Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » بزم اطفال » رحمدل ہاتھی
رحمدل ہاتھی

رحمدل ہاتھی

ایک شہر سے بہت دور ایک دریا تھا جس میں ہمیشہ پانی رہتا تھا‘ دریا کے اُس پار ایک گھنا جنگل تھا اس جنگل میں بہت سارے جانور رہتے تھے۔ جنگل میں موز کے بہت سارے درخت تھے جو دریا کے قریب تھے۔ ان موز کے درختوں پر بندر رہا کرتے تھے۔ایک دن ایک شریر بندر جو اپنے آپ کو عقلمند سمجھتا تھا۔ موز کے ایک درخت پر چڑھا گیا موز کھانے لگا اتنے میں اسے ایک مست ہاتھی آتا دکھائی دیا۔ ہاتھی کو دیکھنے کے بعد اس بندر کو شرارت سوجھی۔موز کھانے کے بعد اس کے چھلکے کو بندر نے ہاتھی کے سامنے پھینک دیا۔ہاتھی اس چھلکے کو نہیں دیکھ پایا جب اس کا پیر‘اس چھلکے پر پڑا تو وہ پھسل کر گر پڑا۔ہاتھی کے گرتے ہی شریر بندر ہنسنے لگا۔بڑی مشکل سے اُٹھنے کے بعد ہاتھی نے موز کے درخت پر دیکھا تو شریر بندر ہنس رہا تھا۔بندر کی ہنسی دیکھ کر ہاتھی آگ بگولہ ہوگیا اُس نے بندر کو سبق سکھانے کی ٹھان لی۔ہاتھی غصہ میں موز کے درخت کو اپنی سونڈھ میں لپٹا اور پوری قوت سے اُسے جھکا کر چھوڑ دیا بندر‘ اُچھل کر دوسرے موز کے درخت پر گر پڑا وہ‘ ایک کمزور پھنی کو پکڑ کر بیٹھا تھا۔ہاتھی کے غصہ کو دیکھ کر بندر کو اپنی موت سامنے دکھائی دینے لگی۔ہاتھی اب درخت کو گرانے کی کوشش کررہا تھا وہ چاہتا تھا کہ آج بندر کو پیروں تلے کچل دوں۔ہاتھی کو غصہ میں دیکھ کر بھالو باہر آیا جو ہاتھی کا اچھا دوست تھا‘وہ سمجھ گیا کہ بندر کی شرارت سے ہاتھی کو غصہ آگیا اور وہ اس شریر بندر کو مارنے پر تلا ہوا ہے۔ بندر کی حالت دیکھ کر بھالو کو رحم آگیا اُس نے فوری ہاتھی کے پاس گیا اور بولا بھائی ہاتھی اب معاف کردو‘بندر نادان ہے۔شرارت کرنا اس کی فطرت ہے‘ وہ تمہارے لائق نہیں ہے کہ آپ اس کو مارسکو‘جانے دو!چھوڑ دو‘اس کمزور بندر کو معاف کردو۔ہاتھی نے کہا کہ بھالو دوست‘آپ کے کہنے پر میں آج اس بندر کو معاف کررہا ہوں‘ بھالو کے کہنے پر بندر نیچے آیا۔بھالو نے کہا کہ اے نادان‘ چل اب بھائی ہاتھی سے معافی مانگ‘بھالو کے کہنے پر بندر نے ہاتھی سے معافی مانگ لی اور وعدہ کیا کہ آئندہ کبھی شرارت نہیں کرے گا۔ جس پر ہاتھی نے بندر کو معاف کردیا۔تینوں اپنے ‘اپنے مقامات کی طرف چل دیئے۔ بچو!معاف کرنا بہت بڑی نیکی ہے۔چھوٹوں‘بڑوں سے غلطیاں ہوجاتی ہیں۔ اگر آپ سے کوئی معذرت خواہی کرتا ہے تو آپ بھی اُسے فوراً معاف کردیں۔

Comments

comments