Friday , 24 November 2017
بریکنگ نیوز
Home » ادب

ادب

پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کروگے

میر تقی میرؔ ’’پر ہم جو نہ ہوں گے تو بہت یاد کروگے‘‘ میر تقی میر اصل نام میر محمد تقی اُردو کے عظیم شاعر تھے۔ میر ان کا تخلص تھا۔ اُردو شاعری میں میر تقی میرؔ کا مقام بہت اونچا ہے ۔ انہیں ناقدین و شعرائے متاخرین نے خدائے سخن کے خطاب سے نوازا۔ وہ اپنے زمانے کے ایک ... Read More »

خموشی کا دائرہ

سہیل…کتنا سکون ہے اس نام میں بس یہی ایک ہستی نے اس نازک ترین لمحوں کی جلن سے ٹھنڈک بخشی تھی۔مگر کالج کی پڑھائی کے دوران وہ ایک دوسرے سے الگ ہوگئے تھے۔اس نے میڈیکل میں داخلہ لے لیا اور سہیل زندگی کے ہنگاموں میں نہ جانے شہر کب چھوڑ کر کہاں چلا گیا۔ان ہنگاموں میں وہ پڑی پڑی ڈاکٹر ... Read More »

بادشاہ سلامت پھٹ گئے

اُلٹا نگر کے بادشاہ سلامت جب اینٹنے اکڑتے دربار میں داخل ہوئے تو نقیب نے کڑک کر کہا‘ با ادب‘ با ملاحظہ ہوشیار۔ شہنشاہ معظم‘ اعلیٰ حضرت فرماں روائے اُلٹا نگر تشریف لاتے ہیں اور پکارنے والا ابھی پوری بات بھی نہ کہنے پایا تھا کہ بادشاہ سلامت دھڑام سے وزیر اعظم کے قدموں میں گر پڑے۔ وزیر اعظم نے ... Read More »

کچھ اور شادیاں

جس طرح برسات‘سردی اور گرمی کے موسم آتے ہیں یا اجناس کی فصلوں کے معاملہ میں خریف اور ربیع کے موسم آتے ہیں بالکل اسی انداز میں جب سماج میں نوجوانوں کی نسل پک کر تیار ہوجاتی ہے تو وقفہ وقفہ سے شادیوں کے موسم بھی آتے اور جاتے رہتے ہیں جن میں شادی کے عنوان سے نوجوانوں کی تازہ ... Read More »

آزاد فطرت کا شاعر ن م راشدؔ

ن م راشد‘اصل نام نذر محمد راشد 1910 میں ضلع گوجرانوالا کے قصبے وزیر آباد میں پیدا ہوئے۔ انھوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے تعلیم حاصل کی۔ ابتدا میں وہ علامہ مشرقی کی خاکسار تحریک سے بہت متاثر رہے، اور باقاعدہ وردی پہن کر اور بیلچہ ہاتھ میں لئے مارچ کیا کرتے تھے۔ جدید اُردو شاعری کے اولین استاد ن۔م۔ ... Read More »

قصہ، سردارجی کا

خبر پڑھتے ہی ایک قصہ یاد آ گیا۔خدا جانے کیوں ؟ قصہ پہلے کا پڑھا ہوا ہو،تو پھر بھی پڑھ لیجئے۔کیوں کہ خبر بھی کون سی ایسی ہے جو پہلے کی پڑھی ہوئی نہ ہو۔ایک سردار جی ریل گاڑی میں سفر کر رہے تھے ۔ سفر بڑے مزے سے کٹ رہا تھا۔یکایک گاڑی ایک اسٹیشن پر جھٹکے سے رک گئی۔سردار ... Read More »

تین منٹ میں دریائے راوی پار

دوست: ’’ آپ کا شعری مجموعہ‘ کس نے چھپایا۔ شاعر: جی میں نے خود چھپاپا۔ دوست: کچھ بکابھی‘‘ شاعر: کیوں نہیں۔ میری سائیکل‘ گھڑی اور عینک بک گئی۔دُنیا میں ایک کتاب چھپتی ہے تو ہاتھوں ہاتھ بکتی ہے لوگ کتاب خریدتے ہیں اور عام طور پر پرسڑک پر بھی پڑھتے جاتے ہیں۔ یہ ان کی علم دوستی ہے اور کتاب ... Read More »

اور صبح ہوگئی

آج وہ جانے کس سوچ میں تھا بستر پر لیٹا ہوا آسمان کی چھت کو تک رہا تھا کہ’’ صدیوں سے پرانی یہ چھت جس کے زیر سایہ زمین پر بسنے والے لوگ کس امید پر اس سے لو لگائے ہیں کہ ان کے اپنے مکان کی چھت جگ جگہ سے نہ ٹپک پڑے۔‘‘کیوں؟ پھر وہ خاموش ہوگیا۔ جیسے اس ... Read More »

چور

رات کے دو بج رہے تھے۔ سلو کو نیند نہیں آ رہی تھی۔ ہوا یوں تھا کہ ا سکول سے واپس آ کر وہ سو گیا تھا۔ پھر رات کے کھانے کے بعد اس نے بھائی جان کے ساتھ کافی کی ایک پیالی پی لی تھی۔ اب بھائی جان تو رات دیر تک پڑھتے رہتے تھے مگر وہ تو زیادہ ... Read More »

صاحب باتھ روم میں ہیں

ایک دن میں نے اپنے علاقہ کے نیتا بدری نارائن جی سے بات کرنے کیلئے فون کیا تو اُنکے پرائیوٹ سکریٹری نے کہا’’ صاحب باتھ روم میں ہیں۔ تھوڑی دیر بعد فون کریں۔‘‘ میں نے سوچا جب بدری نارائن جی باتھ روم میں ہیں تو کیوں نہ میں بھی باتھ روم ہو آؤں۔جیسا راجہ ویسی پرجا۔ کچھ دیر بعد اپنے ... Read More »