Thursday , 21 February 2019
بریکنگ نیوز
Home » بین الاقوامی » امریکا و کنیڈا » کیا امریکہ اپنا اثر کھورہا ہے؟
کیا امریکہ اپنا اثر کھورہا ہے؟

کیا امریکہ اپنا اثر کھورہا ہے؟

روس کے زوال کے بعد سے دُنیا کے واحد سوپر پاور کی حیثیت سے اب تک دبدبہ برقرار رکھنے والا امریکہ اب لگتا ہے کہ آہستہ آہستہ اپنا اثر و رسوخ کھو رہا ہے۔ روس کی تباہی اور تقسیم کے بعد سے امریکہ کی دُنیا بھر پر مکمل اجارہ داری ہوگئی تھی ۔دُنیا کے ہر معاملات میں اس کا عمل دخل بڑھ گیا تھا۔ اس اجارہ داری کی آڑ میں اس نے کئی ایک مسلم ممالک کو تباہ و برباد کیا۔بلا اجازت مختلف ممالک کے مسائل میں از خود در اندازی کرتے ہوئے ان کو اپنے فیصلے ماننے کیلئے مجبور کیا۔ لیکن اب جبکہ ولادیمیر پوٹین کی قیادت میں روس اور اس کا پڑوسی ملک چین ایک مضبوط معاشی و وفاعی طاقت بن کر اُبھر رہے ہیں جس کی وجہ سے دُنیا میں ایک مرتبہ پھر امریکہ اپنا اثر و رسوخ کھو رہا ہے۔ یو کرین کا معاملہ ہو یا شام کا تنازعہ پوٹین نے امریکہ کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیا۔ چین دُنیا کی ہر منڈی میں امریکہ کو مات دینے کی کوشش کررہا ہے۔ٹکنالوجی کے میدان میں وہ امریکہ سے کہیں آگے نکل گیا ہے۔ دُنیا بھر میں دہشت گردی کے خلاف جنگ کی آڑ میں امریکہ نہ مسلم ممالک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی بلکہ اس کا مقصد جمہوریت کے نام پر اپنی حلیف حکومتیں قائم کرنا تھا لیکن امریکہ کا یہ مقصد پورا نہ ہوسکا اس کے بر عکس افغانستان اور عراق کی جنگ میں اس کی معیشت بری طرح تباہ ہوگئی اس لئے وہ شام کے معاملے میں انجان بن گیا۔ مغربی و مشرقی ایشیاء کے ممالک اب امریکہ کے بجائے روس اور چین کی طرف دیکھ رہے ہیں۔
گزشتہ دنوں جب اوباما جی20کانفرنس میں حصہ لینے چین پہنچے تو جس سرد مہری کے ساتھ ان کا استقبال کیا گیا اس پر ساری دُنیا میں ایک بحث چھڑ گئی ہے۔ دیگر ممالک کے قائدین کے استقبال کی طرح چین نے اوباما کیلئے نہ تو سرخ قالین بچھایا اور نہ سیڑھی فراہم کی۔اوباما اپنے ایر فورس طیارے کی کاک پٹ کی سیڑھیوں سے نیچے اُترے جو عام طور پر پائیلٹ استعمال کرتے ہیں۔چین کی جانب سے اس کیلئے اوباما کی غیر معمولی سکیوریٹی کو ذمہ دار ٹہرایا گیا جبکہ اوباما نے اس رویہ کا کھلے عام کو ئی نوٹ نہیں لیا۔چین کے رویہ میں سرد مہری کی اصل وجہ جنوبی سمندر پر اس کے قبضے کے تسلیم کرنے سے امریکہ کا انکار ہے۔ امریکہ نے اقوام متحدہ کی سمندری حدود اور بحری راستوں سے متعلق قرارداد کا استعمال کرتے ہوئے اس سمندری علاقہ پر چین کا قبضہ برخواست کرنے کی کوشش کی ہے۔ جنوبی چین کا سمندر ایک ایسا علاقہ ہے جہاں سے پورے مشرقی ایشیائی ممالک پر نظر رکھی جاسکتی ہے۔ اس سے جاپان‘کوریا‘انڈو نیشیا‘ملیشیا‘تھائی لینڈ‘کمبوڈیا جیسے ممالک تک تجارتی فاصلہ بھی کم ہوجاتا ہے۔چین نے اپنے اس برہمی کا شائد اظہار اس طرح سے کیا کہ اوباما کے استقبال کیلئے کوئی نہیں آیا۔ اسی طرح سے چین نے امریکہ کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔ قابل غور بات یہ ہے کہ بحیثیت امریکی صدر اوباما کا یہ آخری دورہ چین تھا۔ نومبر میں انتخابات کے بعد امریکی عوام نئے صدر کا انتخاب کریں گے اور جنوری میں اوباما وائٹ باوز سے رخصت ہوجائیں گے۔ ایسے میں ان کی اہمیت گھٹانا نہ صرف امریکہ بلکہ خود اوباما کی شخصیت کیلئے بھی قابل غور بات ہے۔
ہونگ زو میں منعقدہ چوٹی کانفرنس کے دوران قائدین کو زیادہ تر پوٹین کے ساتھ دیکھا گیا ہے۔ قائدین جانتے ہیں کہ صدارتی انتخابات کے بعد اگر ٹرمپ امریکہ کے صدر منتخب ہوتے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ اس ملک کی خارجہ پالیسی میں بھی کوئی تبدیلی آجائے۔ امریکہ کے ساتھ چین کی سرد مہری کے ساتھ ساتھ فلپائن کے صدر روڈ ریگو دوترتے نے یہ کہہ کر دُنیا کو حیران کردیا کہ وہ اوباما کو کوئی اہمیت نہیں دیتے یہی نہیں اگر میڈیا کی باتوں پر یقین کر لیا جائے تو انہوں نے اوباما کو گالی بھی دی ہے۔ یہ صورتحال یقیناً امریکہ کیلئے پریشان کن ہے۔ فلپائن کے صدر کے رویہ کودیکھتے ہوئے اوباما نے لاوس میں منشیات کی اسمگلنگ کے سلسلہ میں ہونیوالی ایک کانفرنس میں شرکت سے گریز کیا۔ فلپائن کے صدر نے کہا تھا کہ ان کا ملک ایک آزاد مملکت ہے امریکہ کی کوئی کالونی نہیں ہے ۔ اوباما جنوبی سمندر کے تعلق سے ان کو چند مشورے دینے والے تھے۔ اس واقعہ کے بعد وائٹ ہاوز نے اوباما اور دوترتے کی باہمی ملاقات منسوخ کردی اور ان کی جگہ جنوبی کوریا کے صدر سے ملاقات طے کی۔جنوبی ایشیائی ممالک جن کی امریکہ سے دوستی ہے تجارت اور دیگر معاملات میں چین کی جانب سے پیدا کی جانے والی رکاوٹوں سے پریشان ہیں۔ وہ امریکہ کی گرتی ہوئی ساکھ اور عالمی معاملات میں روس اور چین کے بڑھتے اثرات کو دیکھتے ہوئے امریکہ کے ساتھ تعلقات میں پہلے جیسی گرمجوشی نہیں دکھا رہے ہیں۔ جنوبی چینی سمندر کئی ایک معاملات کی وجہ سے ان ممالک کیلئے اہمیت کا حامل ہے یہ ممالک امریکہ کے بل بوتے پر چین سے ٹکر لینے کی ہمت نہیں دکھا سکتے اسی لئے فلپائن کے صدر نے جو رویہ کھلے عام ظاہر کیا ہے مشرقی ایشیاء کے دوسرے ممالک کے قائدین اپنے دل میں ایسے ہی خیالات رکھتے ہیں۔ امریکہ کی مجبوری یہ ہے کہ چین کے بڑھتے اثر و رسوخ پر قابو پانے کیلئے ان ممالک سے دوستی اور ان کو اپنا دوست رکھنا ناگزیر ہے۔ اوباما نے 2009 میں امریکی صدر کا عہدہ سنبھالا تھا۔ چین کے موجودہ صدر زی جن پنگ2012میں اقتدار میں آئے تب سے امریکہ کے ساتھ چین کے تعلقات میں سرد مہری بڑھتی جارہی ہے۔
اس کانفرنس کے دوران ایک اور بات جو نوٹ کی گئی وہ اوباما اور پوٹین کے درمیان دوری تھی۔دونوں قائدین کے رویہ میں سرد مہری صاف دکھائی دے رہی تھی۔سمجھا جارہا تھا کہ اوباما جی20کانفرنس کے موقع پر پوٹین سے شام کے مسئلہ کو حل کرنے کیلئے کوئی ٹھوس بات چیت کریں گے لیکن دونوں کے درمیان ایسی کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ شام میں داخل ہونے کے ذریعہ روس نے مشرق وسطیٰ کے امور اپنے ہاتھ میں لے لئے ہیں۔ ایران‘شام‘عراق کے ذریعہ سے وہ عرب ممالک تک پہنچنا چاہتا ہے۔ روس کی اس مداخلت کو روکنے میں ناکامی کی وجہ سے سعودی عرب امریکہ سے ناراض ہوگیا ہے اور اس طرح امریکہ مشرق وسطیٰ میں اپنے ایک دیرینہ دوست سے محروم ہونے کے دہانے پر پہنچ گیا ہے۔9/11حملوں کے متاثرین کو سعودی عرب پر مقدمہ چلانے کی اجازت دے کر امریکہ نے دوستی کے تابوت میں آخری کیل ٹھونک دی ہے۔ شام کے معاملات کے سلسلے میں سعودی عرب کے وزیر خارجہ اور نائب ولی عہد محمد بن سلمان کئی مرتبہ روس کے دورے کرچکے ہیں تا ہم ایران ان کی دوستی میں آڑے آرہا ہے۔ترکی بھی امریکہ کے مقابلے روس سے دوستی کو ترجیح دیتا ہے۔ ایک طرف مشرق وسطیٰ میں قدم جما رہا ہے تو دوسری طرف چین براعظم آفریقہ میں اپنی تجارتی سرگرمیوں کو وسعت دے رہا ہے۔ یہ وہ حالات ہیں جن سے یورپ میں امریکہ کے حلیف ممالک بھی پریشان ہیں یورپ کے کئی قائدین اپنے اپنے ملکوں میں ہونیوالی دہشت گردی کے واقعات کیلئے امریکہ کو ہی ذمہ دار مانتے ہیں۔ انکا کہنا ہے کہ سیاسی تبدیلی کے نام پر امریکہ نے مشرق وسطیٰ کے حکمرانوں کا تختہ پلٹ کر دہشت گردوں کیلئے محفوظ پناہ گاہیں قائم کردی ہیں۔ یہی نہیں شامی پناہ گزینوں کا جو مسئلہ پیدا ہوا ہے اس کیلئے بھی وہ امریکہ کو ہی ذمہ دار مانتے ہیں۔لاکھوں شامی اور آفریقی باشندے اس وقت یورپی ممالک کیلئے درد سر بنے ہوئے ہیں۔ وہاں پناہ گزینوں کی مخالفت کرنیوالی سیاسی پارٹیاں مقبولیت حاصل کررہی ہیں۔ ان ممالک میں امن وضبط کا مسئلہ بھی پیدا ہوگیا ہے ۔ یہ وہ حالات ہیں جو دُنیا سمجھتی ہے کہ امریکہ کے پیدا کردہ ہیں۔ خود امریکی بھی دُنیا بھر میں آزادانہ گھومنے پھرنے سے خوف کھا رہے ہیں کئی ممالک کا سفر نہ کرنے کا امریکی شہریوں کو انتباہ دیا گیا ہے۔
امریکہ کی عالمی امور میں دخل اندازی‘اس کے دبدبہ سے خوف کھا کر اس کی ہر بات تسلیم کرنے کے دن اب ختم ہوچکے ہیں۔سب سے پہلے اسرائیل نے امریکہ کے مشوروں کو نظر انداز کردیا۔ اس نے فلسطین کو ایک آزاد مملکت قرار دینے اقوام متحدہ کی قرارداد کے بعد امریکہ سے اپنے تعلقات محدود کر لیئے ہیں۔ اگرچہ یہ کہا جارہا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے حالات امریکہ نے اسرائیل کو اپنی بستیاں بنانے کا موقع فراہم کرنے کیلئے پیدا کیئے ہیں تا کہ جب مملکت فلسطین کے قیام کی بات آئے تو مسلمانوں کوصرف وہی علاقہ دیا جائے جن پر وہ رہ رہے ہیں۔ امریکہ اس منصوبے میں کامیاب ہوگیا ہے کیونکہ اسرائیل نے یروشلم اور بیت اللحم میں سینکڑوں مکانات اور بستیاں تعمیر کرکے دُنیا کے مختلف ممالک سے یہودیوں کو یہاں لا کر بسانا شروع کردیا ہے۔ امریکہ نے اسرائیل کیلئے دوسرا خطرہ ایران کو بھی اپنے اعتماد میں لینے کی کوشش کی تھی لیکن سعودی عرب کی وجہ سے معاملہ بگڑ گیا اور ایران نے روس کا سہارا لے لیا۔ امریکہ میں نئے صدر کی جانب سے عہدہ سنبھالنے تک کتنے ممالک روس اور چین کے ساتھ جاتے ہیں یہ دیکھنا باقی ہے۔

Comments

comments