قلم عاجز ہے کعبے کا بیاں، اب اور کیا لکھیں

یہ نظم حرمِ کعبہ کی عظمت، تقدیس، روحانی فیضان اور اس سے وابستہ عقیدت کا نہایت پُراثر اظہار ہے۔ شاعر نے کعبۃ اللہ کو صرف ایک مقدس مقام کے طور پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل، انبیائے کرام کی نسبت، عبادت، ایمان اور بخشش کے مرکز کے طور پر پیش کیا ہے۔ ذیل میں ہر شعر کی الگ الگ تشریح اسی ادبی انداز میں پیش کی جا رہی ہے۔
1
دیارِ کعبہ وہ شہرِ مقدس افضل و اعلیٰ
کہ جس کے ذرے ذرے میں ہے نورِ باری تعالیٰ
شاعر بیان کرتے ہیں کہ کعبہ شریف اور اس کے گرد آباد شہرِ مکہ دنیا کے تمام مقدس مقامات میں نہایت افضل اور اعلیٰ مقام رکھتا ہے۔ اس مقدس سرزمین کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نور سے معمور ہے۔ شاعر کے نزدیک مکہ مکرمہ کی عظمت کسی ظاہری حسن کی وجہ سے نہیں بلکہ اس نسبت کی وجہ سے ہے جو اسے اللہ تعالیٰ کے مقدس گھر سے حاصل ہے۔
2
خدا کے حکم سے آدم نے بنیادِ وفا رکھی
خلیل اللہ نے اس کی فضیلت اور روشن کی
شاعر بیان کرتے ہیں کہ حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے اس مقدس گھر کی بنیادِ وفا قائم کی۔ بعد ازاں حضرت ابراہیم علیہ السلام، جنہیں خلیل اللہ یعنی اللہ کا دوست کہا جاتا ہے، نے تعمیرِ کعبہ کے ذریعے اس مقام کی عظمت اور فضیلت کو مزید نمایاں کیا۔ یوں کعبہ شریف کی تاریخ حضرت آدم علیہ السلام سے حضرت ابراہیم علیہ السلام تک انبیائے کرام کی نسبتوں سے منور دکھائی دیتی ہے۔
3
زمیں پر عرش کے نیچے عبادت گاہِ عالم ہے
ازل سے تا ابد جاری فیضانِ زم زم ہے
شاعر اس شعر میں کعبۃ اللہ کی عالمگیر حیثیت بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ زمین پر یہ وہ عظیم عبادت گاہ ہے جہاں دنیا بھر کے مسلمان اللہ تعالیٰ کے حضور عبادت کے لیے حاضر ہوتے ہیں۔ آبِ زم زم کے بارے میں شاعر کہتے ہیں کہ اس کا فیضان قدیم زمانے سے آج تک جاری ہے اور قیامت تک جاری رہے گا۔ گویا کعبہ اور زم زم دونوں اللہ تعالیٰ کی رحمت اور برکت کے دائمی مظاہر ہیں۔
4
طوافِ خانۂ اشرف عبادت سے عبارت ہے
نظر بھر کر دیکھنا بھی تو عبادت ہی عبادت ہے
شاعر بیان کرتے ہیں کہ خانۂ کعبہ، جو نہایت مقدس اور معزز گھر ہے، اس کا طواف بذاتِ خود ایک عظیم عبادت ہے۔ کعبہ شریف کے گرد عقیدت و محبت کے ساتھ چکر لگانا بندۂ مؤمن کو اللہ تعالیٰ کے قریب ہونے کا احساس عطا کرتا ہے۔ شاعر مزید عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کعبہ شریف کو محبت اور عقیدت سے دیکھنا بھی عبادت کے احساس سے سرشار کر دیتا ہے۔
5
یہی مکۂ رسولِ پاک کا مولد بھی مسکن بھی
یہی کعبہ، یہی بیت الحرم کا درپن بھی
شاعر کہتے ہیں کہ یہی وہ مقدس شہر ہے جہاں رسولِ اکرم حضرت محمد ﷺ کی ولادتِ مبارکہ ہوئی اور جس شہر سے آپ ﷺ کی زندگی کی عظیم نسبت وابستہ ہے۔ "مسکن” سے مراد رہنے کی جگہ ہے، جبکہ "درپن” کے معنی آئینہ کے ہیں۔ شاعر کے نزدیک کعبہ شریف ہی بیت الحرم کی عظمت و تقدس کا آئینہ ہے، جس میں اس مقدس سرزمین کی روحانی شان نمایاں ہوتی ہے۔
6
یہیں پہلے وحی نازل ہوئی، قرآن بھی اترا
سورجے کی بشارت کا نیا فرمان بھی اترا
شاعر اس شعر میں مکہ مکرمہ کو نزولِ وحی اور قرآنِ کریم کی نسبت سے عظیم قرار دیتے ہیں۔ اسی مقدس سرزمین پر رسولِ اکرم ﷺ پر وحی کا آغاز ہوا اور قرآنِ مجید کا نزول شروع ہوا۔ شاعر اس واقعے کو انسانیت کے لیے ایک عظیم بشارت اور اللہ تعالیٰ کے نئے فرمان کے طور پر پیش کرتے ہیں، جس نے انسان کو ہدایت، حق اور نجات کا راستہ دکھایا۔
7
یہیں پہلے پہل جن و ملک نے سر جھکایا ہے
یہ وہ چوکھٹ ہے جس سے انبیاء نے فیض پایا ہے
شاعر بیان کرتے ہیں کہ یہ وہ مقدس مقام ہے جہاں جن و ملائکہ بھی اللہ تعالیٰ کے حضور سرِ تسلیم خم کرتے ہیں۔ کعبہ شریف کو وہ ایسی عظیم چوکھٹ قرار دیتے ہیں جس سے انبیائے کرام نے نسبت اور فیض حاصل کیا۔ اس شعر میں شاعر کعبۃ اللہ کی عظمت کو انبیاء، ملائکہ اور عالمِ غیب کی نسبتوں کے ذریعے مزید بلند کرتے ہیں۔
8
نمازیں اور دعائیں اور وظائف کعبۃ اللہ میں
خدا کے پاک کے تحفے تحائف کعبۃ اللہ میں
شاعر کہتے ہیں کہ کعبۃ اللہ میں ادا کی جانے والی نمازیں، دعائیں اور دیگر عبادات بندۂ مؤمن کے لیے بے حد قیمتی ہیں۔ یہاں انسان اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتا، دعا کرتا اور اپنی حاجات پیش کرتا ہے۔ شاعر کے نزدیک یہ تمام عبادات دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندوں کے لیے عطا کردہ روحانی تحفے ہیں، جو انسان کے دل کو پاکیزگی اور سکون عطا کرتے ہیں۔
9
اُنھیں ملتے ہیں جو تقدیر والے لوگ ہوتے ہیں
عبث نادان اپنی زندگی غفلت میں کھوتے ہیں
شاعر بیان کرتے ہیں کہ کعبۃ اللہ کی زیارت اور حاضری ہر شخص کے لیے ایک عظیم سعادت اور خوش بختی ہے۔ جو لوگ اس مقدس مقام تک پہنچتے ہیں، وہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ کے فضل اور خوش نصیبی سے نوازے جاتے ہیں۔ اس کے مقابلے میں شاعر ان لوگوں کو نادان قرار دیتے ہیں جو زندگی کی اصل حقیقت کو بھلا کر غفلت اور بے مقصد مشاغل میں اپنی قیمتی زندگی ضائع کر دیتے ہیں۔
10
وہ اک جذبہ، وہ اک کیفیت، الہام و عرفاں ہے
کہ جس کی ابتداء ‘لبیک’ کے نغمے میں پنہاں ہے
شاعر بیان کرتے ہیں کہ حج یا عمرہ کے سفر میں انسان کے دل میں ایک ایسی روحانی کیفیت پیدا ہوتی ہے جسے عام الفاظ میں بیان کرنا مشکل ہے۔ "الہام و عرفاں” سے مراد روحانی آگہی، معرفت اور اللہ تعالیٰ کی قربت کا احساس ہے۔ اس کیفیت کا آغاز "لبیک” کی صدا سے ہوتا ہے۔ جب بندہ کہتا ہے "لبیک” تو گویا وہ اپنے رب کی پکار پر حاضر ہونے، اطاعت کرنے اور خود کو اس کے سپرد کرنے کا اعلان کرتا ہے۔
11
وہی جذبہ ہمارا، آپ کا اور سب کا ایماں ہے
سوادِ شہرِ کعبہ منزلت میں باغِ رضواں ہے
شاعر کہتے ہیں کہ کعبۃ اللہ کی طرف کھینچنے والا یہ روحانی جذبہ صرف کسی ایک شخص کا نہیں بلکہ ہر مسلمان کے ایمان کا حصہ ہے۔ کعبہ کی محبت پوری امت کو ایک مرکز پر جمع کرتی ہے۔ "سوادِ شہرِ کعبہ” سے مراد شہرِ مکہ کی آبادی اور اس کا مقدس ماحول ہے، جسے شاعر عظمت و مرتبے کے اعتبار سے باغِ رضواں، یعنی جنت کے باغ سے تشبیہ دیتے ہیں۔ اس تشبیہ سے مکہ مکرمہ کی روحانی عظمت مزید نمایاں ہوتی ہے۔
12
قلم عاجز ہے کعبے کا بیاں اب اور کیا لکھیں
عبادت ہی عبادت ہے مسلسل دیکھتے بیٹھیں
شاعر کہتے ہیں کہ کعبہ شریف کی عظمت و تقدس اس قدر بے پایاں ہے کہ قلم اس کی مکمل تعریف بیان کرنے سے عاجز ہے۔ انسان جتنا بھی لکھے، اس مقدس مقام کی حقیقت اور عظمت کا حق ادا نہیں کر سکتا۔ شاعر کی عقیدت اس حد تک پہنچ جاتی ہے کہ انہیں کعبہ شریف کا تصور ہی عبادت محسوس ہوتا ہے۔ گویا کعبہ کو دیکھنا، اس کی عظمت پر غور کرنا اور اس کے سامنے بیٹھنا بھی دل کو عبادت کی کیفیت سے بھر دیتا ہے۔
13
خدا کا فضل شامل ہے، خدا کے گھر پہ آئے ہیں
شفیعُ العالمین کے اُمتی اس در پہ آئے ہیں
شاعر بیان کرتے ہیں کہ کعبۃ اللہ کی حاضری دراصل اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے بغیر ممکن نہیں۔ جو شخص خدا کے گھر تک پہنچ جاتا ہے، وہ اپنے آپ کو خوش قسمت محسوس کرتا ہے کہ اسے اس مقدس مقام پر حاضری نصیب ہوئی۔ شاعر اپنی نسبت کو مزید باوقار بناتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہم شفیعُ العالمین، حضرت محمد ﷺ کے امتی ہیں اور اسی نسبت کی برکت سے اللہ کے مقدس در پر حاضر ہوئے ہیں۔
14
مرادیں عاصیوں کی بس وہی برلانے والا ہے
طواف و سعی و عمرہ حجِ اکبر شانِ مولا ہے
شاعر اللہ تعالیٰ کی رحمت اور قدرت پر کامل یقین کا اظہار کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ گناہ گار بندوں کی مرادیں پوری کرنے والا حقیقی طور پر اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ کعبہ شریف کے گرد طواف، صفا و مروہ کے درمیان سعی، عمرہ اور حج جیسی عبادات اللہ تعالیٰ کی عظمت اور شان کو ظاہر کرتی ہیں۔ یہاں شاعر اپنے گناہوں کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رحمت، بخشش اور قبولیت سے امید وابستہ کرتے ہیں۔
15
وقارِ ہند عاصی پر معاصی در پہ حاضر ہے
ترحم ربِ کعبہ تو ہی قادر، تو ہی ناظر ہے
یہاں شاعر اپنے تخلص "وقارِ ہند” کے ذریعے خود کو مخاطب کرتے ہیں۔ وہ نہایت عاجزی سے اعتراف کرتے ہیں کہ وہ ایک عاصی اور گناہ گار بندے کی حیثیت سے اللہ تعالیٰ کے در پر حاضر ہیں۔ ان کے پاس اپنے گناہوں کے علاوہ کوئی خاص دعویٰ نہیں، مگر انہیں اپنے رب کی رحمت پر کامل بھروسا ہے۔
آخر میں شاعر نہایت درد مندانہ انداز میں اللہ تعالیٰ سے عرض کرتے ہیں:
اے ربِ کعبہ! مجھ پر رحم فرما، کیونکہ تو ہی قادرِ مطلق ہے اور تو ہی میرے ظاہر و باطن سے پوری طرح باخبر ہے۔
یہاں نظم کا اختتام عقیدت، عاجزی، توبہ، امید اور رحمتِ الٰہی پر ہوتا ہے۔ شاعر اپنی کم مائیگی کا اقرار کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بے پایاں قدرت و رحمت کے سامنے سرِ تسلیم خم کر دیتے ہیں۔



