سائنس

سائنس سے متعلق اہم اپ ڈیٹس — خلائی تحقیق، تجربات، نئی دریافتیں، طبی سائنس، اور جدید سائنسی ترقی کی خبریں ایک جگہ۔

  • Gaganyaan mission, ISRO, V Narayanan, India human spaceflight

    بھارت کے انسانی خلائی سفر کے اہم منصوبے گگن یان نے آخری مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارے کے سربراہ ڈاکٹر وی نارائنن کے مطابق پہلے بغیر انسان خلائی مشن کو آئندہ چار ماہ کے اندر روانہ کرنے کا منصوبہ ہے۔ اس سے قبل تین بغیر انسان مشن مکمل کیے جائیں گے تاکہ خلائی جہاز، راکٹ اور دیگر نظاموں کی کارکردگی جانچی جاسکے۔ گگن یان کی تیاری آخری مرحلے میں احمد آباد میں قومی خلائی دن کی تقریبات سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹر نارائنن نے بتایا کہ گگن یان منصوبے کے سلسلے میں تقریباً آٹھ ہزار تجربات مکمل کیے جاچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ منصوبہ اب آخری مرحلے میں ہے۔ گگن یان بھارت کے پیچیدہ ترین خلائی منصوبوں میں شامل ہے، جس کے لیے انسان بردار راکٹ، خلائی عملے کے لیے مخصوص کیپسول، زندگی برقرار رکھنے والے نظام اور محفوظ واپسی کی ٹیکنالوجی درکار ہے۔ آٹھ…

    مزید پڑھیں »
  • Kerala space startup, Hex20, Skyroot Aerospace

    کیرالہ کے خلائی ٹیکنالوجی ادارے ہیکس 20 نے بھارت کے تیزی سے ترقی کرتے نجی خلائی شعبے میں ایک اور اہم سنگ میل عبور کرلیا ہے۔ ادارے نے حیدرآباد کی خلائی کمپنی اسکائی روٹ ایرو اسپیس کے ساتھ مستقبل میں مصنوعی سیاروں کی روانگی اور خلاء میں تجربات کے لیے کئی مشنز کے معاہدے پر دستخط کیے ہیں۔ اس معاہدے کے تحت زمین کے مشاہدے کے مصنوعی سیارے خلاء میں بھیجے جائیں گے جبکہ مدار میں مختلف آلات اور تجرباتی نظام کی آزمائش بھی کی جائے گی۔ معاہدے کے تحت ہیکس 20 کو اسکائی روٹ کی وکرم سلسلے کے راکٹوں پر تین مشنز حاصل ہوئے ہیں، جن کا آغاز 2027 سے متوقع ہے۔ ہیکس 20 کی بنیاد کالج آف انجینئرنگ، ترواننت پورم کے سابق طلبہ نے رکھی تھی۔ کمپنی کے دفاتر امریکہ، متحدہ عرب امارات اور تائیوان میں بھی موجود ہیں اور یہ مصنوعی سیاروں کے پلیٹ فارم، خلائی مشن…

    مزید پڑھیں »
  • Stanford scientists, AI virus, bacteria

    امریکہ کی اسٹینفورڈ یونیورسٹی اور آرک انسٹی ٹیوٹ کے سائنس دانوں نے مصنوعی ذہانت کی مدد سے نئے وائرس تیار کرنے میں اہم کامیابی حاصل کرلی ہے۔ تحقیق کے دوران تیار کیے گئے سیکڑوں نمونوں میں سے 16 وائرس فعال ثابت ہوئے اور انہوں نے بیکٹیریا کو تباہ کرنے کی صلاحیت دکھائی۔ یہ تحقیق معروف سائنسی جریدے میں شائع ہوئی ہے۔ سائنس دانوں کے مطابق یہ وائرس صرف بیکٹیریا کو نشانہ بناتے ہیں اور انسانوں، جانوروں یا پودوں کو متاثر نہیں کرتے۔ تحقیق نے اس امکان کو تقویت دی ہے کہ مصنوعی ذہانت مستقبل میں ادویات کے خلاف مزاحمت رکھنے والے خطرناک جراثیم سے نمٹنے کے لیے ایک نیا ذریعہ فراہم کرسکتی ہے۔ محققین نے مصنوعی ذہانت کے ایسے نظام استعمال کیے جو جینیاتی معلومات کا تجزیہ کرکے نئے جینیاتی سلسلے تیار کرسکتے ہیں۔ قدرتی جینز کی بڑی مقدار سے تربیت حاصل کرنے کے بعد نظام نے بیکٹیریا کو متاثر…

    مزید پڑھیں »
  • There May Be 170 Million Black Holes Lurking in The Milky Way

    سائنس دانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ ہماری کہکشاں میں تقریباً سترہ کروڑ سیاہ شگاف موجود ہو سکتے ہیں، جو مکمل طور پر نظر نہیں آتے مگر خلا میں خاموشی سے موجود ہیں۔ ماہرین کے مطابق یہ دریافت کائنات کے پوشیدہ رازوں کو سمجھنے میں ایک اہم پیش رفت ثابت ہو سکتی ہے۔ تحقیق کے مطابق سیاہ شگاف اس وقت وجود میں آتے ہیں جب بہت بڑے ستارے اپنی زندگی کے اختتام پر زبردست دھماکے کے بعد منہدم ہو جاتے ہیں۔ ان کی کششِ ثقل اتنی طاقتور ہوتی ہے کہ روشنی بھی اس سے باہر نہیں نکل سکتی، اسی وجہ سے انہیں براہِ راست دیکھنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔ ماہرین نے جدید کمپیوٹر نمونوں کی مدد سے گزشتہ تیرہ اعشاریہ چھ ارب سال کے دوران ہماری کہکشاں کی تشکیل، ستاروں کی پیدائش، ان کی موت اور سیاہ شگاف بننے کے عمل کا جائزہ لیا۔ نتائج سے…

    مزید پڑھیں »
  • Human Eye Evolution, Ancient Ancestor, Cyclops Study

    سائنس دانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ انسانی آنکھوں کی ابتدا تقریباً 60 کروڑ سال قبل سمندر میں رہنے والی ایک نہایت چھوٹی ایک آنکھ والی مخلوق سے ہوئی ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی قدیم مخلوق وقت کے ساتھ ارتقا کے مراحل سے گزری اور آج کے انسان سمیت تمام مہرہ دار جانداروں کی بینائی کی بنیاد بنی۔ لونڈ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف سسیکس کے محققین کے مطابق اس قدیم جاندار کے سر کے درمیان موجود ایک آنکھ بعد میں ارتقا کے عمل کے دوران دو آنکھوں کی شکل اختیار کرنے کی بنیاد بنی۔ حیرت انگیز طور پر اس قدیم بصری نظام کا ایک حصہ آج بھی انسانی دماغ میں صنوبر نما غدود کی صورت میں موجود ہے، جو جسم کے سونے اور جاگنے کے قدرتی نظام کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ تحقیق کے مطابق یہ ننھی مخلوق…

    مزید پڑھیں »
  • India successfully launched Vikram-1

    بھارت نے خلائی شعبے میں ایک اور تاریخی کامیابی حاصل کرتے ہوئے ملک کے پہلے نجی مداری راکٹ "وکرم-1” کو کامیابی کے ساتھ خلا میں روانہ کر دیا۔ اس راکٹ نے مختلف تکنیکی تجرباتی آلات اور وزیراعظم نریندر مودی کے پیغامات پر مشتمل پوسٹ کارڈز کو کامیابی سے کم مدار میں پہنچا دیا۔ اس مشن کو "مشن آگمن” کا نام دیا گیا، جو بھارت کی نجی خلائی صنعت کے لیے ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس کامیابی کے ساتھ بھارت ان چند ممالک میں شامل ہو گیا ہے جہاں نجی ادارے کامیابی سے مداری راکٹ تیار اور خلا میں بھیجنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ وکرم-1 کو سری ہری کوٹا میں واقع ستیش دھون خلائی مرکز سے کامیابی کے ساتھ روانہ کیا گیا۔ راکٹ کی پرواز تقریباً 15 منٹ 46 سیکنڈ پر مشتمل تھی، جس کے دوران اس نے اپنے تمام اہم مراحل کامیابی سے مکمل کیے…

    مزید پڑھیں »
  • Indian-Origin NASA Astronaut Anil Menon Reaches ISS

    بھارتی نژاد امریکی خلا باز ڈاکٹر انیل مینن کامیابی کے ساتھ بین الاقوامی خلائی اسٹیشن پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ آئندہ آٹھ ماہ تک سائنسی تحقیق اور مختلف تکنیکی تجربات میں حصہ لیں گے۔ وہ روسی خلانورد پیوتر دوبروف اور اینا کیکینا کے ساتھ مشترکہ مشن پر روانہ ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر انیل مینن نے روسی خلائی جہاز سویوز کے ذریعے قازقستان کے خلائی اڈے سے پرواز کی۔ تقریباً تین گھنٹے کے سفر کے بعد خلائی جہاز نے کامیابی سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کے ساتھ رابطہ قائم کیا، جہاں عملے کا پرتپاک استقبال کیا گیا۔ خلائی ادارے کے سربراہ نے انیل مینن اور ان کے ساتھیوں کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ مشن نہ صرف نئی سائنسی معلومات فراہم کرے گا بلکہ دنیا بھر کے لاکھوں نوجوانوں کو سائنس اور خلائی تحقیق کی جانب راغب بھی کرے گا۔ ڈاکٹر انیل مینن امریکہ میں پیدا ہوئے، تاہم ان کے والد…

    مزید پڑھیں »
  • ISRO Gaganyaan mission, Gaganyaan mission by March 2026

    بھارتی خلائی تحقیقاتی ادارہ اسرو اپنے انتہائی اہم گگن یان پروگرام کے تحت پہلے بغیر انسان خلائی مشن کی تیاری تیزی سے مکمل کر رہا ہے، جسے مارچ ۲۰۲۶ میں لانچ کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ یہ مشن بھارت کو آزادانہ طور پر انسان کو خلا میں بھیجنے والے ممالک کی صف میں شامل کرنے کی سمت ایک فیصلہ کن قدم سمجھا جا رہا ہے۔ جی ون مشن تقریباً نوّے فیصد مکمل ہو چکا ہے اور اسے گگن یان منصوبے کا ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ اس مشن کے لیے ہیومن ریٹڈ لانچ وہیکل مارک تھری کی تیاری سری ہری کوٹا کے ستیش دھون خلائی مرکز میں مکمل کی جا رہی ہے۔ کریو ماڈیول پروپلشن سسٹم کی تنصیب کامیابی کے ساتھ ہو چکی ہے، جبکہ محفوظ واپسی کے لیے درکار دس پیراشوٹ پہلے ہی روانہ کیے جا چکے ہیں۔ اس خلائی مشن میں ویوم…

    مزید پڑھیں »
  • Sunita Williams astronaut, space perspective, unity of Earth

    معروف خلانورد سنیتا ولیمز نے کہا ہے کہ خلائی سفر انسان کی سوچ کو مکمل طور پر بدل دیتا ہے اور جب زمین کو خلا سے ایک سیارے کے طور پر دیکھا جائے تو انسانوں کے درمیان اختلافات اور جھگڑے نہایت بے معنی محسوس ہوتے ہیں۔ وہ امریکی مرکز میں منعقدہ ایک خصوصی نشست سے خطاب کر رہی تھیں، جہاں انہوں نے اپنی زندگی اور خلائی تجربات پر کھل کر گفتگو کی۔ سنیتا ولیمز نے کہا کہ خلا میں جانے کے بعد سب سے پہلے انسان اپنا گھر تلاش کرتا ہے۔ چونکہ ان کے والد کا تعلق ہندوستان اور والدہ کا تعلق سلووینیا سے ہے، اس لیے وہ ان خطوں کو دیکھنے کی کوشش کرتی تھیں، مگر کچھ ہی وقت میں یہ احساس غالب آ جاتا ہے کہ پوری زمین ہی ہمارا گھر ہے۔ انہوں نے زمین کو ایک زندہ سیارہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خلا سے موسموں کی…

    مزید پڑھیں »
  • LVM3 launch, BlueBird Block 2 satellite, ISRO record payload mission

    بھارتی خلائی ادارہ اسرو آج ایک تاریخی سنگِ میل حاصل کرنے جا رہا ہے۔ اسرو کا ایل وی ایم تھری۔ایم سکس راکٹ چوبیس دسمبر کو صبح آٹھ بج کر چون چون منٹ پر سری ہری کوٹا سے روانہ ہوگا، جس کے ذریعے اب تک کا سب سے وزنی سیٹلائٹ کم زمینی مدار میں پہنچایا جائے گا۔ اس مشن کے تحت بلو برڈ بلاک ٹو نامی جدید مواصلاتی سیٹلائٹ خلا میں نصب کیا جائے گا، جس کا وزن تقریباً چھ ہزار ایک سو کلوگرام ہے۔ یہ سیٹلائٹ امریکی کمپنی کی ملکیت ہے اور اسرو کے تجارتی ادارے کے ذریعے خلا میں بھیجا جا رہا ہے۔ یہ اسرو کے لیے تجارتی خلائی شعبے میں ایک بڑی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ یہ سیٹلائٹ زمین سے تقریباً چھ سو کلومیٹر کی بلندی پر گردش کرے گا اور اس میں ایک بہت بڑا اینٹینا نصب ہے۔ اس جدید نظام کا مقصد دنیا بھر میں…

    مزید پڑھیں »
Back to top button