرتبہ بینک سے لین دین کرتے(رقم جمع کرتے ہیں یا نکالتے ہیں) تو آپ سے کوئی فیس نہیں لی جائیگی لیکن اس سے زیادہ کیلئے فیس چارج کی جارہی ہے سرکاری بینک اسٹیٹ بینک آف انڈیا ایک مہینے میں3سے زیادہ لین دین پر50روپے فی مرتبہ فیس وصول کررہا ہے تا ہم ایس بی آئی کا کہنا ہے کہ یکم اپریل 2017 سے وہ اپنے گاہکوں کو اے ٹی ایم سے 10 مرتبہ رقم نکالنے کی سہولت دے گا تا کہ گاہک کو بینک کے چکر لگانے کی ضرورت نہ پڑے ۔ Yes بینک کی جانب سے بھی فی لین دین 50 روپے چارج کئے جارہے ہیں۔تاجروں کی جانب سے اعتراض کے بعد ایچ ڈی ایف سی بینک نے اپنے چارجس کو 150 روپے سے گھٹا کر 100 روپے کردیا ہے۔ دو بینکوں کا کہنا ہے کہ نوٹ بندی کے دوران چارجس معطل کر دئیے گئے تھے تا ہم اب ان کو بحال کردیا گیا ہے۔ آئی سی آئی سی آئی کے گاہکوں کو اپنے کھاتوں سے رقم نکالنے کی کوئی حد نہیں ہے لیکن اگر تھرڈ پارٹی ہے تو یہ حد یومیہ50ہزار روپے ہے۔ایچ ڈی ایف سی کے گاہک یومیہ کسی بھی شاخ سے 25 ہزار روپے جمع یا نکال سکتے ہیں اگر اس سے زیادہ رقم جمع یا نکالی گئی تو ہر 1000روپے کیلئے5روپے فیس عائد ہوگی اس میں قابل غور نکتہ یہ ہے کہ کم سے کم فیس150 روپے ہے یعنی آپ دو ہزار بھی نکالیں گے تو 150روپے ہی ادا کرنا پڑے گا نہ کہ10روپے‘6میٹرو شہر ممبئی ‘ دہلی‘کولکتہ‘چینائی‘بنگلور‘ اور حیدرآباد کے شہریوں کیلئے خوشخبری یہ ہے کہ وہ اپنے بینک کی اے ٹی ایم سے5مرتبہ اور دوسرے بینک کی اے ٹی ایم سے3مرتبہ رقم نکال سکتے ہیں ۔ ریزرو بینک آف انڈیا نے2007 میں اے ٹی ایم کے زیادہ استعمال پر20روپے چارج عائد کیا تھا جو اب بڑھ کر 150 روپے ہوگئے ہیں۔نوٹ بندی کے بعد حکومت نے جو کمیٹی تشکیل دی تھی ابھی اس کی سفارشات کا جایزہ لینے اور ان کی روشنی میں اصول و ضوابط مرتب کرنا باقی ہے۔ تب تک بینکوں کی جانب سے عائد کیا جانیوالا یہ بوجھ برداشت کرنا پڑے گا یا پھر رقم جمع کرنے یا نکالتے وقت احتیاط سے کام لینے کی ضرورت ہے۔اس بات کو نوٹ کریں کہ اگر آپ مقررہ حد کے بعد ان بینکوں سے(برانچ پر یا اے ٹی ایم سے)ایک لاکھ روپے نکالنا چاہتے ہیں تو آپ کو ہر ہزار روپے کیلئے5 روپے کے حساب سے 500 روپے زائد ادا کرنا ہوگا لیکن اگر آپ10ہزار روپے نکالتے ہیں تو آپ کو اس حساب سے 50 روپے ہی ادا کرنا ہے لیکن بینک آپ سے 150 روپے وصول کررہے ہیں جو کہ اقل ترین فیس مقرر کی گئی ہے۔

Comments

comments