Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » بزم اطفال » کاہلی کی سزاء
کاہلی کی سزاء

کاہلی کی سزاء

کسی جنگل میں ایک شیرنی رہتی تھی اُس کے دو چھوٹے بچے بھی تھے۔وہ روزآنہ جانوروں کا شکار کرتی اور اپنے بچوں کو پیٹ بھر کھلاتی۔ ان دونوں میں بڑا بہادر‘نڈر تھا جبکہ چھوٹا بچہ کمزور‘کاہل وسست تھا۔ بچے جب بڑے ہوئے تو ماں نے کہا کہ بیٹا! آپ دونوں کو شکار کرنا سکھاؤں گی تاکہ آپ خود شکار کرنا سیکھیں اور اپنا پیٹ بھرنا سیکھ لیں۔
شیرنی نے دونوں بچوں سے کہا کہ چلو شکار کیلئے چلتے ہیں بڑا بچہ تیار ہوگیا مگر چھوٹا بچہ جو کاہل اور سست تھا شکار پر جانے کیلئے راضی نہیں رہتا۔وہ کہتا تھا کہ بغیر محنت کئے ہی کھانا مل رہا ہے تو شکار کیوں کرو۔ماں نے اُسے بہت سمجھایا کہ بیٹا! تو شیر ہے ‘ شیر کا بیٹا ہے۔شیر جنگل کا راجہ ہے بہت بہادر ہوتا ہے کاہل اور سست نہیں ہوتا۔ اپنا شکار آپ کرناہے۔ مردار نہیں کھاتا۔ماں نے مزید کہا کہ بیٹا! یہ سستی اور کاہلی چھوڑ دے ورنہ تجھے چھوٹے اور کمتر جانور ستائیں گے۔وہ‘ماں کی بات ایک کان سے سنتا تو دوسرے کان سے نکال دیتا۔ایک دن شکاری جنگل میں آیا اور شیرنی کو گولی مار کر ہلاک کردیا۔ شکاری نے شیرنی کی کھال اُتاری اور شہر لے گیا اور اس کھال کو بڑی قیمت پر اسے فروخت کردیا۔ جنگل کے دیگر جانوروں نے شیرنی کی ہلاکت کے بارے میں اس کے بڑے بچے کو واقف کروایا۔ ماں کی موت کے بارے میں معلوم ہوتے ہی بڑا شیر‘شکاری کو ختم کرنے کا ارادہ کیا مگر وہ جب تک شہر جا چکا تھا۔ اُس نے اپنے چھوٹے بھائی کے پاس آیا اور کہنے لگا بھائی! ماں تو اب گذر چکی ہے۔اب ہم دونوں ہی ہیں۔تو کام کر‘جانوروں کا شکار کر کے کھا‘ ورنہ بھوکا مر جائیگا۔بڑے بھائی کی نصیحت سننے کے بعد چھوٹے بھائی نے غصہ میں کہا‘خدا نے مجھے پیدا کیا ہے اور کھانا بھی وہی دے گا۔ یہ سنتے ہی بڑا بھائی چلا گیا۔کاہل اور سست شیر غذا کیلئے پریشان رہنے لگا وہ جانوروں کا شکار بھی نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اُس نے شکار کے گُر سیکھے ہی نہیں غفلت سے سامنے میں جو چھوٹا جانور آتا‘ بس وہ ان کا شکار کر کے اپنا پیٹ بھر لیتا‘ ان چھوٹے جانوروں سے اس کا پیٹ نہیں بھرنے لگا اب چھوٹے جانور بھی اُدھر آنے سے رہ گئے۔بھوک سے وہ نڈھال اور کمزور پڑنے لگا۔کاہلی تو اس کے بدن میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ وہ کمزور‘ ہوچکا تھا وہ حرکت کرنے سے بھی قاصر تھا۔ ایک دن ایک چوہا‘غذا کی تلاش میں بل سے باہر نکل پڑا۔شیر کو قریب آکر دیکھا کہ شیر ادھ مرا پڑا ہے اس نے شیر کے کان کتر کر کھانے لگا۔تکلیف کے باوجود شیرمیں اس چوہے کو سبق سکھانے کی بھی ہمت نہیں تھی۔ اُس چوہے نے دیگر چوہوں کو آواز دی۔تمام چوہے آگئے اور شیر کی کھال کو کتر کر کھانے لگے۔ شیر تکلیف سے کرہ اُٹھتا اور کہتا کاش! میں نے ماں کی بات سنی ہوتی‘کاش میں بڑے بھائی کی بات سنی ہوتی تو آج یہ حالت نہ ہوتی۔چوہے تیزی کے ساتھ شیر کی کھال کتر کر کھا رہے تھے، اس کے بڑے بھائی کو جیسے ہی اطلاع ملی وہ فوراً اپنے چھوٹے بھائی کی جان بچانے کیلئے آگیا مگر تب تک اس دوران اس کی موت واقع ہوگئی۔ بچو! اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ کاہلی اور سستی کو قریب آنے نہ دیں۔بڑوں کی باتوں پر عمل کرو تب ہی ہماری زندگی کامیاب ہوگی۔

Comments

comments