بھارت میں ہر سات میں سے ایک فالج مریض 45 سال سے کم عمر
بھارت میں فالج اب صرف بزرگوں کی بیماری نہیں رہی۔ تازہ قومی اعداد و شمار کے مطابق ملک میں ہر سات میں سے ایک فالج مریض کی عمر 45 سال سے کم ہے، جو صحت عامہ کے لیے ایک سنگین انتباہ ہے۔
قومی فالج رجسٹری کے تجزیے میں تقریباً 35 ہزار مریضوں کا جائزہ لیا گیا، جن میں سے 13.8 فیصد مریض 45 سال سے کم عمر تھے۔ اوسط عمر تقریباً 59 سال رہی، تاہم نوجوانوں میں بڑھتے کیسز نے ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق صرف 20 فیصد مریض 4.5 گھنٹے کے اندر اسپتال پہنچ سکے، جبکہ تقریباً 40 فیصد مریض 24 گھنٹے بعد پہنچے، جس سے بروقت علاج ممکن نہ ہو سکا۔ تاخیر کے باعث نصف سے زائد مریضوں کو تین ماہ کے اندر موت یا مستقل معذوری کا سامنا کرنا پڑا۔
ماہرین کے مطابق بلند فشارِ خون، ذیابیطس، تمباکو نوشی، شراب نوشی، موٹاپا اور ذہنی دباؤ اہم وجوہات ہیں۔ شہری طرزِ زندگی، غیر متوازن غذا، نیند کی کمی اور جسمانی سرگرمی میں کمی نوجوانوں میں خطرہ بڑھا رہی ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ فالج ایک ہنگامی حالت ہے، جس میں ہر لمحہ قیمتی ہوتا ہے۔ علامات ظاہر ہوتے ہی فوری طبی امداد حاصل کرنا زندگی بچا سکتا ہے۔



