Monday , 24 September 2018
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » ہندوستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کی مستقل رکنیت
ہندوستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کی مستقل رکنیت

ہندوستان کو شنگھائی تعاون تنظیم کی مستقل رکنیت

ایک براعظم یا ایک مخصوص علاقہ کے ممالک پر مشتمل اتحاد یا گروپ کے قیام کا مقصد علاقائی مسائل کو آپسی تعاون اور مشاورت کے ذریعہ حل کرتے ہوئے مشترکہ خطرے سے نمٹنا اور ایک دوسرے کے مفادات کا خیال کرتے ہوئے ترقی کی راہ ہموار کرنا ہوتا ہے۔ اس مقصد کے تحت جنوبی ایشیائی ممالک کی جانب سے’’ سارک‘‘ کا قیام عمل میں لایا گیا تھا۔ ان ہی بنیادوں پر چین اور روس کے درمیان واقع وسطی ایشیائی ممالک کے اتحاد کو جس میں چین اور روس بھی شامل ہیں شنگھائی تعاون تنظیم کا نام دیا گیا۔2001میں علاقائی مفادات کا تحفظ‘سکیوریٹی اور تجارتی مقاصد کے تحت شنگھائی میں چین ‘ازبکستان‘تاجکستان‘قازقستان‘کرغزستان اور روس پر مشتمل اس گروپ میں مبصر کی حیثیت سے علاقہ کے دوسرے ممالک کو بھی شرکت کیلئے مدعو کیاگیا جن میں ہندوستان بھی شامل تھا۔ 2005میں مبصر کی حیثیت سے اس گروپ میں شامل ہونے والے ہندوستان نے2014میں اس گروپ کی مستقل رکنیت کیلئے درخواست داخل کی تا ہم چین کی مخالفت کی وجہ سے یہ معاملہ التواء کا شکار رہا۔ روس ہندوستان کو مستقل رکن بنانے کیلئے بھر پور تائید دے رہا تھا جبکہ چین اس گروپ میں شمولیت کیلئے پاکستان کی حمایت کررہا تھا دو حریف ممالک کی اس نئے گروپ میں شمولیت کیلئے اس وقت راہ ہموار ہوئی جب تنظیم کے رکن ممالک نے دونوں کو مستقل رکنیت دینے سے اتفاق کر لیا ۔آستانہ میں منعقدہ چوٹی اجلاس میں وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کے پاکستانی ہم منصب نواز شریف موجود تھے لیکن دونوں نے روایتی دوری برقرار رکھی صرف ایک موقع پر مصافحہ کر کے رسمی کلمات اداکئے ۔ ہندوستان اور پاکستان کی اس گروپ میں شمولیت کے بعد اس گروپ کودُنیا کی آبادی کا 43 فیصد حصہ کی نمائندگی کرنے کا اعزاز حاصل ہوگیا ہے۔
علاقائی تعاون کیلئے بنائی گئی تنظیموں کا اگر ہم جائزہ لیں تو سب سے پہلے نام یوروپی یونین کا آتا ہے جو26 مملکت پر مشتمل ہے اور اس گروپ کی مشترکہ کرنسی یورو ہے۔ دوسری تنظیم ہے ناٹو جو امریکہ اور اس کے یوروپی حلیفوں پر مشتمل ہے اس گروپ نے ابھی تک زیادہ تر عسکری مہمات ہی انجام دی ہیں ان کے علاوہ جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی تنظیم(آسیان) ہیے دُنیا کی چاراُبھرتی معیشتوں برازیل ‘ روس‘چین‘ جنوبی آفریقہ اورہندوستان نے مل کر ایک گروپ برکس بنایا ہے جبکہ ہندوستان‘برازیل‘جنوبی آفریقہ پر مشتمل ایک گروپ ہے جس کوالسبا کہتے ہیں ۔ سارک کا تذکرہ اوپر آیا ہے جس میں ہند۔پاک‘نیپال‘بنگلہ دیش‘بھوٹان‘سری لنکا اور افغانستان شامل ہیں ان گروپوں کی تشکیل کے مقاصد الگ الگ ہیں تا ہم ان میں سے چند ایک گروپس کو ہی اقوام متحدہ کی رائے عامہ حاصل ہے ان میں معاشی اعتبار سے یوروپی یونین اور عسکری اعتبار سے ناٹو کو مضبوط موقف حاصل ہے۔ شنگھائی تعاون تنظیم کو بھی چین اور روس ناٹو کا متبادل بنانا چاہتے ہیں۔دیگر علاقائی گروپس جیسے سارک کی اہمیت خود رکن ممالک نے کم کردی ہے۔ شنگھائی تعاون کونسل میں ایران کو بھی شامل کئے جانے کا منصوبہ تھا لیکن اقوام متحدہ کی پابندیوں کی وجہ سے ایسا نہ کیا جاسکا۔ منگولیا اس خطہ کا ایسا ملک ہے جس نے اس میں شمولیت میں کوئی دلچسپی نہیں دکھائی ہے جو ممالک ایس سی او کے رکن ہیں ان کی تعداد اب 8ہوگئی ہے ان میں سے 5 ممالک مسلم ہیں۔علاقائی و جغرافیائی لحاظ سے اگرچہ ان ممالک کے حالات الگ الگ ہیں تا ہم ہندوستان کی جانب سے اس گروپ میں شمولیت کو ترجیح دینے کی اہم وجہ یہ ہے کہ وہ وسطیٰ ایشیائی ممالک میں توانائی کی دولت سے استعفادہ کرنا چاہتا ہے اس کے علاوہ مستقل رکنیت سے ہندوستان پر ان ممالک کے تجارت کے دروازے کھل جائیں گے یہی وجہ ہے کہ آستانہ میں ایس سی او کے چوٹی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے اس کو ایک تاریخی موقع قرار دیا ہے۔
ہندوستان کی اس علاقائی گروپ میں شمولیت کی مسرت اس وقت تشویش میں تبدیل ہوگئی جبکہ چین کے دباؤ کی وجہ سے پاکستان کو بھی مستقل رکنیت دینے کا فیصلہ کیا گیا۔ ہندوستان میں دہشت گردی خصوصاً کشمیر کیلئے جدوجہد کرنے والی تنظیموں کو تائید و مدد کرنے پر مودی حکومت نے پاکستان پر مذاکرات کے راستے بند کردیئے ہیں۔ حالیہ عرصہ میں خصوصاً ممبئی دہشت گرد حملوں کے بعد سے دونوں ممالک میں مذاکرات کے احیاء کی کوئی صورت نظر نہیں آتی ہے جب بھی دونوں ممالک کے درمیان ذرا لچک پیدا ہوتی ہے تو کوئی نہ کوئی واقعہ ایساپیش آتا ہے جس سے امیدوں پر پانی پھر جاتا ہے۔ پٹھان کوٹ حملے کے بعد جموں و کشمیر میں خط قبضہ کے پار ہندوستان کی سرجیکل اسٹرائیک اور اس کے بعد سے سرحد پر جنگ بندی کی مسلسل خلاف ورزی‘در اندازی کوششوں میں اضافہ‘کشمیر میں احتجاج میں شدت ایسے حالات ہیں جنہوں نے دونوں ممالک کو قریب آنے سے سختی سے روک رکھا ہے۔ ایسے میں دونوں ممالک کے قائدین پہلے کسی بین الاقوامی اجلاس میں شرکت کے موقع پر مذاکرات کی راہ ہموار کرنے کیلئے غور و فکر کرنے باہمی ملاقاتیں کرتے تھے لیکن اب انہوں نے ایک دوسرے کو نظر انداز کرنا شروع کردیا ہے۔ آستانہ میں بھی یہی کیفیت دیکھنے میں آئی اگرچہ مودی نے ایک دعوت کے موقع پر اپنے پاکستانی ہم منصب سے ان کی مزاج پرسی کی۔
ہندوستان نے پاکستان کو سفارتی سطح پر یکا و تنہا کرنے کیلئے گزشتہ سال اسلام آباد میں ہونے والی سارک کانفرنس کا نہ صرف خود بائیکاٹ کیا بلکہ خطہ کے دوسرے ممالک کو بھی اس کی تائید کرتے ہوئے کانفرنس کے بائیکاٹ کیلئے راضی کر لیا۔ دونوں ممالک کی اس دشمنی نے سارک کی اہمیت کو ختم کر کے رکھ دیا ہے۔ اب ایس سی او چین دونوں ممالک کیا کریں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔شنگھائی تعاون تنظیم پر ابھی تک چین کااثر و رسوخ ہے کم سے کم پاکستان کی اس گروپ میں شمولیت سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔روس اور ہندوستان کے ماضی میں جو تعلقات تھے ان میں اب پہلے جیسی گرمجوشی نظر نہیں آتی دوسری طرف افغانستان کے تلخ تجربے کے باوجود پاکستان اور روس کی دوستی میں اضافہ دیکھا جارہا ہے ان حالات میں ہندوستان دُنیا کو جو باور کرانا چاہتا ہے کہ پاکستان دہشت گردی کا سرمایہ کار اور سرپرست ہے اس کو مدد نہیں مل رہی ہے ۔ معاشی مفادات کی وجہ سے چین پاکستان کے خلاف نہیں جاسکتا۔ایسے میں اس گروپ میں ہندوستان کو زیادہ اہمیت ملنے کا امکان نہیں ہے اس گروپ کے دیگر ممالک جن کا تعلق وسطیٰ ایشیا سے ہے پاکستان سے اچھے تعلقات رکھتے ہیں بلکہ وہ اپنے اپنے ممالک کی جنوبی سرحدوں سے دہشت گردوں کو نکال باہر کرنے کیلئے پاکستان سے تعاون طلب کررہے ہیں۔یہ ممالک ایس سی او کو ناٹو کے طرز پر ایک سکیوریٹی گروپ میں بھی تبدیل کرنے کیلئے کوشاں ہیں۔اس سلسلہ میں یہ ممالک ایک دوسرے کی فوجوں کے ساتھ جنگی مشقیں بھی کرتے ہیں۔سوال یہ ہے کہ گروپ کے دو نئے ممالک ہند۔پاک آپسی دشمنی کے باوجود کیا مشترکہ فوجی مشقیں کریں گے ۔ کیا یہ دو ممالک دہشت گردی کے خلاف لڑائی میں ایک دوسرے کو تعاون دیں گے جبکہ ہندوستان‘پاکستان کو دہشت گردی کا سرپرست قرار دیتا ہے اسلئے یہ بات سمجھ سے بالا تر ہے کہ ہندوستان نے پاکستان کی موجودگی کے باوجود اس گروپ کی مستقل رکنیت حاصل کرنے کا فیصلہ کیوں کیا ہے اس رکنیت سے ہندوستان کا فائدہ کم اور نقصان زیادہ نظر آتا ہے ایک ایسے گروپ میں جہاں اس کے دو پڑوسی اور حریف چین اور پاکستان موجود ہوں ہندوستان کے مفادات کا تحفظ کس طرح ہوسکتا ہے۔؟ وزیر اعظم نریندر مودی کی خارجہ پالیسی اُلجھن میں مبتلا کرنیوالی ہے ایک طرف وہ عرب ممالک سے رشتے مضبوط کرنا چاہتے ہیں تو دوسری طرف اسرائیل کے ساتھ تعلقات کو نئی بلندیوں پر لیجانے کی کوشش کرتے ہیں۔امریکہ کے صدر کو کبھی یوم جمہوریہ پریڈ کا مہمان خصوصی بناتے ہیں تو روس کے صدر کو بھی دعوت دیتے ہیں۔گزشتہ3برسوں کے دوران60ممالک کا دورہ کر کے مودی نے ہر ملک سے دوستی اور تعاون کے معاہدے کئے ہیں ان میں ایران بھی شامل ہے جس سے سعودی عرب کی شدید دشمنی چل رہی ہے۔ہندوستان غیر جانبدارنہ تحریک کا علمبردار ضرور رہا ہے لیکن ان کی خارجہ پالیسی میں ٹہراؤ تھا اب یہ بے سمت ہوتی نظر آرہی ہے جس سے دُنیا بھر میں ہندوستان کی ساکھ متاثر ہوسکتی ہے۔ وزیر اعظم نرسمہا راؤ نے لک ایسٹ پالیسی اختیار کی تھی نریندر مودی اس کو نئی بلندیوں پر لیجانے کی کوشش کررہے ہیں لیکن کیا وہ تمام ممالک سے دوستی کے تقاضوں کو پورا کر پائیں گے۔

Comments

comments