بین الاقوامیعرب دنیا

برکس اجلاس سے پہلے ایران کا بڑا اعلان، ڈالر کی بالادستی ختم کرنے پر زور

ایران نے نئی دہلی میں ہونے والے برکس سربراہی اجلاس سے قبل امریکی ڈالر پر انحصار کم کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس اتحاد کا مقصد رکن ممالک کو امریکی کرنسی پر انحصار سے آزاد کرنا ہے۔

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے جمعہ کو بھارت روانگی سے قبل برکس کے کردار پر بات کرتے ہوئے کہا کہ نئے برکس بینک کا مقصد ممالک کو ڈالر پر انحصار سے نجات دلانا اور امریکہ کی بالادستی کی کوششوں کا مقابلہ کرنا ہے۔

پزشکیان جمعہ کو دوپہر 2 بجے نئی دہلی پہنچنے والے ہیں، جہاں وہ 18ویں برکس سربراہی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس دوران ان کی بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ دوطرفہ ملاقات بھی متوقع ہے۔ ملاقات میں مغربی ایشیا کی موجودہ صورتحال اہم موضوع رہنے کا امکان ہے۔

بھارت میں 18واں برکس اجلاس

بھارت اپنی 2026 کی برکس صدارت کے تحت 12 اور 13 ستمبر کو نئی دہلی میں سربراہی اجلاس کی میزبانی کر رہا ہے۔ موجودہ جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور مختلف تنازعات کے پس منظر میں بھارت برکس کو عالمی جنوب کے لیے ایک اہم پلیٹ فارم کے طور پر پیش کر رہا ہے۔

اس سال اجلاس کا موضوع ’’لچک، جدت، تعاون اور پائیداری کے لیے تعمیر‘‘ رکھا گیا ہے۔

اجلاس میں ایرانی صدر کے علاوہ چینی صدر شی جن پنگ، روسی صدر ولادیمیر پیوٹن، جنوبی افریقہ کے صدر سیرل رامافوسا، انڈونیشیا کے صدر پرابوو سوبیانتو، مصری صدر عبدالفتاح السیسی، ملائیشیا کے وزیر اعظم انور ابراہیم، متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زاید آل نہیان، ایتھوپیا کے وزیر اعظم ابی احمد اور ویتنام کے وزیر اعظم لی منہ ہنگ سمیت متعدد عالمی رہنما شرکت کریں گے۔

ایران اور امریکہ کی کشیدگی

خبر کے مطابق مغربی ایشیا میں جنگ کا آغاز 28 فروری کو ہوا، جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے مختلف اہداف پر مشترکہ حملے کیے۔ ان حملوں میں ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی ہلاکت ہوئی۔

اس کے بعد تہران نے خلیجی خطے میں امریکہ سے منسلک تنصیبات پر حملے کیے، جس سے تنازع وسیع ہوا اور اہم آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی بھی سامنے آئی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button