Tuesday , 21 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » گوشۂ نسواں » بے قاعدہ ماہواری اورصحت کے مسائل

بے قاعدہ ماہواری اورصحت کے مسائل

ہر خاتون یا لڑکی کی صحت مندی کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ ہے کہ انہیں ہر ماہ‘رحم سے خون خارج ہونا چاہیئے یہ ناقص سرخ یا سیاہی مائل ہوتا ہے۔اگر کسی خاتون یا لڑکی کو رحم سے خون کا اخراج نہ ہو‘ زیادہ ہو یا کم ہو‘ اسے بیماری تصور کیا جاتا ہے۔ماہواری میں بے قاعدگی سے صنف نازک کی صحت خراب ہونے لگتی ہے ماہواری جیسے حیض بھی کہتے ہیں۔ کا سائیکل 28دنوں کا ہوتا ہے۔چند خواتین کو تین دن تو چند کو سات سے زائد دنوں تک حیض آتا ہے۔ حیض میں بے قاعدگی کی کیفیت کو آمینوریا کہا جاتا ہے۔ اس قسم کے حیض اس کوکہتے ہیں ہیں جس میں ماہواری رُک جاتی ہے۔ماہواری میں بے قاعدگی کے کئی اسباب ہوتے ہیں ‘ ہارمونس کی تبدیلی‘ دماغی کمزوری‘پریشانی ذہنی دباؤ‘خوراک کا صحیح نہ ملنا اور دیگر شامل ہیں ۔ بلوغت کے ابتدائی ایام میں ماہواری میں بے قاعدگی عام بات ہے اگر مسلسل یہ شکایت برقرار رہے تو ماہر لیڈی ڈاکٹر سے رجوع ہونے کی ضرورت ہے۔ماہواری میں بے قاعدگی‘ یا نہ آنے سے کئی پیچیدہ مسائل پیدا ہوسکتے ہیں اور اس سے خاتون کی صحت تیزی سے بگڑنے لگتی ہے بتایا جاتا ہے کہ ماہواری میں بے قاعدگی سے کھانا کھانے کا من نہیں رہتا۔ تھرائیڈ کی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ پالی اسٹکس‘اوورین سنڈروم‘ وقت سے قبل حمل کا گر جانا‘ ٹی بی‘ جگر کے امراض ‘ ذیابطیس‘ انمیا‘اور کینسر کی شکایت کا خطرہ رہتا ہے۔ وزن میں کمی کی شکایت بھی پیدا ہوسکتی ہے۔ ان مسائل سے محفوظ رہنے کیلئے جتنا جلد ہوسکے ماہر لیڈی ڈاکٹرس سے رجوع ہونے میں ہی بہتری ہے۔

Comments

comments