ادب

ادب کی دنیا سے بہترین افسانے، کہانیاں، تنقید، شاعری اور معروف ادیبوں کے مضامین۔ معیاری ادبی مواد صرف وقارِ ہند پر۔

  • chatgpt image sep 6, 2026, 08 41 18 pm

    اردو زبان و ادب، بالخصوص دکن کی زرخیز تہذیب و تمدن میں کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جن کی پوری زندگی قلم، قرطاس اور زبان و بیان کی خدمت کے لیے وقف ہوتی ہے۔ حضرت وقار خلیل ایسی ہی ایک نابغہ روزگار اور ہم جہت شخصیت کا نام ہیں، جنہوں نے اپنی بے پناہ صلاحیتوں سے نہ صرف اردو صحافت کو ایک نیا رنگ اور آہنگ بخشا، بلکہ بچوں کے ادب کی آبیاری اور جدید و کلاسیکی شعری روایت میں بھی گراں قدر اضافے کیے۔ دکن کی یہ وہ مٹی ہے جہاں صوفیا اور ادبا نے ہمیشہ محبت، علم اور اخوت کا درس دیا، اور وقار خلیل اسی روایت کے امین و پاسبان تھے۔ خاندانی پس منظر اور اجداد کا علمی ورثہ حضرت وقار خلیل کا خاندانی پس منظر علم، تصوف اور اردو زبان کی خدمت سے مالا مال ہے۔ آپ کا اصل نام سید شاہ محمد خلیل الرحمن حسینی…

    مزید پڑھیں »
  • chatgpt image sep 4, 2026, 12 44 04 pm

    ۳۳ نعت عطا ہو نطق کو طاقت جو کچھ سنانے کی بیاں کروں میں حدیثِ وفا زمانے کی بہارِ کون و مکاں جس کو لوگ کہتے ہیں وہ اک جھلک ہے محمد کے آستانے کی وہ ایک نامِ مقدس وہ ایک حرفِ عمل! اُس ایک نام سے نسبت ہے ہر فسانے کی کلیمِ دانش و حکمت، اُمینِ دیدہ و دل کہ جس کی عظمت و توقیر کبریا نے کی وہ ایک مہرِ جہاں تاب و صاحبِ معراج کہ جس سے دیر تلک گفتگو خدا نے کی ہر ایک دور نے دیکھا کہ مردِ مومن کو ہجومِ غم میں بھی عادت ہے مسکرانے کی خدا کرے کہ گدائی کا ہو شرف حاصل حضورِ شافعِ محشر کے آستانے کی بس ایک نام محمد کا ورد کافی ہے تمھارے ہاتھ ہیں پھر قسمتیں زمانے کی وہ سرزمین جو اجالوں کی رہگزر ہے وقار بنے گی کل وہی سرخی نئے زمانے کی

    مزید پڑھیں »
  • chatgpt image sep 4, 2026, 12 33 30 pm

    یہ نظم حرمِ کعبہ کی عظمت، تقدیس، روحانی فیضان اور اس سے وابستہ عقیدت کا نہایت پُراثر اظہار ہے۔ شاعر نے کعبۃ اللہ کو صرف ایک مقدس مقام کے طور پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے فضل، انبیائے کرام کی نسبت، عبادت، ایمان اور بخشش کے مرکز کے طور پر پیش کیا ہے۔ ذیل میں ہر شعر کی الگ الگ تشریح اسی ادبی انداز میں پیش کی جا رہی ہے۔ 1 دیارِ کعبہ وہ شہرِ مقدس افضل و اعلیٰکہ جس کے ذرے ذرے میں ہے نورِ باری تعالیٰ شاعر بیان کرتے ہیں کہ کعبہ شریف اور اس کے گرد آباد شہرِ مکہ دنیا کے تمام مقدس مقامات میں نہایت افضل اور اعلیٰ مقام رکھتا ہے۔ اس مقدس سرزمین کا ذرہ ذرہ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور نور سے معمور ہے۔ شاعر کے نزدیک مکہ مکرمہ کی عظمت کسی ظاہری حسن کی وجہ سے نہیں بلکہ اس نسبت کی وجہ سے…

    مزید پڑھیں »
  • chatgpt image sep 4, 2026, 12 13 05 pm

    وقار خلیل کی یہ غزل انسانی جذبات، محبت، وفا، تنہائی، شکستگی اور امید کے مختلف رنگوں کو نہایت خوب صورت اور مؤثر انداز میں پیش کرتی ہے۔ شاعر ایک ایسے معاشرے کی تصویر کشی کرتے ہیں جہاں مصلحت آمیز رویّے، جھوٹ اور مفاد پرستی عام ہے، لیکن اس کے باوجود وہ انسان کو وفا، محبت اور امید کا دامن تھامے رکھنے کی تلقین کرتے ہیں۔ غزل میں تیرگی کے مقابلے میں چراغِ امید، تنہائی کے مقابلے میں محبت اور شکستگی کے مقابلے میں وسیع ظرفی کو نمایاں کیا گیا ہے۔ وقار خلیل کے اشعار میں ایک طرف زندگی کی تلخیوں اور معاشرتی رویّوں کا احساس ہے تو دوسری طرف ایک ایسی روشن امید بھی موجود ہے جو انسان کو اندھیروں میں بھی آگے بڑھنے کا حوصلہ دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ غزل محض جذبات کا اظہار نہیں بلکہ زندگی کو حوصلے، محبت اور امید کے ساتھ جینے کا…

    مزید پڑھیں »
  • kasooti

    کسوٹی

    زرش اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ بڑے ہی ناز نعم میں پلی بڑھی تھی۔ جس چیز کی خواہش کی‘ آرزو کی وہ منٹوں میں پوری ہوجاتی۔ بچپن ہی سے اس کو پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ اُردو ادب سے اسے دیوانگی کی حد تک لگاؤ تھا جیسے ہی کچھ پل فرصت کے ملے وہ اپنی کتابیں لے کر درختوں کے جھنڈ میں بیٹھ جاتی۔ آج صبح ہی سے موسم حبس زدہ تھا۔ گرمی کے مارے برا حال تھا۔ ہوا بالکل بند تھی وہ گرمی سے بے نیاز درختوں کے جھنڈ میں بیٹھی کتاب میں پوری طرح مگن تھی۔ یہ درخت اسے بچپن ہی سے اپنی طرف کھینچتے تھے۔ اس وقت بھی فضاء بالکل ساکت تھی۔ کوئی آواز نہ تھی۔ اچانک ہی جھاڑیوں میں کچھ آہٹ ہوئی۔ زرش نے بے ساختہ پلٹ کر دیکھا۔ پیچھے کھڑی شخصیت کو دیکھ کراس کے گلابی لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ آگئی۔ حسب…

    مزید پڑھیں »
  • home

    شرجیل اور اسلم بچپن کے دوست تھے ایک ہی اسکول میںپڑھتے۔ گھر بھی دونوں کے ایک ہی کالونی میںتھے۔ دونوں ساتھ ساتھ جوانی کی منزلیں طئے کرنے لگے۔ دونوں کے گھر کا ماحول بالکل جدا تھا۔ شرجیل کی امی مذہبی،پردہ دار خاتون تھیں مگر اسلم کے والدین آزاد خیال تھے۔ ان کے گھر کا ماحول کچھ ٹھیک نہیںتھا۔ والد اپنے بزنس کی وجہ سے اکثر شہر سے باہر رہتے۔ والدہ آزاد خیال تھیں۔ وہ بھی اکثر گھر سے باہر ہی مصروف رہتیں۔ بھائی بہنیں سب مغربی تہذیب کے دلدادہ……. بہنیں بھی بے پردہ اور فیشن ایبل۔ مگر سب ہی دل کے بہت مخلص تھے۔ یہی وجہ تھی کہ دونوں دوستوں کا ماحول یکسر مختلف ہونے کے باوجود ان کی دوستی میںکوئی فرق نہیں تھا۔ان حالات کے پیش نظر شرجیل کی امی بہت فکر مند تھیں اور بیٹے کو مشورہ دینے لگیں۔’’میرا خیال ہے شرجیل تم اسلم سے دوستی میں ذرادوری…

    مزید پڑھیں »
  • malik zada manzoor ahmed

    اپنے مرنے کی خبر جھوٹی اڑادی میں نےزندہ رہنا ہے تو اخبار میں رہنا ہے مجھے شاعروں، ادیبوں اور ادب سے محبت کرنے والوں کا بہترین دوست ‘ مشاعروں کی مقبولیت کی ضمانت سمجھے جانے والے اور دلکش آواز کے مالک‘شاعر‘نقاد وناظم مشاعرہ پروفیسر ملک زادہ منظور احمد کا مختصر علالت کے باعث انتقال ہوگیا۔ ملک زادہ منظور احمد سے میری ملاقات حیدرآباد میں ادبی ٹرسٹ کے مشاعرہ میں والد محترم جناب وقارؔ خلیل صاحب کے توسط سے ہوئی۔ میں نے اُن کا کلام ریکارڈ کیا۔ جب مشاعرہ اختتام پذیر ہوا تب میں نے اُن کاکلام سنایا تو بہت خوش ہوئے اور کہا وقارؔ تمہارا بچہ تو کافی بہترین ریکارڈنگ کرتا ہے ہاں !اسے مشاعروں کی ریکارڈنگ کرنا اور سننا بہت پسند ہے تو انہوں نے برجستہ کہا اُردو کامستقبل نوجوانوں کے ہاتھوں میں زیادہ محفوظ ہے بشرطیکہ وہ اُردو جانیں اور عام زندگی میں برتیں۔بد قسمتی سے ایسا نہیں…

    مزید پڑھیں »
  • aqeel sir

    برصغیر ہند و پاک کے معروف شاعر اور فلمی نغمہ نگار ندافاضلی اس دُنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کی عمر 77 برس تھی۔ندا فاضلی کا اصلی نام مقتدا حسن تھا۔ بالی ووڈ کی فلمی دنیاکیلئے بے شمار یادگار گیت تخلیق کرنے کے علاوہ ان کے لکھی گئی غزلوں کو جگجیت سنگھ اور کئی دوسرے گلو کاروںنے لاکھوں افراد تک پہنچایا۔ندا فاضلی صاحب سے میری پہلی ملاقات حیدرآباد میں شائد ادبی ٹرسٹ یا شنکر جی مشاعرے میں والد محترم حضرت وقارؔ خلیل صاحب کے توسط سے ہوئی تھی۔ مجھے نامور گلو کاروں کی غزلیں اور مشاعرے سننا بہت پسند تھا اور عظیم شاعروں کے آٹو گراف بھی لیا کرتا تھا۔ میں اُن کے’’ آہستہ آہستہ‘‘ اور ’’بازار‘‘ کے گیت سے بہت متاثر تھا۔ والد صاحب نے انہیں بتایا کہ یہ ’’ہر روز آپ کے گیت بڑی آواز میں سنا کرتا ہے‘‘۔ وہ یکلخت مسکرائے اور انہوں نے برجستہ کہا کہ وقارؔ…

    مزید پڑھیں »
  • sahara

    سہارا

    مجھے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے اپنا وطن چھوڑنا پڑا۔ اور بظاہر شمیم مجھ سے الگ ہوگئی۔ اب میں تھا اور میری تعلیمی مصروفیت۔ اکثر مجھے شمیم کا خیال آجاتا اور میںسوچنے لگ جاتا۔ اللہ جانے اس نے وہ پایا یا نہیں جس کی شمیم کو تمنا تھی؟ اس سوال کے جواب میں میرا تصور مایوس کن تصویریں پیش کرتا۔ اور پھر میں گھنٹوں اسی تصور میںالجھا رہتا۔ گرمیوں کی طویل چھٹیوںمیں گھر واپس اپنے وطن آیا۔ میرے کان نہ جانے کیوں شمیم کے تعلق سے کوئی نئی خبر سننے کیلئے بے تاب تھے۔ آخر رات کوکھانے کی میز پر امی جان نے ناک منھ چڑھا کے کہا۔’’آج سنا ہے بی بی شمیم اپنے شوہر کے گھر سے نکل کر میکے چلی آئی ہے۔ میں تو کہوں بھئی آفرین ہے ایسی لڑکی جومرتے مرتے زندگی کا ثبوت دے رہی ہے۔ نگوڑی گور کے کنارے ہے۔ سنتی ہوں خون تھوک…

    مزید پڑھیں »
  • enhanced image

    حامد ‘محلے کے تمام لوگوں کو سیدھی راہپر چلنے کو کہتا اور خود مکان میں لڑائی کرتا لو گ پریشان ہوتے ہیں کیونکہ جب بھی کوئی حامد کے مکان سے گذرتا ہے تو اندر سے چیخ و پکار اور لڑائی جھگڑوں کی آوازیں آتی ہے حامدہر بات پر اپنی بیوی بچوں سے لڑتا اور اپنی اہلیہ سے کہتا کے تمہیں کھانا بنانے نہیں آتا ۔ کبھی نمک کم کرتی ہو تو کبھی مرچ، اُوپر سے ناشتہ بنانے میں دیرکرتی ہو۔ اسی وجہ سے مجھے کام پر جانے میںدشواریاں ہوتی ہیں۔ رضیہ کہتی ہے تم وقت پر سبزی نہیں لاتے ۔ اسلئے ناشتہ تیار نہیں ہوتا ۔اس میں میرا کیا قصور۔حامد تمہں لڑائی کیلئے کوئی نہ کوئی باحانہ ڈھونڈ لتے ہو۔ مگر تم مجھے ایک بھی بات کرنے نہیں دیتی ۔حامدتمہیں معلوم ہونا چاہیئے۔ گھر کا سارا کام مجھ پرہے کپڑے برتن ، جھاڑو ، پوچہ، بچوں کو اسکول کیلئے تیار…

    مزید پڑھیں »
Back to top button