Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » بزم اطفال » ٹائیگر فش
ٹائیگر فش

ٹائیگر فش

بچو! آپ نے گزشتہ شمارہ میں سست اور کاہل جانور سلوٹھ کے بارے میں معلومات حاصل کی تھیں اب کی بار آپ کو ایک خوفناک اور سخت حملہ آور مچھلی کے بارے میں بنیادی باتیں بتائیں گے اس تیز و تند حملہ آور خوفناک مچھلی کا نام گولیاتھ ٹائیگر فش ہے جو جنوبی آفریقہ کی ندیوں اور پینے کے پانی کی جھیلوں میں پائی جاتی ہے۔ اس مچھلی کا سائینسی نامHydrocynus Goliathبتایا جاتا ہے۔ اس مچھلی کو گولیاتھ ٹائیگر فش یا گیانٹ ٹائیگر فش بھی کہا جاتا ہے۔ یہ خطرناک مچھلی دریائے کانگو کے طاس کے بشمول لالباندی اور اپمبا جھیل میں بکثرت دیکھی گئی ہے۔ اس مچھلی کے خوفناک دانت آگے کی جانب ہوتے ہیں۔5فیٹ لمبی گولیاتھ ٹائیگر فش کا وزن تقریباً55کیلو ہوتا ہے۔ ٹائیگر فش میں ایک اور قسم پائی جاتی ہے جس کا وزن گولیاتھ سے تھوڑا کم ہوتا ہے۔ ٹائیگر فش واحد آبی جانور ہے جو مگر مچھ سے نہیں ڈرتی۔مقامی افراد کا کہنا ہے کہ یہ مچھلی‘کبھی کبھی انسانوں پر بھی حملہ کرتی ہے۔اس مچھلی کی پشت کا رنگ زیتونی ہوتا ہے اور اس کے نچلے حصہ کا رنگ سیاہ ہوتا ہے اس کے منہ میں32نوکیلے دانت ہوتے ہیں جو تیز ہوتے ہیں۔ہر ایک دانت ایک انچ لمبا ہوتا ہے۔ دونوں جبڑوں کے کنارے دانت ترتیب سے پائے جاتے ہیں۔دونوں جبڑے جب قوت سے شکار کو دباتے ہیں تو تیز دھار جیسے دانت‘اس شکار کو دو تکڑے کردیتے ہیں۔ٹائیگر فش کی ایک کمزوری یہ ہے کہ وہ پانی کے دھارے کے خلاف بہتر طور پر تیر نہیں سکتی۔ اس کی حیات کا دورانیہ10تا15سال بتایا جاتا ہے۔ ٹائیگر فش کا شکار کرنا بہت مشکل ہے مگر اس کے باوجود مچھلیوں کے شکار کے خواہشمند افراد بڑی مشکل کے بعد اسے پکڑنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ٹائیگر فش کو پرانہا فش سے زیادہ خطرناک کہا جاتا ہے پرانہا(Piranha) فش کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ چند منٹوں میں بڑی مچھلی کو چٹ کر جاتی ہے صرف ٹائیگر فش کا ڈھانچہ چھوڑ دیتی ہے اگر پرانہا فش کا غول‘ انسان پر ٹوٹ پڑے تو چند منٹوں میں انسان کا گوشت یہ ہضم کر جاتی ہیں۔ اس کے جسم پر سیاہ گول چھلکے پائے جاتے ہیں جو لمبائی میں قطار میں ہوتے ہیں ان سیاہ چھلکوں کا سلسلہ گلھپڑوں سے شروع ہو کر دُم تک رہتا ہے یہ مچھلی دیکھنے میں جتنی خوبصورت دکھائی دیتی ہے اتنی ہی خطرناک ہوتی ہے۔
اقوال زریں
v نیکی وہ راستہ ہے جس پر انسانیت اپنے قدم جماتی ہے۔vنیکی وہ شبنم ہے‘ جس کے قطرے موتی بن کر انسانیت پر چھلکتے ہیں۔vعلم ایسی خوشبو ہے کہ جو انسان کے ذہن کو ہمیشہ معطر رکھتی ہے۔vعلم ایسی لاٹھی ہے جو بے سہارا کو سہارا کا کام دیتی ہے۔vعلم ایسی روشنی ہے جو بھٹکے ہوئے انسانوں کو صحیح راہ کی رہنمائی کرتی ہے۔v علم وہ دولت ہے جسے کوئی سرقہ نہیں کرسکتا یہ باٹنے سے بڑھتا ہے کم نہیں ہوتا۔vدل کو ارادے کی نیت سے‘دماغ کو تدبیر کی نیت سے‘ اور جسم کو عمل کی نیت سے کام میں لانا چاہیئے۔vنیک دل انسان‘صندل کی لکڑی کے مانند ہوتا ہے جو کلہاڑی اُسے کاٹتی ہے‘ اسے بھی خوشبودار کردیتی ہے۔vانسان خود قابل اعتبار نہیں ہوتا اس کا کردار اُسے قابل بنا دیتا ہے۔vدل جیتنے کیلئے خوبصورت رویہ اور بہترین کردار کی ضرورت رہتی ہے۔v جلد بازی حماقت ہے یہ انسان کی بد ترین دشمن ہے۔vدشمن سے زیادہ خطرناک وہ ہے جو دوست بن کر دھوکہ دے۔vوقت کی قدر کریں کیونکہ گیا وقت دوبارہ ہاتھ آتا نہیں۔vلوہا صرف لڑائی کے وقت سونا سے زیادہ بہتر سمجھا جاتا ہے لیکن عقل ہر جگہ اور ہر موقع پر سونے سے زیادہ قیمتی ہوتی ہے۔

Comments

comments