Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » ادب » پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کروگے
پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کروگے

پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کروگے

میر تقی میرؔ
’’پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کروگے‘‘

میر تقی میر اصل نام میر محمد تقی اُردو کے عظیم شاعر تھے۔ میر ان کا تخلص تھا۔ اُردو شاعری میں میر تقی میرؔ کا مقام بہت اونچا ہے ۔ انہیں ناقدین و شعرائے متاخرین نے خدائے سخن کے خطاب سے نوازا۔ وہ اپنے زمانے کے ایک منفرد شاعر تھے۔میر تقی میرؔ ‘ آگرہ میں 1723 میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام محمد علی تھا لیکن علی، متقی کے نام سے مشہور تھے۔
خود میرؔ نے اپنی شاعری کے بارے میں کہا ہے مجھ کو شاعر نہ کہو ‘میر کا غم آفاقی نوعیت کا ہے جس میں غم عشق سے لے کر غم دنیا کا احوال موجود ہے۔ انہوں نے جو کچھ محسوس کیا بڑی صداقت کے ساتھ دُنیا کے سامنے پیش کر دیا۔ ان کی شاعری اپنے تجربات اور احساسات کاصحیح اور سچا اظہار ہے ۔ ان کے اشعار جو بھی پڑھتا ہے اس کے دل میں اُتر جاتے ہیں۔میرؔ کی شاعری ہندی اور ایرانی تہذیب کی آمیزش کی بہترین مثال ہے۔ ان کے ہاں فارسی تراکیب کے ساتھ ساتھ ہندی کا ترنم اور موسیقیت بھی ملتی ہے۔بابائے اُردو عبد الحق نے میر تقی میرؔ کے بارے میں یوں کہا ہے۔ ’’انہوں نے سوز کے ساتھ جو نغمہ چھیڑا ہے اس کی مثال دنیائے اُردو میں نہیں ملتی۔‘‘ہر شاعر اپنے ماحول کی پیداوار ہوتا ہے۔ اس کے اردگرد رونما ہونیوالے واقعات‘ حادثات ‘اس کی ذاتی زندگی میں پیش آنیوالے تجربات اور اس سلسلے میں اس کے تاثرات ہی دراصل اس کی شاعری اور فن کے رُخ کا تعین کرنے میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ ماحول اور معاشرے کی تبدیلیوں کیساتھ ساتھ لاشعوری طور پر شاعر اپنی فکر کا رُخ موڑتا چلا جاتا ہے اور یوں اس کی شاعری وقت کی رفتار کیساتھ بدلتی رہتی ہے۔
میر تقی میرؔ ایک ایسے عہد میں پیدا ہوئے جو سیاسی ‘سماجی‘ملکی اور معاشی اعتبار سے سخت انتشار اور افراتفری کا دور تھا۔ مغل حکومت کمزور پڑ چکی تھی۔ ہندوستان کے بہت سے صوبے خود مختار ہو چکے تھے پورا ملک لوٹ ما ر کا شکار تھا۔ بیرونی حملہ آور آئے دن حملے کرتے تھے او ر عوام و خواص کو تباہ و برباد کرکے رکھ دیتے۔ لوگ بھوکے مرنے لگے اور دولت لٹنے سے اقتصادی بدحالی کا دور شروع ہوا۔میرؔ اپنے اس دور کے احساس زوال اور انسانی الم کے مظہر ہیں۔ ان کی شاعری اس تما م شکست و ریخت کے خلاف ایک غیر منظم احتجاج ہے۔میرؔ کا تصور ‘زندگی کے بارے میں بڑا واضح ہے کہ ان کا زندگی کی بارے میں نقطہ نظر حزنیہ تھا ۔ حزن ایک ایسے غم کا نام ہے جو اپنے اندر تفکر اورتخلیقی صلاحیتیں بھی رکھتا ہے۔ یہ غم ذاتی مقاصد اور ذاتی اغراض کا پرتو نہیں رکھتا۔ اس غم میں تو سوچ ‘ غور و فکر اور تفکر کو دخل ہے۔ میرؔ کے متعلق یہ کہنا بھی درست نہیں کی کہ میرؔ قنوطی شاعر ہیں یا محض یاسیت کا شکار ہیں۔ محض یاس کا شاعر ہونا کوئی بڑی بات نہیں‘ اصل بات تو یہ ہے کی انسان یاس و غم کا شکار ہونے کے باوجود زندگی سے نباہ کیسے کرتا ہے۔ یہی نباہ اس کا تصور زندگی کی تشکیل دیتا ہے۔ میرؔ کا تصورِ زندگی مایوس کن نہیں صرف اس میں غم و الم کا ذکر بہت زیادہ ہے۔ مگر یہ غم و الم ہمیں زندگی سے نفرت نہیں سکھاتا بلکہ زندہ رہنے کا حوصلہ عطا کر تا ہے۔ اس میں زندگی کی بھرپور توانائی کا احساس ہوتا ہے۔
میرؔ نے غم عشق اور اس کے ساتھ غم زندگی کو ہمارے لئے راحت بنا دیا ہے۔ وہ درد کو ایک سرور اور الم کو ایک نشاط بنا دیتے ہیں۔ میر کے کلام کے مطالعہ سے ہمارے جذبات و خیالات اور ہمارے احساسات و نظریات میں وہ ضبط اور سنجیدگی پیدا ہوتی ہے جس کو صحیح معنوں میں تحمل کہتے ہیں۔میر ؔ کے ہاں دردمندی ان کے فلسفہ غم کا دوسرا نام ہے۔ اگرچہ لفظ فلسفہ انہوں نے استعمال ہی نہیں کیا‘ مگر اس سے مراد ان کی یہی ہے۔ دردمندی سے مراد زندگی کی تلخ حقیقتوں کا اعتراف و ادراک اور مقدور بھر ان تلخیوں کو دور کرنے کی کوشش کا نام ہے۔ یہ دردمندی ان کی زندگی کے تضادات سے جنم لیتی ہیں۔ دردمندی کا سرچشمہ دل ہے۔میرؔ کا دور شدید ابتری کا دور تھا۔ زندگی کے مختلف دائروں کی اقدار کی بے آبروئی ہو رہی تھی۔ انسانی خون کی ارزانی‘ دنیا کی بے ثباتی اور ہمہ گیرانسانی تباہی نے انسانوں کو بے حد متاثر کیا۔ میرؔ اس تباہی کے محض تماشائی نہ تھے بلکہ وہ خود اس تباہ حال معاشرہ کے ایک رکن تھے۔ جو صدیوں کے لگے بندھے نظام کی بردبادی سے تسبیح کے دانوں کی طرح بکھر کر رہ گیا تھا۔ اوراب اس کو جوڑنا ممکن نہ رہا تھا۔ میرؔ نے اس ماحول کے اثرات شدت سے محسوس کئے ہیں۔ ان کی غزلوں میں اس تباہی کے نقوش ملتے ہیں۔ لٹے ہوئے نگروں ‘شہروں اور اجڑی ہوئی بستیوں کے حالات ‘ بجھے ہوئے دلوں کی تصویریں‘ زمانے کے گرد و غبار کی دھنڈلاہٹیں‘تشبیہوں اور استعاروں کی شکل میں میرؔ کے ہاں موجود ہیں۔
ان کا کمال فن یہ ہے کہ وہ مختلف خیالات کے اظہار کیلئے مختلف بحروں کا انتخاب کرکے نغمگی پیدا کرتے ہیں۔ فارسی مروجہ بحروں کے استعمال کے ساتھ ساتھ میرؔ نے ہندی کے پنگل کو اُردو غزل کے مزاج کا حصہ بنا کر ہم آہنگی کی صورت دینے کی کوشش کی ہے۔ ا س کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کی شاعری میں بڑی کیف آور اور اثر انگیز غنائیت و موسیقی پیدا ہوتی ہے۔میر ؔ کی شاعری کے فکری عناصر میں متصوفانہ رنگ خاص طور پرقابل ذکر ہے۔میرؔ کے ہاں عشق آداب سکھاتا ہے۔ محبوب کی عزت و تکریم کا درس دیتا ہے۔ اگرچہ اس کا انجام ہمیشہ المیاتی اور دردناک ہوتا ہے پھر بھی میر ؔ کو اس عشق سے پیار ہے۔ یہ عشق ان کی زندگی کا حاصل ہے۔ اسی عشق سے میرؔ نے زندگی کا سلیقہ اور حوصلہ سیکھا ہے۔ 85سال کی عمر میں ان کی وفات 20 ستمبر 1810 کو لکھنو میں ہوئی۔ میر تقی میرؔ کے چند اشعار قارئین ’’ وقارِ ہند‘‘ کیلئے پیش ہیں۔
میرے مالک نے مرے حق میں یہ احسان کیا
خاک ناچیز تھا میں سو مجھے انسان کیا
ہستی اپنی حباب کی سی ہے
یہ نمائش سراب کی سی ہے
ناز کی اس کے لب کی کیا کہیے
پنکھڑی اک گلاب کی سی ہے
سر زد ہم سے بے ادبی تو وحشت میں بھی کم ہی ہوئی
کوسوں اُس کی اور گئے‘پر سجدہ ہر ہر گام کیا
عشق اک میرؔ بھاری پتھر ہے
کب یہ تجھ ناتواں سے اُٹھتا ہے
وہ آئے بزم میں اتنا تو میرؔ نے دیکھا
پھر اُس کے بعد چراغوں میں روشنی نہ رہی
اب کر کے فراموش تو ناشاد کرو گے
پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کرو گے

Comments

comments