Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » بزم اطفال » خود غرضی کی دوستی
خود غرضی کی دوستی

خود غرضی کی دوستی

کسی ملک میں ایک علاقہ بلند و بالا پہاڑیوں سے گھرا ہوا تھا۔ان پہاڑوں کے درمیان ایک گھنا جنگل تھا جس میں ہمہ اقسام کے جانور اور پرندے رہتے تھے تا ہم ایک دن جنگل کے پرندوں اور جانوروں میں کسی مسئلہ پر لڑائی ہوگئی۔ یہ لڑائی چلتی رہی پرندوں اور جانوروں میں لڑائی کا سلسلہ برسوں سے جاری تھا۔ کبھی پرندے جانوروں پر حاوی ہوتے تو کبھی جانوروں کو کامیابی ملتی اس کے باوجود یہ دونوں گروپ اپنی ضد پر اڑے رہے‘ کوئی بھی جھکنے کا نام نہیں لیتا۔اس جنگل میں چمگاڈر بھی رہتا تھا جو خود غرض‘ اور مفاد پرست تھا۔ہمیشہ اپنا مفاد آگے رکھتا۔خود غرض‘مکار اور مفاد پرست چمگاڈر موقع پرستی کی بد ترین مثال بن گیا۔ وہ کبھی پرندوں کے جھنڈ میں آکر بیٹھ جاتا اور انہیں یقین دلاتا کہ وہ‘ آپ کے ساتھ ہے اور کہتا میں بھی ایک پرندہ ہوں‘ ہوا میں آپ کی طرح اُڑ سکتا ہوں لڑائی میں جب جانوروں کا پڑلہ بھاری ہوتا تو وہ جانوروں میں جاتا اور کہتا مجھے اُڑنا آتا ہے تو کیا ہوا‘مگر میں آپ کی طرح ہی بچوں کو جنم دیتی ہوں اور آپ کی طرح میں بھی اپنے بچوں کو دودھ پلاتی ہوں۔ ایک دن پرندوں اور جانوروں میں شدید لڑائی چھڑ گئی‘دونوں فریقین کو زبردست نقصان ہوا اس کے باوجود جانوروں کو کامیابی اور پرندوں کو ناکامی ہوئی۔ کامیابی پر جانور جشن منانے لگے۔موقع دیکھ کر چمگاڈر جانوروں کے کیمپ میں گئی اور جشن میں شامل ہونے کی کوشش کرنے لگی مگر جانوروں نے اس کی دوغلی پالیسی پر اُسے دھتکار دیا اور کہنے لگے چمگاڈر تو جانور نہیں بلکہ پرندہ ہے۔ ہوا میں اُڑتی ہے اور تیرے پر بھی ہیں۔اسلئے تو جانوروں میں شامل نہیں ہوسکتی۔ جانوروں کے لیڈر کی یہ باتیں سننے کے بعدچمگاڈر مایوس ہو کر پرندوں کے غول میں پہنچی جہاں شکست پر ماتم ہورہا تھا۔چمگاڈر نے کہا کہ میں آپ کی طرح آسمانوں میں اُڑتی ہوں اسلئے آپ مجھے اپنے گروپ میں جگہ دیں۔تاہم پرندوں نے کہا کہ چمگاڈر!تو ایک موقع پرست‘خو دغرض اور مکار ہو اسلئے آپ کو جانوروں کے گروپ نے دھتکاردیا ہے اسلئے تو ہمارے پاس آئی ہے ہم بھی تجھے پرندہ قبول کرنے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ پرندوں نے کہا کہ بے شرم فوری یہاں سے چلے جا۔بتایا جاتا ہے کہ مایوس و شرمندگی کے ساتھ چمگاڈر‘ اسلئے جانوروں اور پرندوں سے منہ چھپائے رات میں نکلتی ہے۔ اُس نے کہا کہ مجھ پر خود پرستی اور خود غرضی اور مفاد پرستی کا داغ لگ چکا ہے۔اسلئے وہ جنگل چھوڑ کر جارہی ہے یہ کہتے ہوئے چمگاڈر نے ہمیشہ ہمیشہ کیلئے جنگل چھوڑ دیا۔چمگاڈر‘ویران مکانات‘غاروں میں پناہ لینے لگی۔بچو! زندگی میں کبھی بھی خود غرضی‘مفاد پرستی اور مکاری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیئے۔ جب کسی کے ساتھ دوستی کرو تو اس کو خلوص دل کے ساتھ نبھانے کی کوشش کروں۔

Comments

comments