Tuesday , 24 April 2018
بریکنگ نیوز
Home » ادب (page 5)

ادب

وقت کھوگیا

۔۔۔ پرویز اشرفی ایک لمبے عرصے کے بعد میں اس مقام کو تلاش کررہا ہوں جہاں کبھی بچپن میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ کھیلنے آتا تھا۔ لیکن یہ کیا ۔۔۔ کوئی منظر نہیں صرف گھنی آبادی اور تنگ گلیاں ہیں، جہاں سے چھوٹے چھوٹے بچے رنگ برنگے اسکولی لباس میں پشت پر کتابوں کا بستہ لٹکائے اسکول کی طرف جا ... Read More »

اُف! یہ ہیلمٹ

۔۔۔ عطیہ پروین، حیدرآباد سابق کی طرح دوبارہ ہیلمٹ کا چلن عام ہوگیا ہے۔ ہیلمٹ کی مارکٹ میں گہما گہمی نظر آرہی ہے۔ حقیقت یہ ہیکہ ہر حکومت عوامی مالیہ میں زیادہ سے زیادہ اضافہ کرنا چاہتی ہے۔ تا کہ معاشی ترقی میں اضافہ ہو اور اس کے ذریعہ نئی اسکیمیں روبہ عمل لائی جاسکیں۔ انہیں اس بات سے کوئی ... Read More »

افسانے کا آخری آدمی انتظار حسین

۔۔۔ عقیل الرحمن وقارؔ انتظار حسین کا شمار اُردو ادب کے بہترین افسانہ نگاروں اور کہانی نویسوں میں ہوتا ہے۔ وہ اپنے اسلوب کے سبب‘ سب سے منفرد نظر آتے تھے۔ ان کی تحریروں کی سب سے خاص بات ماضی کی اقدار کھو جانے پر نوحہ خوانی ہے ان کی تحریروں کا مطالعہ کر کے قاری حیرت کے سمندر میں ... Read More »

اِس دور میں ہوتے حاتم طائی!

۔۔۔ مجتبیٰ حسین اگر ہوتے حاتم طائی اس دور میں تو کیا ہوتا؟ یہ سوال ایسا ہی ہے جیسے کسی استاد نے اپنے شاگرد سے پوچھا کہ اگر آج شکسپیر زندہ ہوتا تو کیا ہوتا؟ اس پر شاگرد نے جواب دیا’’ ہوتا کیا شکسپیر کی عمر400سال ہوجاتی اور وہ اتنا ضعیف ہوچکا ہوتا کہ اپنی جگہ سے ہل بھی نہ ... Read More »

زبیر رضوی تم اب گئے تو کب آؤگے چھٹیاں لے کر

۔۔۔ عقیل الرحمن وِقارؔ اُردو زبان کے مشہور شاعر‘ڈرامہ نگار‘ ذرائع ابلاغ کی دُنیا کا ایک معتبر نام ‘ اُردو کا عظیم سپہ سالاراور مشہور ادبی جریدہ’’ ذہن جدید‘‘ کے ایڈیٹر زبیر رضوی کا ایک سمینار میں صدارتی تقریر کے فوری بعد قلب پر حملہ کے باعث انتقال کرگئے۔ ان کی عمر82سال تھی۔ زبیر رضوی1936میں امروہہ اتر پردیش کے ایک ... Read More »

دستک

۔۔۔ مار مسعود دھڑ۔دھڑ۔ دھڑ۔ بالکل نئی طرح کی دستک۔ نہ کوئی جذبہ133نہ محبت 133نہ غْصّہ133نہ ہمدردی 133بالکل مشین کی طرح۔ دھڑ۔ دھڑ۔دھڑ۔ شاید کوئی دروازے تک گیا ہے۔ نجمہ ہے۔ وہی پیر گھسیٹ گھسیٹ کر چلتی ہے۔ جیسے سخت فرش پر بکھرے ہوئے ریتلے ذرّوں کی چیخیں سْن کر اپنی بڑھتی ہوئی کنواری عمر سے انتقام لے رہی ہو۔ ... Read More »

منتخب اشعار

وہ اس ادا سے نگاہوں میں بس گیا ہے وقارؔ ہم اُس کے بعد کسی پر نظر اُٹھا نہ سکے نہ وہ کلچر نہ وہ تہذیب نہ وہ رسمِ جنوں حیدرآباد: روایت کا کھنڈر لگتا ہے وقارؔ خلیل غم گرچہ ہے بے شمار سہنے کے لئے درماں بھی ہیں صد ہزار کہنے کے لئے اک پل کی شکستِ خواب کافی ... Read More »

’کتوں کا فائدہ کیا ہے!‘

۔۔۔ اجمل ملک ’’کتوں کا فائدہ کیا ہے۔‘‘پطرس بخاری کے اس سوال پر تحقیق جاری تھی کہ اچانک میرا مفروضہ بدل گیا۔ خارش کا فائدہ کیا ہے۔؟نیا موضوع بن گیا۔مقام خارش پر کھرکنے کا مزا کیوں آتا ہے۔قریب ہی مزید خارش کیوں ہونے لگتی ہے۔خارشیے بے قرار کیوں رہتے ہیں۔؟اچانک عطاالحق قاسمی کے ایک خارشی مصرعے نے میری رہنمائی کی۔ ... Read More »

منتخب اشعار

رشتوں سے بے نیاز ہے اس عہد کا بشر اپنوں سے پیش آتا ہے انجان کی طرح خوشدلؔ ہر گل کوچے سب بہتا ہے انسانوں کا آج کل خون ہے پانی سے بھی سستا کیسے مرسلہ ریحانہ تحسین‘ حیدرآباد عزیزؔ تم رہو ام الخبائث سے ہمیشہ دور دور یہ وہ شئے ہے جو دلوں میں ڈالتی ہے فتور نامعلوم سحر ... Read More »

دھول چہرے پر تھی (طنز و مزاح)

۔۔۔ حسن شاہد میر آپ میں سے شاید ہی کوئی ایسا ہو جو آئینہ نہ دیکھتا ہو۔ کوئی اُسے روز دیکھتا ہے اور کوئی اسے بار بار دیکھتا ہے۔ ہم اس میں کیا دیکھنا چاہتے ہیں؟ یہی کہ ہم کیسے لگ رہے ہیں!133133یہ ہمیں ایسا ہی دکھاتا ہے جیسا ہم نظر آتے ہیں۔ ہم اپنے آپ کو خود نہیں دیکھ ... Read More »