بین الاقوامیعرب دنیا

تباہ کن سیلاب کے بعد نیپال کا موسمی انصاف اور 2 کروڑ ڈالر معاوضے کا مطالبہ

نیپال نے حالیہ تباہ کن سیلاب کے بعد موسمی انصاف اور 2 کروڑ ڈالر معاوضے کا مطالبہ کیا ہے۔ 26 اگست کو نیپال اور چین کے تبت خطے میں آنے والی شدید تباہی میں 1,300 سے زائد افراد ہلاک اور 5,000 سے زیادہ لاپتہ ہوگئے۔ ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی نے اس آفت کے اثرات کو مزید شدید کیا۔

یہ تباہی ہمالیہ میں ایک پہاڑی گلیشیئر کا حصہ ٹوٹنے کے بعد شروع ہوئی، جس کے نتیجے میں پانی اور کیچڑ کا شدید ریلہ نیپال کے راسووا اور نوواکوت علاقوں اور تبت کی جانب بہہ نکلا۔

نیپال کے وزیر خارجہ شیشیر خانال نے کہا کہ ان کا ملک ایسے عالمی بحران کی قیمت ادا کررہا ہے جسے اس نے پیدا نہیں کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ نیپال کے لیے مدد کو خیرات کے بجائے موسمی انصاف کے تناظر میں دیکھا جائے۔

اقوام متحدہ سے معاوضے کی اپیل

صدر رام چندر پاؤڈیل نے بھی عالمی برادری سے ماحولیاتی طور پر کمزور ممالک کے لیے مؤثر اقدامات اور موسمی انصاف یقینی بنانے کی اپیل کی۔

وزارت خزانہ اور وزارت ماحولیات نے مشترکہ طور پر اقوام متحدہ کو خط بھیج کر موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصانات کے لیے قائم فنڈ سے 2 کروڑ ڈالر معاوضے کی درخواست کی ہے۔ تاہم اس فنڈ کو پہلے ہی 2.8 ارب ڈالر کے مالی خلا کا سامنا ہے۔

موسمیاتی تبدیلی کا بڑا اثر

نیپال عالمی گرین ہاؤس گیس اخراج میں 0.1 فیصد سے بھی کم حصہ ڈالتا ہے اور اپنی زیادہ تر بجلی قابل تجدید ذرائع سے حاصل کرتا ہے، لیکن ہمالیائی جغرافیہ اسے شدید موسمی واقعات کے لیے انتہائی حساس بناتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق نیپال کے گلیشیئر تقریباً تین دہائیوں میں اپنے برفانی حجم کا تقریباً ایک تہائی کھوچکے ہیں۔ ماحولیاتی کارکن تنو جا پانڈے نے کہا کہ موسمی انصاف کا مطالبہ ملک میں موجود اجتماعی مایوسی کی عکاسی کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button