بین الاقوامیسائنسعرب دنیا

انسانی آنکھوں کی ابتدا کا حیران کن راز، سائنس دانوں کی نئی تحقیق میں اہم انکشاف

سائنس دانوں نے ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا ہے کہ انسانی آنکھوں کی ابتدا تقریباً 60 کروڑ سال قبل سمندر میں رہنے والی ایک نہایت چھوٹی ایک آنکھ والی مخلوق سے ہوئی ہو سکتی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی قدیم مخلوق وقت کے ساتھ ارتقا کے مراحل سے گزری اور آج کے انسان سمیت تمام مہرہ دار جانداروں کی بینائی کی بنیاد بنی۔

لونڈ یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف سسیکس کے محققین کے مطابق اس قدیم جاندار کے سر کے درمیان موجود ایک آنکھ بعد میں ارتقا کے عمل کے دوران دو آنکھوں کی شکل اختیار کرنے کی بنیاد بنی۔ حیرت انگیز طور پر اس قدیم بصری نظام کا ایک حصہ آج بھی انسانی دماغ میں صنوبر نما غدود کی صورت میں موجود ہے، جو جسم کے سونے اور جاگنے کے قدرتی نظام کو منظم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

تحقیق کے مطابق یہ ننھی مخلوق سمندر میں رہتی تھی اور پانی میں موجود باریک غذائی ذرات پر گزارا کرتی تھی۔ ابتدا میں اس کے پاس روشنی محسوس کرنے والے دو حصے موجود تھے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ چونکہ اسے حرکت کی زیادہ ضرورت نہیں رہی، اس لیے دونوں آنکھیں ختم ہو گئیں اور صرف درمیان والی روشنی محسوس کرنے والی ساخت باقی رہ گئی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہی درمیانی آنکھ بعد میں ایک ایسے عضو میں تبدیل ہوئی جو دن اور رات کی پہچان میں مدد دیتا تھا۔ ارتقا کے لاکھوں برس بعد اسی نظام کا باقی ماندہ حصہ انسانی دماغ میں موجود صنوبر نما غدود بن گیا، جو میلاٹونن ہارمون پیدا کرتا ہے اور جسمانی گھڑی کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

تحقیق کے سربراہ پروفیسر نے کہا کہ یہ نتائج آنکھ اور دماغ کے ارتقا سے متعلق موجودہ سائنسی تصورات کو نئی سمت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ دریافت مستقبل میں انسانی دماغ، بینائی اور نیند سے متعلق مزید تحقیق کے نئے دروازے کھول سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button