بین الاقوامیعرب دنیا

یمن میں لڑائی پھر شدت اختیار کرگئی، حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب میں الرٹ

یمن میں حوثی باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کے درمیان کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے، جبکہ سعودی عرب کے جنوبی علاقوں میں حوثیوں کے میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد سکیورٹی الرٹ جاری کیے گئے۔

یمن میں جاری تنازع نے بدھ کو مزید شدت اختیار کرلی۔ یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے حوثیوں پر مارب گورنریٹ میں توپ خانے سے حملہ کرنے کا الزام عائد کیا، جس میں تین بچوں کی ہلاکت کا دعویٰ کیا گیا۔ دوسری جانب حوثیوں نے سعودی عرب کی جانب سے یمن کے مختلف علاقوں میں فضائی حملوں کا الزام لگاتے ہوئے جوابی کارروائی کی دھمکی دی۔

حوثی فوجی ترجمان کے مطابق سعودی طیاروں نے گزشتہ 12 گھنٹوں کے دوران یمن کے مختلف صوبوں میں 54 فضائی حملے کیے۔ حوثیوں نے کہا کہ ان حملوں کا جواب دیا جائے گا۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر مکمل تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔

سعودی قیادت میں اتحاد کے مطابق حوثیوں نے مسلسل دوسرے روز ابہا، خمیس مشیط اور جازان سمیت جنوبی سعودی شہروں کو بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے نشانہ بنایا۔ حملوں میں فوجی تنصیبات اور تیل سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو بھی ہدف بنایا گیا۔

مارب میں بچوں کی ہلاکت کا دعویٰ

وسطی صوبہ مارب میں حوثیوں کی گولہ باری سے کم از کم تین بچے، جن میں ایک شیر خوار بچہ بھی شامل تھا، ہلاک ہوئے، جبکہ چھ دیگر افراد زخمی ہوئے۔ یہ 48 گھنٹوں کے دوران اس نوعیت کا دوسرا حملہ بتایا گیا ہے۔

دوسری جانب حوثیوں نے شمالی صوبہ الجوف میں ایک جیل پر سعودی حملے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 32 ہوگئی ہے۔ سعودی حکام نے اس دعوے کی تصدیق نہیں کی۔ حالیہ اطلاعات کے مطابق ایک جیل پر فضائی حملے میں ہلاکتوں کی تعداد 23 تک پہنچنے کی اطلاع بھی سامنے آئی ہے۔

برسوں پرانی جنگ پھر بھڑکی

یمن میں جنگ 2014 میں اس وقت شروع ہوئی جب حوثیوں نے دارالحکومت صنعا پر قبضہ کرلیا۔ اس کے بعد 2015 میں سعودی قیادت میں فوجی مداخلت ہوئی۔ 2022 میں اقوام متحدہ کی ثالثی سے جنگ بندی کے بعد بڑے پیمانے کی لڑائی میں کمی آئی تھی، تاہم حالیہ ہفتوں میں جھڑپیں دوبارہ شدت اختیار کرگئی ہیں۔

موجودہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھی ہے جب مشرق وسطیٰ میں ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان تنازعات پہلے ہی خطے میں کشیدگی بڑھا رہے ہیں۔ یمن میں دوبارہ بڑھتی ہوئی لڑائی بحیرہ احمر اور عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے بھی خطرات پیدا کرسکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button