ادب
ادب کی دنیا سے بہترین افسانے، کہانیاں، تنقید، شاعری اور معروف ادیبوں کے مضامین۔ معیاری ادبی مواد صرف وقارِ ہند پر۔
-
زرش اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ بڑے ہی ناز نعم میں پلی بڑھی تھی۔ جس چیز کی خواہش کی‘ آرزو کی وہ منٹوں میں پوری ہوجاتی۔ بچپن ہی سے اس کو پڑھنے کا بہت شوق تھا۔ اُردو ادب سے اسے دیوانگی کی حد تک لگاؤ تھا جیسے ہی کچھ پل فرصت کے ملے وہ اپنی کتابیں لے کر درختوں کے جھنڈ میں بیٹھ جاتی۔ آج صبح ہی سے موسم حبس زدہ تھا۔ گرمی کے مارے برا حال تھا۔ ہوا بالکل بند تھی وہ گرمی سے بے نیاز درختوں کے جھنڈ میں بیٹھی کتاب میں پوری طرح مگن تھی۔ یہ درخت اسے بچپن ہی سے اپنی طرف کھینچتے تھے۔ اس وقت بھی فضاء بالکل ساکت تھی۔ کوئی آواز نہ تھی۔ اچانک ہی جھاڑیوں میں کچھ آہٹ ہوئی۔ زرش نے بے ساختہ پلٹ کر دیکھا۔ پیچھے کھڑی شخصیت کو دیکھ کراس کے گلابی لبوں پر بے ساختہ مسکراہٹ آگئی۔ حسب…
مزید پڑھیں » -
شرجیل اور اسلم بچپن کے دوست تھے ایک ہی اسکول میںپڑھتے۔ گھر بھی دونوں کے ایک ہی کالونی میںتھے۔ دونوں ساتھ ساتھ جوانی کی منزلیں طئے کرنے لگے۔ دونوں کے گھر کا ماحول بالکل جدا تھا۔ شرجیل کی امی مذہبی،پردہ دار خاتون تھیں مگر اسلم کے والدین آزاد خیال تھے۔ ان کے گھر کا ماحول کچھ ٹھیک نہیںتھا۔ والد اپنے بزنس کی وجہ سے اکثر شہر سے باہر رہتے۔ والدہ آزاد خیال تھیں۔ وہ بھی اکثر گھر سے باہر ہی مصروف رہتیں۔ بھائی بہنیں سب مغربی تہذیب کے دلدادہ……. بہنیں بھی بے پردہ اور فیشن ایبل۔ مگر سب ہی دل کے بہت مخلص تھے۔ یہی وجہ تھی کہ دونوں دوستوں کا ماحول یکسر مختلف ہونے کے باوجود ان کی دوستی میںکوئی فرق نہیں تھا۔ان حالات کے پیش نظر شرجیل کی امی بہت فکر مند تھیں اور بیٹے کو مشورہ دینے لگیں۔’’میرا خیال ہے شرجیل تم اسلم سے دوستی میں ذرادوری…
مزید پڑھیں » -
اپنے مرنے کی خبر جھوٹی اڑادی میں نےزندہ رہنا ہے تو اخبار میں رہنا ہے مجھے شاعروں، ادیبوں اور ادب سے محبت کرنے والوں کا بہترین دوست ‘ مشاعروں کی مقبولیت کی ضمانت سمجھے جانے والے اور دلکش آواز کے مالک‘شاعر‘نقاد وناظم مشاعرہ پروفیسر ملک زادہ منظور احمد کا مختصر علالت کے باعث انتقال ہوگیا۔ ملک زادہ منظور احمد سے میری ملاقات حیدرآباد میں ادبی ٹرسٹ کے مشاعرہ میں والد محترم جناب وقارؔ خلیل صاحب کے توسط سے ہوئی۔ میں نے اُن کا کلام ریکارڈ کیا۔ جب مشاعرہ اختتام پذیر ہوا تب میں نے اُن کاکلام سنایا تو بہت خوش ہوئے اور کہا وقارؔ تمہارا بچہ تو کافی بہترین ریکارڈنگ کرتا ہے ہاں !اسے مشاعروں کی ریکارڈنگ کرنا اور سننا بہت پسند ہے تو انہوں نے برجستہ کہا اُردو کامستقبل نوجوانوں کے ہاتھوں میں زیادہ محفوظ ہے بشرطیکہ وہ اُردو جانیں اور عام زندگی میں برتیں۔بد قسمتی سے ایسا نہیں…
مزید پڑھیں » -
برصغیر ہند و پاک کے معروف شاعر اور فلمی نغمہ نگار ندافاضلی اس دُنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کی عمر 77 برس تھی۔ندا فاضلی کا اصلی نام مقتدا حسن تھا۔ بالی ووڈ کی فلمی دنیاکیلئے بے شمار یادگار گیت تخلیق کرنے کے علاوہ ان کے لکھی گئی غزلوں کو جگجیت سنگھ اور کئی دوسرے گلو کاروںنے لاکھوں افراد تک پہنچایا۔ندا فاضلی صاحب سے میری پہلی ملاقات حیدرآباد میں شائد ادبی ٹرسٹ یا شنکر جی مشاعرے میں والد محترم حضرت وقارؔ خلیل صاحب کے توسط سے ہوئی تھی۔ مجھے نامور گلو کاروں کی غزلیں اور مشاعرے سننا بہت پسند تھا اور عظیم شاعروں کے آٹو گراف بھی لیا کرتا تھا۔ میں اُن کے’’ آہستہ آہستہ‘‘ اور ’’بازار‘‘ کے گیت سے بہت متاثر تھا۔ والد صاحب نے انہیں بتایا کہ یہ ’’ہر روز آپ کے گیت بڑی آواز میں سنا کرتا ہے‘‘۔ وہ یکلخت مسکرائے اور انہوں نے برجستہ کہا کہ وقارؔ…
مزید پڑھیں » -
مجھے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے اپنا وطن چھوڑنا پڑا۔ اور بظاہر شمیم مجھ سے الگ ہوگئی۔ اب میں تھا اور میری تعلیمی مصروفیت۔ اکثر مجھے شمیم کا خیال آجاتا اور میںسوچنے لگ جاتا۔ اللہ جانے اس نے وہ پایا یا نہیں جس کی شمیم کو تمنا تھی؟ اس سوال کے جواب میں میرا تصور مایوس کن تصویریں پیش کرتا۔ اور پھر میں گھنٹوں اسی تصور میںالجھا رہتا۔ گرمیوں کی طویل چھٹیوںمیں گھر واپس اپنے وطن آیا۔ میرے کان نہ جانے کیوں شمیم کے تعلق سے کوئی نئی خبر سننے کیلئے بے تاب تھے۔ آخر رات کوکھانے کی میز پر امی جان نے ناک منھ چڑھا کے کہا۔’’آج سنا ہے بی بی شمیم اپنے شوہر کے گھر سے نکل کر میکے چلی آئی ہے۔ میں تو کہوں بھئی آفرین ہے ایسی لڑکی جومرتے مرتے زندگی کا ثبوت دے رہی ہے۔ نگوڑی گور کے کنارے ہے۔ سنتی ہوں خون تھوک…
مزید پڑھیں » -
حامد ‘محلے کے تمام لوگوں کو سیدھی راہپر چلنے کو کہتا اور خود مکان میں لڑائی کرتا لو گ پریشان ہوتے ہیں کیونکہ جب بھی کوئی حامد کے مکان سے گذرتا ہے تو اندر سے چیخ و پکار اور لڑائی جھگڑوں کی آوازیں آتی ہے حامدہر بات پر اپنی بیوی بچوں سے لڑتا اور اپنی اہلیہ سے کہتا کے تمہیں کھانا بنانے نہیں آتا ۔ کبھی نمک کم کرتی ہو تو کبھی مرچ، اُوپر سے ناشتہ بنانے میں دیرکرتی ہو۔ اسی وجہ سے مجھے کام پر جانے میںدشواریاں ہوتی ہیں۔ رضیہ کہتی ہے تم وقت پر سبزی نہیں لاتے ۔ اسلئے ناشتہ تیار نہیں ہوتا ۔اس میں میرا کیا قصور۔حامد تمہں لڑائی کیلئے کوئی نہ کوئی باحانہ ڈھونڈ لتے ہو۔ مگر تم مجھے ایک بھی بات کرنے نہیں دیتی ۔حامدتمہیں معلوم ہونا چاہیئے۔ گھر کا سارا کام مجھ پرہے کپڑے برتن ، جھاڑو ، پوچہ، بچوں کو اسکول کیلئے تیار…
مزید پڑھیں » -
پروفیسر رفیعہ سلطانہ آج کل اردو شاعری اس قدر عام اور اتنی ارزاں ہوئی ہے کہ معلوم ہوتا ہے اردو شاعری نے اپنا معیار اور وقار کھو دیا ہے۔ یہ امر خوش آئند بھی ہے اور تکلیف دہ بھی، خوش آئند اس لئے کہ اس سے اردو زبان کی مقبولیت اور اس کی بے پناہ محبوبیت کا اندازہ ہوتا ہے وہیں یہ دیکھ کر دکھ ہوتا ہے کہ ”طلب“ سے زیادہ ”رسد“ کی وجہ سے معیار اور درجہ میں گراوٹ آگئی ہے لیکن اس خس و خاشاک کے انبار میں ایسے پھول بھی کھلے ہیں جو مشامِ جاں کو معطرنہیں کرتے فضاءکو خوش گوار بھی بنادیتے ہیں“۔ ثاقب کا کلام ایسا گلِ تازہ ہے جس سے اردو شاعری میں ایک نئی آواز کا پتہ چلتا ہے۔ روایتی انداز سے تبصرہ کروں تو کرسکتی ہوں کہ اس میں غزلیں بھی ہیں اور نظمیں بھی لیکن سچ پوچھےئے تو یہ غزل روایتی…
مزید پڑھیں »






