Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » قارئین کے خطوط » قارئین کے خطوط
قارئین کے خطوط

قارئین کے خطوط

مکرمی ایڈیٹر صاحب ماہ نامہ’’ وقارِ ہند‘‘ السلام علیکم
میں ماہنامہ’’ وقارِ ہند‘‘ کا پرستار ہوں اور ہر ماہ پابندی سے پڑھتا ہوں۔ مارچ کے تمام مضامین کافی اچھے تھے۔اب دیکھا یہ جارہا ہے کہ ماہنامہ میں شائع تمام مضامین پہلے سے ہی مختلف اُردو اخبارات میں شائع ہوجاتے ہیں۔ آج کل اُردو اخبارات خبروں کے ساتھ ساتھ مختلف دلچسپ مضامین‘خواتین کا صفحہ‘بچوں کا صفحہ اور سیاسی مضامین شائع کرتے ہیں تو ایسے میں لوگ میگزین پڑھنے سے زیادہ اخبار کو ترجیح دیتے ہیں ۔ میں آپ سے ادباً گذارش کرتا ہوں کہ آپ اس ماہنامہ کو روزنامہ میں تبدیل کردیں تا کہ عوام نہ صرف آپ کے اخبار کو ہاتھوں ہاتھ لے لیں گے بلکہ ایک معیاری اخبار پڑھنے کو ملے گا ۔ امید ہے کہ آپ میری اس تجویز پر غور کریں گے۔
سید نثار‘سلیم نگر کالونی‘حیدرآباد
مکرمی ایڈیٹر صاحب!
السلام علیکم میں آپ کے میگزین کا ایک دیرینہ قاری ہوں‘ جب سے آپ کا میگزین شائع ہورہا ہے تب سے باقاعدگی سے اس کا مطالعہ کررہا ہوں۔بہترین طباعت‘تزئین اور سلگتے موضوعات پر آپ کے میگزین کا کوئی ثانی نہیں ہے۔ ہر مہینہ اس کا بے چینی سے انتظار رہتا ہے لیکن میں پہلی مرتبہ اپنا قلم اُٹھانے کی جرأت اس لئے کررہا ہوں کہ اتنے شاندار میگزین میں اگر کہیں کوتاہی یا خامی دکھائی دے تو ہم جیسے قارئین کا دل رونے لگتا ہے۔میں سیاسیاست کے کالم بغور پڑھتا ہوں۔رشید انصاری مسلمانوں کے مسائل اور ان کی ذمہ داریوں پر کافی روشنی ڈالتے ہیں اور ان کی رہنمائی کرتے ہیں تا ہم گزشتہ چند مہینوں سے ان کے کالم میں ایک جیسے انداز میں ان کے مضامین شائع ہورہے ہیں۔ اس پر توجہ ضروری ہے۔
محمد علی خاں بارہ بنکوی ‘یوپی
مکرمی مدیر’’وقارِ ہند‘‘ السلام علیکم !
ان دنوں’’ وقارِہند‘‘ کا ہر شمارہ پچھلے شمارہ کے مقابلے روز افزوں ترقی پر ہے۔نئے شمارہ کا کو ئی جواب نہیں ہے سرورق‘ مسلم اتحاد کی وکالت کرتا ہے تو وہیں اداریہ‘فتنہ پروروں سے چوکسی کا مشورہ دیتا ہے۔ طارق فتح کا نیا فتنہ سے متعلق اداریہ بہت پسند آیا واقعی آپ نے صحافتی غیر جانبداری کا ثبوت دیتے ہوئے بہت بے باکانہ انداز میں قلم اُٹھایا ہے جو لائق تحسین اقدام ہے۔اسلامیات کے مضامین جو خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیقؓ سے متعلق ہیں بہت پسند آئے ہیں۔ شمارہ کے دیگر گوشوں کے مضامین بھی اچھے تھے ۔ ’’وقارِہند‘‘ کا وقار ہر شمارہ میں وقار کے ساتھ بڑھ رہا ہے جو اُردو دُنیا کے قارئین کیلئے حوصلہ افزاء بات ہے۔
لبنیٰ کبیر۔ نانڈیڑ
محترمی عظیم الرحمن مدیر اعلیٰ’’ وقارِ ہند‘‘ حیدرآباد
سلام دعا کے بعد عرض ہے کہ آپ کے رسالے میں (مارچ 2017) قیصر واحدی کی جہاں تعریف کے خطوط آئے ہیں وہیں ایک صاحب نے اپنی ناراضگی کا اظہار بھی کیا ہے تو آپ سے عرض کرو کہ قیصر واحدی افسانوی ادب میں کامٹی کے سب سے اہم قلمکار ہیں جو ہندوستان کے معیاری میگزین اور رسالوں میں1972 سے بالترتیب شائع ہوتے رہے ہیں اور آج بھی ان کے نئے افسانے کسی حقیقت کا لبادہ پہنے شائع ہورہے ہیں۔ان کا قلم اس بات کا غماز ہے کہ اللہ تبارک تعالیٰ نے یہ صلاحیت ان میں دی ہے اور وہ شاعری میں بھی اپنا لوہا منوا رہے ہیں ان کی دیڑھ سو سے زیادہ غزلیں شائع ہوچکی ہیں۔ افسانوں میں بھی ان کی شہرت اپنی مثال آپ ہے۔ سلگتے حالات پر قلم اُٹھانا اور اس پر ضرب لگانا بچوں کا کھیل نہیں ہے۔حالانکہ وہ غریب ضرور ہیں لیکن رسالوں میں جتنے شائع ہوتے ہیں اس میں وہ سب سے امیر آدمی ہیں خودداری اور ایمانداری بھی ا ن میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی ہے۔’’وقارِ ہند‘‘ میں شائع ہونیوالے وہ سب سے واحد شخص ہیں۔ا ن سے جمال احمد جمال نے فائدہ اُٹھایا ہوگا اور ہمدردی کے ناطے ان کی سفارش سے آپ نے ’’وقارِ ہند‘‘ میں جگہ دی ہوگی جہاں تک یہ اندیشہ ہے کسی ایسے شخص سے ناراض ہونا عقلمندی نہیں۔ ان کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیں ؂
دھوپ میں رہو یا چھاؤں میں یاد رکھنا مجھے دعاؤں میں
محمد نثار۔کامٹی
چیف ایڈیٹر صاحب’’ وقارِ ہند‘‘
السلام علیکم! مارچ2017کے رسالہ میں قیصر واحدی کا افسانہ ’’ اور صبح ہوگئی‘‘ بہت پسند آیا۔ آج کل سرکار طلاق کے مسئلے پر کچھ تبدیلی لانا چاہتی ہے۔ افسانہ میں جس طرح شوہر اپنی اہلیہ کو جس طرح چھوڑتا جاتا ہے اور یکے بعد دیگر نکاح کر کے اپنی زندگی کو اچھا بناتا ہے مگر پھر اُسے چھوڑ کر شادی پر شادی کرتا ہے اور آخر میں کمسن لڑکی سے شادی رچاتا ہے وغیرہ اگر اس کہانی یا اس افسانہ کو دُنیا کی نظر سے دیکھا جائے جو جھوٹ اور مکاری پر مبنی ہے تو قیصر واحدی کا یہ افسانہ جرأت مندی کی ایک دلیل ہے اور یہ دلیل آج کے مفتی‘قاضی اور نکاح پڑھانے والوں کیلئے بھی ایک سبق ہے اور ان لوگوں کیلئے بھی ایک شدید سبق ہے جو ایسی شادیوں میں محض اسلئے شریک ہوتے ہیں کہ اچھے پکوان کا ذائقہ لے سکیں۔ دعائیں کیا ایسے لوگوں کی مقبول ہوگی؟ جو اللہ اور رسولؐ کے بنائے ہوئے قواعد اور قانون کی بے توجہی کریں۔ آپ جیسے مدیر واحدی جیسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کررہے ہیں یہ بھی بڑی جرأت ہے۔
محمد سعید‘ مالوہ یو پی
مکرمی عظیم الرحمن صاحب!
السلام علیکم امید ہے کہ خیریت سے ہوں گے نئے شمارہ کے مکمل آب و تاب کے ساتھ منظر عام پر آنے سے دلی خوشی ہوئی۔ تما م گوشوں کے مضامین معیاری اور معلوماتی رہے ادب میں مجتبیٰ حسین کے مضامین کا سلسلہ جاری رکھیں۔دلچسپ دُنیا‘ اسلامیات‘لائف اسٹائل‘تاریخ وسیاحت‘فلم وٹی وی‘گوشہ نسواں کے مضامین بھی بہت پسند آئے۔اللہ سے دعا ہے کہ مستقبل میں اس خوبصورت رسالہ کو نظر بد سے بچائے (آمین)
سدرہ جبین نشرح ترنم۔پدا پلی
جناب ایڈیٹر۔ آداب!
ماہنامہ’’ وقارِ ہند‘‘ کے شمارے وصول ہورہے ہیں نئے شمارے کے تقریباً مضامین معیاری رہے۔ سیاسیاست کے مضامین اچھے لگے۔خصوصی رپورٹ بھی بہتر رہی۔ اسلامیات کے مضامین کو انتہائی معلوماتی پایا جبکہ سرمایہ ادب کے مقالے بالخصوص مجتبیٰ حسین کا انداز اسلوب اچھا لگا میری دانست میں’’ وقارِ ہند‘‘ ایک جریدہ ہی نہیں بلکہ معلومات کا ایک حسین گلدستہ بھی ہے۔
واجد علی خان۔اورنگ آباد
ڈیر ایڈیٹر!
تسلیمات!’’ وقارِ ہند‘‘ کا تازہ ومارچ2017 کا شمارہ وصول ہوا‘پڑھ کر طبیعت بے حد خوش ہوگئی۔ظاہری و معنوی ہر حیثیت سے’’ وقارِ ہند‘‘ اپنی ترقی کی راہ متعین کر لی ہے۔ اشاعت کے پانچ سال کی تکمیل کسی بھی رسالہ‘جریدہ کیلئے اہمیت کے حامل ہوتے ہیں۔ اس دوران آپ نے بھی کئی نشیب و فراز دیکھے ہیں ۔ یقیناًاُردو میگزین وہ‘ بھی’’ وقارِ ہند‘‘ کی اشاعت کا بیڑہ اُٹھانا‘فی زمانہ‘جوئے شیر لانے سے کم نہیں ہے۔ سائنس ‘ تاریخ اور سیاحت ‘ کھیل‘گوشہ نسواں کے مضامین نہ معیاری بلکہ معلوماتی ہوتے ہیں۔سرمایہ ادب کے تحت شائع ہوچکے مضامین‘ دستاویزی اہمیت کے حامل ہیں۔ بالخصوص مجتبیٰ حسین کے مضامین کا گھر کے جملہ افراد مطالعہ کرتے ہیں۔یہ میگزین واقعی بے حد معلوماتی ہے۔ ’’ وقارِہند‘‘ کی وقت پر اشاعت اور اس کی ترسیل میں آپ اور اس کی ٹیم کی کاوشیں لائق تحسین ہیں۔
ظفر محی الدین‘ حیدرآباد

Comments

comments