Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » سیاحت » ہندوستان اورمسلمان(قسط 15 ) اور نگ زیب کا وصال اور سلطنت مغلیہ کے زوال کا آغاز
ہندوستان اورمسلمان(قسط 15 ) اور نگ زیب کا وصال اور سلطنت مغلیہ کے زوال کا آغاز

ہندوستان اورمسلمان(قسط 15 ) اور نگ زیب کا وصال اور سلطنت مغلیہ کے زوال کا آغاز

مغلیہ سلطنت افغانستان سے برما تک‘کشمیر سے دکن تک پھیل چکی تھی۔شہنشاہ اورنگ زیب عالمگیر نے89 برس کی عمر پائی اور 50 سال تک حکومت کی لیکن ان کی حکمرانی کا بڑا حصہ بغاوتوں کو کچلنے اور حملہ آور فوجوں کا مقابلہ کرتے ہوئے گذر گیا۔پھر ایک دور ایسا آیا کہ اورنگ زیب86برس کے ہوگئے۔وہ جنگ و جدال سے تنگ آچکے تھے ۔ اپنے عمر کے آخری ایام میں وہ عبادت و ریاضت میں گذارنا چاہتے تھے یہ وہ دور تھا جب مغل فوجوں نے بیجا پور کے قریب قلعہ کا محاصرہ کر رکھا تھا اورنگ زیب نے دہلی واپسی کا ارادہ کیا یہ1705 کا واقعہ ہے جب شاہی قافلہ بیجا پور میں دریائے کرشنا کے کنارے دیوا پور کے مقام پر پہنچا تو شہنشاہ شدید بیمار ہوگیا اور سفر روک دیا گیا۔اکتوبر1705 تک یعنی6ماہ تک اورنگ زیب نے وہیں قیام کیا۔20جنوری1706 کو یہ قافلہ احمد نگر پہنچا۔شہنشاہ کواس مرتبہ ڈولی میں لایا گیا تھا لیکن اس وقت تک بیماری مزید شدت اختیار کر گئی چنانچہ سفر پھر روک دیا گیا۔ اپنے آخری ایام شہنشاہ نے وہیں گذارے۔ ان کے آخری ایام میں ان کا کوئی قریبی رشتہ دار بیوی‘بیٹا ساتھ نہیں تھے۔اورنگ زیب تنہا تھے۔ ان کا باغی بیٹا اکبر1704میں ایران میں مارا گیا تھا۔دو سال پہلے بیٹی کی وفات ہوئی تھی۔ بہن کا بھی انتقال ہوچکا تھا جنہوں نے اپنے باپ شاہجہاں کی تیمار داری کی تھی ۔ اودے پور کے محل میں ان کی بیوی تھی جو جارجیائی نژاد تھی۔1707 میں اورنگ زیب دو بارہ بیمار ہوئے تا ہم ان ایام میں انہوں نے کبھی پانچ فرض نمازیں قضا نہیں کیں۔ ان کے امراء نے مشورہ دیا کہ وہ صحت کی بہتری کیلئے ایک ہاتھی اور ہیرے جواہرات کا نذرانہ پیش کریں لیکن انہوں نے اس کو ہندو عمل قرار دے کر مسترد کردیا ۔اس کے بجائے انہوں نے قاضی کے پاس4ہزار روپے (ایک ہاتھی کی قیمت) بھجوائے کہ وہ غریبوں میں تقسیم کردے۔ انہوں نے وصیت کی کہ اگر اس جگہ ان کا انتقال ہوجائے تو ان کو سادہ زمین میں دفن کردینا اور اس پر کوئی مقبرہ‘گنبد تعمیر نہ کرنا اور نہ ہی ان کی تدفین تابوت میں کرنا‘وہ مغل شہنشاہ جس نے اپنے آباو اجداد کی سلطنت کو ملک کے طول وعرض میں وسعت دی تھی‘ اپنی اس خواہش کو پوری نہ کرسکا کہ اس کی سلطنت میں شرعی قوانین پر صد فیصد عمل کیا جائے۔ اپنے ایک بیٹے اعظم کو انہوں نے اپنے آخری وقتوں میں ایک مکتوب بھیجا جس میں لکھا تھا کہ میں تنہا آیا تھا اور ایک اجنبی کی طرح واپس جارہا ہوں۔ میں نہیں جانتا کہ میں کون ہوں اور میں یہ بھی نہیں جانتا کہ میں نے کیا‘کیا ہے جس لمحہ میں اس دُنیا سے رخصت ہوں گا اپنے پیچھے صرف غم کو چھوڑ جاؤں گا میں اس سلطنت کا نہ تو محافظ ہوں نہ سرپرست ہوں۔ زندگی بہت قیمتی ہے۔ اللہ میرے دل میں ہے لیکن میں اس کو دیکھ نہیں سکتا۔ماضی گذر چکا ہے مستقبل کی کوئی امید نہیں ہے مجھے اب صرف آخرت‘یوم حساب کی فکر ہے۔مجھے اللہ تعالیٰ سے رحم کی پوری امید ہے لیکن میں نے جو کچھ کیا ہے اس کا مجھے ڈر ہے۔اورنگ زیب نے ایک ایسا ہی مکتوب اپنے ایک اور فرزند کام بخش کو بھی تحریر کیا۔ تاریخ شاہد ہے کہ اورنگ زیب نے اپنے آخری ایام کار میں سرکاری خزانے سے اپنے ذاتی خرچ کیلئے ایک روپیہ بھی حاصل نہیں کیا بلکہ قرآن مجید تحریر کر کے اس کی فروخت سے جو ہدیہ ملتا تھا اس سے گذر بسر کرنے لگے تھے۔احمد نگر میں آج بھی وہ مکان موجود ہے جہاں اورنگ زیب نے آخری ایام میں قیام تھا۔اورنگ زیب نے دہلی کے لال قلعہ میں اپنے آخری ایام کی عبادت کیلئے ایک موتی مسجد بنائی تھی لیکن ان کو دہلی واپس آنے کا موقع نہ ملا وہ سرزمین(دکن) جس کو فتح کرنے کیلئے انہوں نے عمر کے26برس لگا دئیے ان کی مدفون جگہ بن گئی۔اورنگ زیب جانتے تھے کہ ان کے بعد سلطنت کو حاصل کرنے کیلئے وہی ہوگا جو ان کے دور میں ہوچکا تھا۔ چنانچہ انہوں نے سلطنت اپنے فرزندوں میں تقسیم کردی۔ وصیت میں انہوں نے لکھا کہ میں نے جو ٹوپیاں بنا کر چار روپے دو آنے جمع کئے ہیں یہ رقم میری تدفین پر خرچ کئے جائیں گے۔قرآن مجید کی تحریر سے انہوں نے جو305روپے حاصل کئے ہیں۔وہ فقراء میں تقسیم کردیئے جائیں۔انہوں نے لکھا کہ میری تدفین سادہ کفن میں ہو کوئی ماتم‘محفل کا اہتمام نہ ہو۔21فروری1707کو اورنگ زیب نے فجر کی نماز ادا کی اور اپنی کٹیا میں واپس آگئے وہ بستر پر گرتے ہی بے ہوش ہوگئے جب کچھ ہوش آیا تو تسبیح پڑھنے لگے ۔8 بجے اُن کی اُنگلیوں کی حرکت رک گئی۔ مغل شہنشاہ دارفانی سے کوچ کرچکا تھا۔اورنگ زیب چاہتے تھے کہ اگر ان کا انتقال ہو تو وہ جمعہ کا دن ہو اور وہ دن جمعہ کا ہی تھا۔اورنگ زیب نے 18ویں صدی کی ابتداء میں مغلیہ سلطنت کی باگ ڈور سنبھالی تھی لیکن افسوس کہ صدی کے ختم ہوتے ہوتے یہ سلطنت چند سو کیلو میٹر تک محدود ہو کر رہ گئی۔اورنگ زیب کی وفات کے ساتھ ہی جانشینی کی لڑائی شروع ہوگئی۔ان کے3بیٹوں معظم(گورنر کابل)اعظم(گورنر گجرات) کام بخش(گورنر دکن)احمد نگر پہنچے اور اپنی حکمرانی کا دعویٰ کرنے لگے۔ کام بخش نے گلبرگہ اور حیدرآباد پر قبضہ کر لیا۔ معظم نے اعظم اور کام بخش دونوں کو شکست دیدی اس طرح معظم بہادر شاہ اول کے نام سے تخت نشین ہوا۔ بہادر شاہ جانتا تھا کہ والد کی طویل علالت نے سلطنت میں کن سازشوں کو جنم دیا ہے۔ چنانچہ اس نے اپنے باپ کے چند سخت احکامات کو واپس لے لیا اور اکبر اعظم کی طرح سیکولر پالیسوں کو اختیار کرنا شروع کیا۔ خاص طور پر مراہٹوں نے راجپوتوں کو مغل سلطنت کے خلاف ورغلانہ شروع کردیا تھا۔بہادر شاہ اول نے میواڑ اور امبر پر گرفت مضبوط رکھنے کیلئے اس نے میواڑ کے اجیت سنگھ کو مغلیہ سلطنت کی اطاعت قبول کرنے کا حکم دیا۔ دوسری طرف اس نے امبر کے راجہ جئے سنگھ کو ہٹا کر اس کے چھوٹے بھائی وجئے سنگھ کو راجہ بنادیا۔اجیت سنگھ اور جئے سنگھ دونوں مغل دربار میں بڑے منصب کا مطالبہ کررہے تھے ۔مراہٹوں کے راجہ سمبھا جی کا بیٹا ساہو مغلوں کی قید میں تھا۔1707میں اس کو رہا کردیا گیا۔بہادر شاہ ساہو کو مراہٹا راجہ تسلیم نہیں کرتا تھا۔ اسلئے تارا بائی اور ساہو کے درمیان لڑائیاں ہوتی رہیں۔تارا بائی شیواجی کی بہو اور چھتر پتی راجہ رام بھونسلے کی رانی تھی ۔ ساہو مراہٹوں کا چوتھا راجہ اور شیواجی کا پوتا تھا۔سکھوں کے ساتھ بھی بہادر شاہ نے تعلقات کو بہتر بنانے کیلئے گرو گوبند سنگھ کو منصب عطا کیا لیکن گرو کی موت 1708 کے بعد سکھوں نے پھر بغاوت کردی۔ گوبند سنگھ سکھوں کے دسویں گرو ہیں ۔ سکھوں نے بندا بہادر کی قیادت میں علم بغاوت بلند کیا تو ان کو لوہاگڑھ کے مقام پر شکست دی گئی۔ یہ قلعہ گرو گوبند سنگھ نے تعمیر کروایا تھا۔ اس قلعہ کو سکھ1712میں دوبارہ فتح کرسکے۔ بہادر شاہ نے بندیلا اور جاٹ قبیلوں کے سرداروں چھتر سال اور چورامن کے ساتھ بھی امن کا معاہدہ کیا۔ ان کی مدد سے ہی سکھوں کو شکست دی جاسکی۔ ہندوؤں کے ساتھ بھی بہادر شاہ کا رویہ کافی نرم تھا۔ اس نے کئی اہم منصوبوں پر ہندوؤں کو فائز کیا اور ان میں جاگیریں تقسیم کروائیں ۔ 1712 میں بہادر شاہ اول کا انتقال ہوگیا۔ ایک مرتبہ پھر مغلیہ سلطنت میں جانشینی کی جنگ شروع ہوگئی۔ بہادر شاہ کے4بیٹے تھے۔ جہاندار شاہ‘رفیع الشان‘عظیم الشان اور جہاں شاہ‘ ان چاروں کی لڑائی میں جہاندار شاہ کامیاب رہا لیکن وہ ایک کمزور بادشاہ ثابت ہوا۔اس نے ذوالفقار شاہ کو اپنا وزیر اعظم مقرر کیا وہ ایک چالاک انسان تھا ‘ راجپوتوں‘مراہٹوں سے اس کے گہرے مراسم تھے۔ چنانچہ اس نے تخت نشینی کے خواب دیکھنے شروع کردیئے اور اپنے اثر و رسوخ کو مزید مضبوط بنانے لگا اس نے اورنگ زیب کے قوانین کو پوری طرح سے ختم کردیا۔ جزیہ کا طریقہ ختم ہوگیا۔ جئے سنگھ کا منصب بڑھا دیا اور اسے مالدہ کاگورنر مقرر کردیا۔میواڑ کے راجہ کو مہاراجہ کا خطاب دیا گیا اس کو بھی گجرات کا گورنر مقرر کردیا گیا ۔ذوالفقار نے خزانے میں اضافہ کرنے کیلئے کئی طرح کے ٹیکس عائد کردیئے۔کسانوں سے لگان وصول کرنا شروع کیا۔ اس طرح سلطنت میں ناراضگی پیدا ہونے لگی اچانک1713میں جہاندار شاہ کی حکومت کا خاتمہ اس وقت ہوگیا جب اس کے بھتیجے فرخ شہر یار نے اس کو آگرہ میں شکست دے کر خود کو مغلیہ سلطنت کا نیا تاجدار قرار دیدیا۔
فرخ شہر یار نے تخت حاصل کرنے کیلئے عبد اللہ خان اور حسین علی خان کی مدد حاصل کی تھی۔ ان کو بالترتیب وزیر اور میر بخشی(سراغ رسانی کا سربراہ) مقرر کیا۔ان دو بھائیوں نے جلد ہی سلطنت پر اپنا کنٹرول قائم کردیا۔ حالات اس طرح پیدا ہوگئے کہ فرخ شہر یار کیلئے حکومت چلانا مشکل ہوگیا ان دونوں کی مرضی کے بغیر وہ کوئی کام نہیں کرسکتا تھا۔ انہوں نے بادشاہ کو یہ باور کروانا شروع کیا کہ ان کے ہاتھوں میں سلطنت محفوظ ہے۔ فرخ کے دور میں سکھوں کے لیڈر بندا بہادر کو پکڑ کر قتل کردیا گیا۔بادشاہ ان دو بھائیوں سے پیچھا چھڑانا چاہتا تھا لیکن اس کوشش میں1719میں خود اس کی جان چلی گئی اس کی موت کے بعد ان بھائیوں نے جو کمسن شہزادوں کا جانشین کے طور پر انتخاب کیا رفیع الدرجات اور رفیع الدولہ لیکن چند مہینوں میں ہی ان کا انتقال ہوگیا۔ جہاں شاہ کے بیٹے کو تخت پر بٹھایا گیا اوراس کو محمد شاہ نام دیا گیا۔محمد شاہ نے جو اورنگ زیب کے پوتے تھے۔ 1719سے 1748 تک حکومت کی لیکن ان کی حکومت بھی یہ دونوں بھائی ہی چلاتے رہے اس دوران مختلف علاقوں میں بغاوتیں اُٹھنے لگیں اور سرکاری خزانہ کم ہونے لگا اس دوران مغلیہ سلطنت کے کچھ دیرینہ وفادار اور امراء اکھٹے ہوئے ان کو دکن کے نظام الملک نے متحد کیا تھا۔ فرخ شہر یار کے قتل کے بعد سے یہ دونوں بھائی امراء کی آنکھوں میں کھٹکنے لگے تھے۔ وہ ان کو غدار تصور کرتے تھے۔ہندوؤں کو خوش کرنے کی پالیسیاں اختیار کرنے کی وجہ سے امراء ان کو مخالف اسلام بھی تصور کرتے تھے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان امراء کو بادشاہ محمد شاہ کی پوری تائید اور سرپرستی حاصل تھی جو ان دو بھائیوں سے پیچھا چھڑانا چاہتا تھا۔1720 میں حسین علی کو قتل کردیا گیا جبکہ1722میں یعنی دو سال بعد عبد اللہ خان بھی مارا گیا۔اس طرح مغلیہ سلطنت کو ان دو بھائیوں سے نجات مل گئی اور محمد شاہ ایک طویل عرصہ تک سکون کے ساتھ حکومت کرتا رہا۔
مغلوں کو ملک کی دیگر چھوٹی حکومتوں پر فوقیت اسلئے حاصل تھی کہ ایک تو ان کے پاس لاکھوں کی فوج تھی جس میں گھوڑے اور ہاتھی تھے اور دوسرے ان کا توپ خانہ تھا جس کے سامنے کوئی قلعہ نہیں ٹکتا تھا۔ شمالی ہندوستان میں چھوٹی چھوٹی بغاوتوں سے انتظامیہ ٹھپ تھا لیکن صورتحال پوری طرح ہاتھ سے نہیں نکلی تھی۔مراہٹے دکن تک محدود تھے اور راجپوت اب بھی مغلوں کے وفادار تھے۔محمد شاہ نے دو بھائیوں کے قتل کے بعد محمد امین خان کو وزیر اعظم مقرر کیا تھا ان کے انتقال کے بعد1722میں نظام الملک کو وزیر اعظم بنایا گیا۔محمد شاہ کی خامی یہ تھی کہ وہ اپنے وزیروں پر ہی شک کرنے لگتا ایک اور بات جو محمد شاہ سے منسوب ہے وہ اس کا رنگین مزاج ہے اسلئے تاریخ میں اس کو محمد شاہ رنگیلا کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ ایک رقاصہ کو کی جیو کی زلف کا اسیر بن گیا تھا۔اس کے علاوہ ایک خواجہ سرا حفیظ خدمت گار خان کا بھی اس پر کافی اثر تھا۔ہوا یوں کہ ان ہی دنوں میں فارس(ایران) کے بادشاہ نادر شاہ نے ہندوستان پر حملہ کردیا1738-39 اس نے سُن رکھا تھا کہ ہندوستان میں بے پناہ دھن دولت ہے۔ فارس کی بادشاہت دیوالیہ ہورہی تھی چنانچہ اس نے دولت حاصل کرنے کیلئے ہندوستان پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ کمزور مغل حکومت اس کو دعوت دے رہی تھی اور وہ اس سنہرے موقع سے فائدہ اُٹھانا چاہتا تھا۔( جاری ہے)

Comments

comments