چلیمی سرنگ میں پھنسے 6 افراد کی جان بچانے کی کوشش، بھارت اور نیپال کی مشترکہ کارروائی
نیپال کے راسووا ضلع میں چلیمی پن بجلی منصوبے کی سرنگ میں پھنسے چھ افراد کو زندہ نکالنے کے لیے نیپالی اور بھارتی فوج کی مشترکہ ٹیم منگل کو وقت کے خلاف دوڑ رہی ہے۔ 26 اگست کے تباہ کن سیلاب کے 14ویں دن بھی ان افراد کے زندہ ہونے کی امید برقرار ہے، کیونکہ سرنگ میں کارکنوں کے لیے رہائش اور کھانے کا انتظام موجود تھا۔
نیپالی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل راجا رام بسنیٹ کے مطابق ٹیم سرنگ کے اندر 115 میٹر سے زیادہ تک داخل ہوچکی ہے۔ تاہم محدود جگہ اور دشوار حالات کے باعث امدادی کارروائی انتہائی مشکل ہے۔ 22 میگاواٹ چلیمی پن بجلی منصوبے کی سرنگ بھوٹے کوشی دریا کے قریب اور تبت سرحد سے تقریباً 14 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔
سرنگ میں راستہ بنانے کی کوشش
حکام کے مطابق راسووا کے مختلف پن بجلی منصوبوں میں لاپتہ تقریباً 900 کارکنوں میں سے 121 کے سرنگوں میں پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔
حالیہ دنوں میں کچھ افراد کو زندہ بچایا بھی جاچکا ہے۔ سنجے ساہ اور کبیر مہرجن کو 4 ستمبر کو اپر تریشولی پن بجلی منصوبے کی سرنگ سے زندہ نکالا گیا۔ 5 ستمبر کو چینی شہری لوہائتاؤ کو بھی سرنگ سے نکالا گیا، جبکہ اسی روز نوواکوت ضلع میں 64 سالہ چندریکا شریستھا کو سیلاب زدہ گھر سے زندہ بچایا گیا۔
سیلاب سے بڑے پیمانے پر تباہی
نیپال میں آنے والے سیلاب میں پانی کے ساتھ ملبہ پن بجلی منصوبوں کی متعدد سرنگوں میں داخل ہوگیا، جس سے کارکن اندر پھنس گئے۔ حکام کے مطابق اب تک 1,357 افراد ہلاک اور 5,326 لاپتہ ہیں، جبکہ تقریباً 13,600 افراد کو بچایا جاچکا ہے۔



