Thursday , 21 June 2018
بریکنگ نیوز
Home » دیگر » تعلیم » عثمانیہ یونیورسٹی کی صد سالہ تقاریب
عثمانیہ یونیورسٹی کی صد سالہ تقاریب

عثمانیہ یونیورسٹی کی صد سالہ تقاریب

سرزمین دکن کی سب سے باوقار جامعہ کا درجہ رکھنے والی عثمانیہ یونیورسٹی کے قیام کو100سال مکمل ہورہے ہیں۔حکومت تلنگانہ کی جانب سے اس کی صدسالہ تقاریب سال بھر منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا آغاز 26 اپریل کو ہوگا۔ان تقاریب کی افتتاحی تقریب میں صدر جمہوریہ پرنب مکرجی نے مہمان خصوصی کی حیثیت سے شرکت کی توثیق کردی ہے۔ چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے حالیہ دہلی کے دورے کے موقع پر ان سے ملاقات کر کے ان کو مدعو کیا تھا۔عثمانیہ یونیورسٹی میں تقاریب کی تیاریوں اور اہتمام کیلئے ایچ وینکٹیشورلو کو اسپیشل آفیسر مقرر کیا گیا ہے۔ صد سالہ تقاریب کے دوران دُنیا کی مشہور شخصیتوں کے توسیعی لکچرس‘یونیورسٹی کے سابق طلباء کی ملاقاتیں جو اب اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں‘موضوعاتی اجلاس‘کانفرنس کا اہتمام کیا جائیگا۔ثقافتی ‘تہنیتی پروگرامس بھی منعقد ہوں گے ۔ 28اپریل کو یونیورسٹی کے طلباء نے تمثیلی پارلیمنٹ بھی منعقد کریں گے۔
1845میں نظام حکومت نے اُردو زبان میں طب کی تعلیم فراہم کرنے کیلئے نظام میڈیکل اسکول قائم کیا تھا ۔ 1854 میں دارالعلوم رسمی پرائمری تعلیم کیلئے شروع کیا گیا ۔ 1887 میں نظام کالج اور کالج آف لاء قائم ہوا۔ 1899 میں یونیورسٹی کے قیام کا منصوبہ شروع ہوا۔ایک برطانوی ماہر تعلیم ویلفر ڈیسون بلنٹ نے نظام حیدرآباد کو ایک منصوبہ24جنوری1884کو پیش کیا لیکن سرکاری حکمنامہ17اگست1917کو جاری کیا گیا۔جس کی رو سے عثمانیہ یونیورسٹی کے قیام کی راہ ہموار ہوگئی اگرچہ 1918 میں یونیورسٹی کاآغاز ہوا تا ہم یہ 28اگست 1919 سے مکمل کارکرد ہوگئی۔ابتداء میں225 طلباء نے داخلہ حاصل کیا۔ میڈیکل اور انجینئرنگ کورسس کا آغاز بالترتیب 1927اور1929 سے ہوا۔برصغیر ہندوستان میں اس وقت کوئی ایسی یونیورسٹی نہیں تھی۔1926 میں ویمنس کالج شروع کیا گیا۔آرٹس کالج کا قیام1936 میں ہوا۔ یہ یونیورسٹی عصری‘اسلامی‘سیکولر طرز تعلیم اور علاقائی فنون لطیفہ کا امتزاج تھی۔اُردو زبان میں تدریس ہوتی تھی اسلئے اس دور کے فارغ التحصیل تمام طلباء جن میں سابق وزیر اعظم پی وی نرسمہا راؤ شامل تھے اُردو زبان سے اچھی طرح واقف تھے۔غیر ملکی کتابوں اور تدریسی مواد کے ترجمہ کیلئے ٹرانسلیشن بیورو قائم تھا۔ جہاں سائنس‘ریاضی اور دیگر علوم کی کتابوں کا اُردو میں ترجمہ کیا جاتا تھا۔
اس وقت اس یونیورسٹی کوNAACنےAزمرے کا سرٹیفکٹ دیا ہے۔زبان تدریس انگریزی میں کردیا گیا ہے۔ یونیورسٹی کیمپس میں جملہ8کالجس قائم ہیں۔ان میں یونیورسٹی کالج آف آرٹس سوشیل سائنس‘یونیورسٹی کالج آف کامرس اینڈ بزنس مینجمنٹ یونیورسٹی کالج آف ٹکنالوجی‘یونیورسٹی کالج آف انجینئرنگ‘یونیورسٹی کالج آف لاء ‘ یونیورسٹی کالج آف سائنس‘انسٹیٹیوٹ آف ایڈوانس اسٹیڈی ان ایجوکیشن ‘پی جی کالج آف فزیکل ایجوکیشن شامل ہیں ۔2001میں اس یونیورسٹی کوNAACنے فائیو اسٹار موقف عطا کیا۔یونیورسٹی کا پورا کیمپس1600ایکڑ پر پھیلا ہوا ہے جملہ3لاکھ طلباء(فاصلاتی اور ملحقہ کالجوں کے بشمول) اس یونیورسٹی سے استفادہ کررہے ہیں اس طرح یہ ملک کا سب سے بڑا تعلیمی ادارہ کہلاتا ہے۔ یونیورسٹی میں اعلیٰ تعلیم کے وسیع مواقع موجود ہیں۔ تقریباً 5000 تدریسی اور غیر تدریسی عملہ یونیورسٹی کیلئے کام کرتا ہے۔
کالج آف لاء کا شمار ملک کے سر فہرست15لاء اسکولس میں ہوتا ہے۔ نظام کالج اور ویمنس کالج بھی عثمانیہ یونیورسٹی کا حصہ ہیں تلنگانہ میں تقریباً400کالجس یونیورسٹی سے ملحقہ ہیں۔ انجینئرنگ کالج میں بائیو میڈیکل انجینئرنگ ‘ سیول انجینئرنگ‘کمپیوٹر سائنس الکٹرانکس اینڈ کمیونیکشن‘ٹریپل ای‘میکانیکل انجینئرنگ کورس پڑھائے جاتے ہیں ۔ اس یونیورسٹی کے قیام کا سہرا سابق ریاست حیدرآباد کے حکمرانوں کے سر جاتا ہے۔1918میں ساتویں نظام فتح جنگ میر عثمان علی خان آصف جاہ بہادرہفتم نے اس کا سنگ بنیاد رکھا تھا۔ یہ ہندوستان کی اس وقت ساتویں ‘ جنوبی ہند کی تیسری اور دکن کی پہلی یونیورسٹی تھی۔چیف آرکٹیکٹ محبوب علی خان نے اس کا ڈیزائن تیار کیا اور آرٹس کالج کی عمارت تعمیر کروائی۔ نواب سرور جنگ کا اس میں اہم رول تھا اسلئے اس یونیورسٹی کو نظام ہفتم میر عثمان علی خان سے موسوم کیا گیاہے۔ اُردو ذریعہ تعلیم کی یہ ملک کی اولین یونیورسٹی تھی۔2012 میں اس کو ملک کی چھٹویں بڑی یونیورسٹی قرار دیا گیا۔ اس وقت3لاکھ طلباء میں80ممالک کے3700 غیر ملکی طلباء بھی یہاں زیر تعلیم ہیں ۔ 15 مارچ 1969کو حکومت ہند نے اس یونیورسٹی پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا تھا۔
اس یونیورسٹی کے مشہور طلباء میں سابق وزیراعظم پی وی نرسمہا راؤ‘سابق وزیر داخلہ شیو راج پاٹل‘ڈاکٹر چنا ریڈی ‘ این دھرم سنگھ‘ متحدہ آندھرا پردیش کے آخری چیف منسٹر کرن کمار ریڈی‘کرکٹر محمد اظہر الدین‘آر بی آئی کے سابق گورنر وائی وینو گوپال‘ ایڈوب سسٹم کے سی ای آر اوشانتا نو نارائنا‘کامنٹریٹر ہرشا بھوگلے‘ماہر طبیعات رضی الدین صدیقی‘ماہر لسانیات مسعود حسین خان اور دوسرے شامل ہیں۔

Comments

comments