Saturday , 22 September 2018
بریکنگ نیوز
Home » انڈیا » ممبئی 1993 دھماکوں کے الزام میں ابو سالم قصوروار
ممبئی 1993 دھماکوں کے الزام میں ابو سالم  قصوروار

ممبئی 1993 دھماکوں کے الزام میں ابو سالم قصوروار

انڈورلڈ ڈان داؤود ابراہیم کے ساتھی اور مشہورگیانگسٹر ابو سالم کو ٹاڈا کی خصوصی عدالت نے 1993 میں ممبئی میں ہوئے سلسلہ وار بم دھماکوں کیلئے قصور وار قرار دیا ہے ابو سالم کے علاوہ ایک اور گیانگسٹر مصطفے دوسہ سمیت6افراد کو خاطی قرار دینے والی عدالت سزاؤں کا تعین کررہی ہے۔25سال پہلے مارچ کے مہینے میں ہوئے ان دھماکوں نے پوری ممبئی نگری کو دہلا کر رکھ دیا تھا جس کے بعد ہوئے بد ترین فرقہ وارانہ فسادات کے بعد شیو سینا کو اُبھرنے کا موقع مل گیا تھا ۔ 6ڈسمبر1992کو بابری مسجد ایودھیا میں شہید کردی گئی اور12 مارچ1993کو12مقامات پر یہ دھماکے ہوئے جس میں257افراد ہلاک اور713 افراد شدیدزخمی ہوگئے اور 27کروڑ روپے مالیتی املاک کو نقصان پہنچا۔ان دھماکوں کیلئے مقدمہ دو مرحلوں میں چلایا گیا۔پہلے مرحلے میں یعقوب میمن کو پھانسی کی سزا سنائی گئی جبکہ دوسرے مرحلے میں ابو سالم اور دیگر کو خاطی قرار دیا گیا ہے ابو سالم پر تگال چلا گیا تھا جہاں سے حکومت نے اس کوخصوصی معاہدے کے تحت واپس لایا۔ابو سالم کی حوالگی کے موقع پر حکومت نے پرتگال کی حکومت کو جو تیقن دیا تھا اس کی بنیاد پر ابو سالم کے خلاف لگائے گئے سخت الزامات واپس لے لئے گئے ابو سالم الفاری نے انڈر ورلڈ میں اپنی الگ پہچان بنائی تھی۔اُتر پردیش کے ضلع اعظم گڑھ کے سرائے میر میں ایک وکیل کے گھر جنم لینے والے ابو سالم کی ممبئی تک رسائی کی کہانی کسی فلم سے کم نہیں ہے۔ ابو سالم نے ایک ٹیکسی ڈرائیور کی حیثیت سے دہلی میں اپنی زندگی کی شروعات کی اس کے بعد1980کے دہے میں وہ ممبئی چلا آیا اندھیری میں ایک ٹیلی فون بوتھ چلاتے ہوئے اس کی ملاقاتیں چھوٹے موٹے مجرموں سے ہونے لگی اور وہ خود بھی جرائم کر نے لگا اسی دوران اس کی ملاقات دواؤد ابراہیم کے چھوٹے بھائی انیس سے ہوئی اور وہ ڈی گیانگ میں شامل ہوگیا۔بتایا جاتا ہے کہ وہ گیانگ کے ہتھیار ایک مقام سے دوسرے مقام پر منتقل کر تا تھا اسکے بعد شہر کے بلڈرس سے تاوان وصول کرنے کا کام کرنے لگا اور پھر بالی ووڈ پر اس کی نظر پڑی۔اس دوران ممبئی دھماکے ہوئے اور ٹائیگر میمن کے سارے خاندان پر اس کا الزام لگایا گیا۔ابو سالم اس وقت منظر عام پر آیا جب 1997 میں بالی ووڈ کے فلمساز گلشن کمار قتل کا واقعہ پیش آیا۔ چند ماہ بعد ہی پولیس نے اس پر ایک اور فلمساز راجیو رائے پر اقدام قتل کا مقدمہ درج کر لیا۔ داؤد ابراہیم کی غیر موجودگی میں ممبئی پر قبضہ کی لڑائی میں ابو سالم اور چھوٹاشکیل آمنے سامنے آگئے اور1998 میں داؤد گینگ کے ٹکڑے ہوگئے۔ ابو سالم پر بالی ووڈ کے کئی فلمسازوں بشمول سبھاش گھئی‘کرن جوہر سے رقومات وصول کرنیکا الزام ہے اسی کی وجہ سے اداکارہ مونیکا بیدی کو کئی فلموں میں کام دیا گیا۔ اسلئے وہ ہندوستان سے جاتے ہوئے مونیکا بیدی کو بھی اپنے ساتھ لے گیا اور2002میں گرفتار ہونے تک دونوں لزبن میں ایک دوسرے کے ساتھ ہی رہتے تھے۔مونیکا کو بھی ابو سالم کے ساتھ گرفتار کر کے ہندوستان لایا گیا۔ دونوں کو پرتگال کی عدالت نے فرضی دستاویزات کے الزام میں جیل کی سزا بھی سنائی ۔ یہ ابو سالم کی ہندوستان کے ہاتھ لگنے سے بچنے کی ایک چال تھی لیکن حکومت ہند کے دباؤ پر پرتگالی حکومت نے مختلف شرائط پر اس کو ہندوستان کے حوالے کردیا۔تب سے اب تک وہ جیل میں ہے اور اگر اس کو قید کی سزا ہوتی ہے تو وہ جیل سے جلد چھوٹ کر واپس آسکتا ہے لیکن اس کی زندگی کو خطرہ لاحق ہوجائیگا۔
جہاں تک دوسرے ملزم مصطفے دوسہ کا تعلق ہے اس پر آر ڈی ایکس کی سربراہی کا الزام ہے جس کو دھماکوں میں استعمال کیا گیا۔ مصطفے کو جس کا تعلق بھی ڈی گینگ سے ہے۔ مارچ 2003میں گرفتار کیا گیا تھا اس کے علاوہ جن دیگر ملزمین کو خاطی قرار دیا گیا ہے ان میں ریاض احمد صدیقی‘فیروز خان‘ محمد عابد مرچنٹ عرف طاہر تکیہ‘کریم اللہ شیخ ‘ شامل ہیں جبکہ ایک ملزم عبد القیوم شیخ کو ناکافی شواہد کی بنیاد پر رہا کردیا گیا ہے۔قیوم پر الزام تھا کہ وہ اس وقت ابو سالم اور مصطفے کے ساتھ تھا جب انہوں نے سنجے دت کے پاس ہتھیار رکھوائے تھے۔اس طرح 7 کے منجملہ6کو قصوروار قرار دیا گیا ہے لیکن ان دھماکوں کے اصل سازشی یا سرغنہ کہلانے والے داؤود ابراہیم کا کہیں پتہ نہیں ہے چھوٹا شکیل کو بھی انڈو نیشیا سے پکڑ کرلایا گیا ہے ۔ جہاں تک ممبئی میں ہوئے ان دھماکوں کا سوال ہے استغاثہ کے مطابق یکم جنوری1993کو ہوٹل پرسین دربار پانویل میں مصطفے دوسہ نے ایک اجلاس منعقد کیا تھا جس میں اس نے گیانگ کے منتخب افراد کو ٹائیگر میمن اور داوؤ ابراہیم کے درمیان دوبئی میں ہوئی بات چیت اور منصوبے سے آگاہ کیا ۔ 2فروری سے8 فروری کے درمیان ہتھیار اور بارود سمندر کے راستے لائے گئے۔آر ڈی ایکس رائے گڑھ ضلع میں اُتارا گیا ۔ 4مارچ کو تاج محل ہوٹل میں ٹائیگر میمن نے منصوبے کو قطعیت دینے اجلاس منعقد کیا۔7مارچ کو ایک اور اجلاس میں گروپس تشکیل دیئے گئے اور نشانوں کا انتخاب کیا گیا ۔ 10 مارچ کو اجلاس میں ٹائیگر میمن نے ہر ٹولی کو5ہزار روپے دیئے۔11مارچ کو حسینی بلڈنگ درگاہ اسٹریٹ ماہم میں آخری اجلاس منعقد ہوا۔اسی عمارت میں گاڑیوں میں آر ڈی ایکس بھرا گیا۔ یہ گاڑیاں میمن خاندان کے گیاریجس میں رکھی گئیں اور12مارچ کو ان گاڑیوں کو مقررہ نشانوں پر لے جا کر رکھ دیا گیا۔

Comments

comments