Tuesday , 21 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » گوشۂ نسواں » غلط فہمی فوری دور کرلیں
غلط فہمی فوری دور کرلیں

غلط فہمی فوری دور کرلیں

روزہ مرہ زندگی میں غلط فہمی کا لفظ کئی بار سنا اورکہا جاتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ مردوں کے بہ نسبت خواتین‘غلط فہمی کا بہت زیادہ شکار ہوتی ہیں۔ آخر یہ غلط فہمی کیا ہے۔ غلط فہمی ایسی فکر خم ہے جس سے دو افراد‘ خاندانوں کے درمیان تلخیاں اور دوریاں پیدا ہونے لگتی ہے۔ یہ ایسا منفی جذبہ ہے کہ جس سے خلوص‘ محبت اور دوستی کی پائیدار عمارت اچانک زمین بوس ہوجاتی ہے۔ زندگی میں ہر فرد یا خاتون کے ساتھ غلط فہمی ضرور ہوتی ہے۔ آپ نے کسی کے سامنے کچھ کہا ہوگا لیکن اُس نے ان الفاظ کا جنہیں آپ نے کہے تھے‘ غلط مطلب نکال لیا ہو‘ بس پھر کیا ہوا۔ دونوں سہلیوں ‘ ساتھیوں کے درمیان دوریاں بڑھنے لگتی ہیں یہ سلسلہ یہی تک برقرار نہیں رہتا بلکہ چند نا عاقبت افراد شوہر اور بیوی میں بھی غلط فہمی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تا کہ ان دونوں کی زندگی اجیرن بن جائے۔ رشتہ داروں‘ عزیز و اقارب کے اچھے بھلے الفاظ کو غلط معنیٰ و مفہوم کا پیرہن چڑھا یا جاتا ہے یہ عمل دلوں کو دور کرنے اور رشتوں کو تباہ و برباد کرنے کا سبب بنتا ہے۔ہنس کا ٹال دینے کے بعد الفاظ کی از سر نو تشریح کرنا‘ ان کے غلط معنیٰ و مطالب نکال کر کسی کو طعنہ کسنا یہ سب غلط فہمی کا نتیجہ ہے۔ خواتین کو چاہیئے کہ اپنے گھر اور خاندان کو تباہ و برباد کرنے سے بچانے کیلئے غلط فہمیوں کو پنپنے کا موقع ہی نہ دیں۔غلط فہمی ایسی سوچ ہے جس سے غیر ضروری بغض ‘عداوت پروان چڑھتا ہے فکر خم رکھنے والوں کو یہ پتہ بھی نہیں چلتا کہ وہ تلخ نوائی کے اکھاڑے میں ایکدوسرے کو زیر کرنے میں کس قدر گر چکے ہیں۔غلط فہمی آخر کیسے پھیلتی ہے یہ گفتگو سے پیدا ہوتی ہے۔ الفاظ‘ کسی بھی انسان کی کامیابی اور ناکامی کا سبب بنتے ہیں ۔ الفاظ ہمارے جذبات‘احساسات اور تاثرات کا عکس ہوتے ہیں۔بسا اوقات نہ چاہتے ہوئے آپ کی زبان سے وہ الفاظ ادا ہوجاتے ہیں جو بات اپنے دل میں دبائے رکھے تھے۔ محبت‘عزم اور دوستی ہر طوفان کا مقابلہ کرسکتے ہیں مگر ان تینوں کو غلط فہمی‘خس و خاشاک کی طرح بہہ لے جاتا ہے۔ اگر کوئی آپ کو طعنہ بھی دے تو آپ خاموش رہیں یہ آپ کے حق میں مفیدثابت ہوگا۔ آپ کے مد مقابل خاتون‘رشتہ دار غلط فہمی کا شکار ہے اور وہ اس دوران کچھ ترش کلامی سے پیش آتی ہے تو آپ صبر کریں یہی عمل مستقبل میں آپ کی زندگی کو شیریں بنا دیتا ہے۔ بہن! یہ بات یاد رکھیں کہ غیر ضروری گفتگو نہ کریں‘ بولیں کم سنیں زیادہ اس سے غلط فہمیاں کم ہوں گی۔ ہر لفظ کے کئی کئی معنیٰ نکالنے کی کوشش نہ کریں اگر سامنے والی/والا یہ کہہ دے کہ میرا مقصد یہ نہیں تھا تو آپ خاموش ہوجائیں اس کی نیت پر نہ جائیں‘اللہ ضرور دیکھ رہا ہے کیونکہ اللہ صبر کرنیوالوں کے ساتھ رہتا ہے۔ شوہر ‘ والدین‘بھائی بہن یا سسرالی رشتہ دار آپ کے بارے میں کچھ اچھی رائے نہیں رکھ رہی ہیں تو آپ فوری‘ صدق دل سے ان کے دلوں میں موجود غلط فہمی کو دور کرنے کی کوشش کریں۔ معذرت خواہی کی نوبت آن پڑے تو فوری صدق دل سے معذرت خواہی کر لیں۔کل کی زندگی کو ترش بنانے سے بہتر ہے کہ معذرت خواہی کرنا بہتر ہے۔

Comments

comments