بین الاقوامیعرب دنیا

دوسری زندگی نیپال کی سرنگ میں ۹ دن پھنسے انجینئر معجزانہ طور پر زندہ بچ گئے

نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد پن بجلی منصوبے کی سرنگ میں نو دن تک پھنسے رہنے والے مکینیکل انجینئر سنجے ساہ اور کارکن کبیر مہاراجن کو جمعہ کے روز بحفاظت نکال لیا گیا۔ سنجے نے بتایا کہ اندھیرے میں زندگی اور موت کے درمیان انتظار کے دوران انہوں نے امید اور حوصلے کے ساتھ مشکل حالات کا سامنا کیا۔

سیلابی پانی سرنگ میں داخل ہوا

سنجے تریشولی دریا کے قریب واقع تریشولی تھری اے پن بجلی منصوبے کے کنٹرول روم کے ذمہ دار تھے۔ سیلاب آنے کے وقت وہاں تقریباً ۴۰ سے ۴۵ کارکن موجود تھے۔ پانی اور ملبہ تیزی سے سرنگ میں داخل ہونے لگا تو سنجے نے کارکنوں کو محفوظ مقامات کی طرف جانے کی ہدایت دی، لیکن اسی دوران وہ خود بھی سرنگ میں پھنس گئے۔

ان کے مطابق وہ اور کبیر تقریباً ۱۷۰ میٹر اندر پھنسے ہوئے تھے۔ سنجے نے بتایا کہ ان کے قریب صرف تین یا چار افراد تھے، تاہم امکان ہے کہ مزید کارکن بجلی گھر کی جانب سرنگ کے اندر پھنسے ہوں۔

نو دن تک امید قائم رکھی

سنجے نے کہا کہ سرنگ بہت طویل ہے اور پانی کی شدید روانی کے باعث کچھ افراد مزید اندر بھی پھنس سکتے ہیں۔ کھانے اور پانی کے بغیر نو دن گزارنا انتہائی مشکل تھا، تاہم سرنگ کے اندر موجود ہوا کی خالی جگہوں نے ان کے زندہ رہنے میں مدد دی ہوگی۔

سنجے اور کبیر کو جمعہ کے روز امدادی ٹیموں نے سرنگ سے باہر نکالا۔ امدادی کارکنوں نے سنجے کو بتایا کہ انہیں دوسری زندگی ملی ہے۔

دوسری جانب کبیر کی اہلیہ ہیرا شوبھا نے شوہر کے بچ جانے پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوسری زندگی کے ساتھ واپس آئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان نو دنوں میں خاندان نہ ٹھیک سے کھا سکا اور نہ سو سکا، لیکن انہیں یقین تھا کہ کبیر زندہ ہیں اور واپس آئیں گے۔

سنجے اور کبیر کی بقا نے ان سینکڑوں کارکنوں کے اہل خانہ میں بھی امید پیدا کردی ہے جو مختلف پن بجلی منصوبوں میں تاحال پھنسے ہوئے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button