کہیں دیر نہ ہو جائے

حامد ‘محلے کے تمام لوگوں کو سیدھی راہپر چلنے کو کہتا اور خود مکان میں لڑائی کرتا لو گ پریشان ہوتے ہیں کیونکہ جب بھی کوئی حامد کے مکان سے گذرتا ہے تو اندر سے چیخ و پکار اور لڑائی جھگڑوں کی آوازیں آتی ہے حامدہر بات پر اپنی بیوی بچوں سے لڑتا اور اپنی اہلیہ سے کہتا کے تمہیں کھانا بنانے نہیں آتا ۔ کبھی نمک کم کرتی ہو تو کبھی مرچ، اُوپر سے ناشتہ بنانے میں دیرکرتی ہو۔ اسی وجہ سے مجھے کام پر جانے میںدشواریاں ہوتی ہیں۔ رضیہ کہتی ہے تم وقت پر سبزی نہیں لاتے ۔ اسلئے ناشتہ تیار نہیں ہوتا ۔اس میں میرا کیا قصور۔حامد تمہں لڑائی کیلئے کوئی نہ کوئی باحانہ ڈھونڈ لتے ہو۔ مگر تم مجھے ایک بھی بات کرنے نہیں دیتی ۔حامدتمہیں معلوم ہونا چاہیئے۔ گھر کا سارا کام مجھ پرہے کپڑے برتن ، جھاڑو ، پوچہ، بچوں کو اسکول کیلئے تیار کرنا اُوپر سے تمہاری باتیں سُن کرمیرے کان پک گئے ہیں رحم کرو مجھ پر میں بھی ایک انسان ہو۔ حامدکہتا ہے،ہاں میری سچ بات ‘تم کوبری لگتی ہے۔، تمہارے لاڑ پیار کی وجہ سے بچے بگڑ رہے ہیں۔ اب وہ مجھے بھی جواب دینے لگے ہیں ۔ میں اس گھر کا ذمہ دار ہوں ۔ اور وہ تمہاری وجہ سے دن کے بارہ بجے تک سوتے رہتے ہیں۔ رضیہ کہتی ہے بس کروحامد آج چھٹی کا دن ہے سونے دو بچوں کو جب دیکھو تب بچوں کے پیچھے لگے رہتے ہو۔ میں تنگ آگئی ہو، تمہاری کرکری سے ، تمہاریطعنہکشی کے وجہ سے میرا بڑا لڑکا گھر چھوڑ کر چلا گیا۔ اُسے گئے ہوئے آج کئی دن ہوئے ایک دن بھی یاد نہیںکرتے وہ کس حال میں ہوگا۔ رضیہ‘ تم بچوں کی وجہ سے مجھ سے لڑتی ہو۔ تمہارے چھوٹے لڑکے جاویدکو دیکھو دن بھر کرکٹ میں لگا رہتا ہے۔ سمجھائو اُس کم بخت کو امتحانات قریب ہیں۔ جب بھی دیکھو کان پر موبائیل لگا رہتا ہے۔ کس سے باتیں کرتا ہے لوگ مجھے باتیں کرتے ہیں۔ رضیہ کہتی ہے حامد تم میرے بچے پر شک کر رہے ہو وہ ایسا نہیں ہے وہ نیک ہے محلہ کے تمام لوگ اُس کی تعریف کرتے ہیں۔ رضیہ تمہیں باہرکی دنیا نہیں معلوم ۔ جب سے موبائیل آیا ہے نوجوان بگڑ رہے ہیں۔ وہ ایک دن ہمارے گھر جھگڑا لائے گا۔ تہمیں میرا خیال نہیں ہے میں اس گھر کے خاطر صبح کام پر جاتا ہوں اور شام آتا ہوں۔ رضیہ حامد کی بات پر بگڑ تی ہے اﷲ ہی دیکھنے والاہے میںآپ کاہر کام کرتی ہوں ۔ حامد کہتا ہے میں بچوں کو تاکید کرتے وقت تم بیچ میں مت آنا میں انکا باپ ہوں میں بھی اُن سے اُتنا ہی پیار کرتا ہوں جتنا کے تم ، تم صرف شوہر کی قدر کرنا سیکھو۔ مرد مزاجی خدا ہوتا ہے۔ میں جانتی ہوںحامد مرد مجازی خدا ہوتا ہے۔ مگر عورت کے بھی اُتنے ہی حقوق ہیں جتنے مرد کے ، عورت کو نوکرانی مت سمجھو۔ حامد کہتا ہے رضیہ بتائو اﷲ نے ہمیں کس چیز کی کمی کی ہے دھن، دولت ، جائیداد ہر وہ چیزوں سے نوازا ہے۔
میں تمہیں کسی چیز کیلئے باہر جانے نہیں دیا ؟ آج خواتینمٹی کا تیل کیلئے صبح سورج کی کرن کے ساتھ قطار میں کھڑی نظر آتی ہیں تمہیں یہ بھی نہیں معلوم کہ راشن دکان کہاں ہے۔ آج مہنگائی کے سبب کئی لوگ فاقہ کشی کا شکار ہیں اور کئی لوگوں کو سر چھپانے کیلئے چھت کا آسرا تک نہیں ہے ۔ اﷲ نے ہمیں ذاتی مکان عطا کیا ہے میں تم کو آخری بار کہہ رہا ہوں۔ نہیں تو میں اپنے بڑے بھائی اور بھابھی کو بلا کر تمہیں ٹھیک کروں گا۔ رضیہ کہتی ہے، بھائی اور بھابھی جان کی بات کرتے ہو وہ بے چارے ایک دن بھی گھر میں جھگڑا نہیں کرتے وہ نیک ہیں اﷲانہیں خوش رکھے وہ اپنے بچوں کے ساتھ دوست کی طرح رہتے ہیں۔ کبھی کسی دن نہیں لڑتے ہر وقت بچوں کوساتھ لے کر کھانا کھاتے ہیں۔ اسی وجہ سے ان کے بچے ڈاکٹر ، انجینئر ، آئی،پی، ایس آفیسر ہیں اور یہاں دیکھو تمہاری گاڑی کی آواز سنتے ہی بچے بھیگی بلی کی طرح د بے پائوں اپنے اپنے کمروں میں چلے جاتے ہیں۔ تمہارے ہر وقت کی چیخ و پکار کرنے سے بچوں کی پڑھائی پر اثر پڑرہا ہے۔ تمہاری لڑکی زیبا کہہ رہی تھی میرے دسویں کے امتحانات چل رہے ہیں تم لوگوں کی چیخ و پکار کی وجہ سے میں پریشان ہوں اور جاوید بھیا بھی ابو کے جاتے ہی گھر کا سامان پٹکتے رہتے ہیں۔ آخر میں کیا کروں۔ کدھر جائوں میں اس گھر میں ہرگز نہیں پڑھ سکتی ۔ مجھے اس گھر سے چھٹکارہ چاہیئے ۔ جانتے ہو حامد‘ تمہارے جاتے ہی محلہ کے لوگ کہتے ہیں آخر ہر دن تمہارے گھر جھگڑا کیوں ہوتا ہے۔ ایسا ہی ہوتا رہا تو بچوں کے رشتے کیسے آئیں گے۔ حامد کہتا ہے کس نے کہا بتائو؟ ٹھیک کردوںگا ان سب کو ! رضیہ کہتی ہے چھوڑ و حامد ! دیکھو پیسوں سے بستر کو خریدا جا سکتا ہے مگر سکون کی نیند نہیں ، ادنیٰ چڑیا کو دیکھو اپنے بچوں کے ساتھ چھوٹے سے گھونسلے میں سکون سے رہتی ہے۔ ہم تو انسان ہیں۔ جب دیکھو مار پیٹ چیخ و پکار کی آوازیں ۔ جب سے تم سے شادی ہوئی ہے ایک دن بھی سکون سے نہیں گذارا اور باہر والوں کو ٹھیک راستے پر چلنے کو کہتے ہو۔ حامد کہتا ہے! بس کر و اب بہت سن لیا نہیں تو چار کو بلا کر فیصلہ کروںگا۔ کیوں نہیں کروگے آج بہت کمارہے ہو یا د کرو وہ دن جب مصیبت سے گذر رہے تھے اُس وقت تمہاری ہر مصیبت کا ساتھ دیا ہے ۔ ایک دن چھوٹا لڑکا جاوید کی وجہ سے محلے کے لوگ حامد سے لڑتے ہیں حامد اپنے لڑکے کی خوب پٹائی کرتا ہے۔ جاوید بھی گھر سے تنگ آکر بھاگ جاتا ہے۔ رضیہ اپنے بچے جاوید کی خاطر حامد سے لڑتی ہے اور اپنے زیورات روپیئے لے کر حامد سے کہتی ہے اب میں اس گھر میں ایک منٹ بھی نہیں رہنا چاہتی چارگھر برتن دھوئوں گی اور اپنا پیٹ بھر لوں گی۔ رضیہ میری بات سنو ! گھر کو برباد ہونے نہ دو اپنا بیاگ الماری میں رکھو جاوید کہیں نہیں جائے گا ۔ جب بھوک لگے گی وہ آئے گا ۔ تم انڈے کی زردی ہواس ملک میں درندے عورتوں کی عزت سے کھیل رہے ہیں تم کہاں جائو گی۔ اس مہنگائی کے دور میں سگا بھائی بھی ساتھ نہیں دیتا۔ حامد کے لاکھ منانے پر بھی رضیہ گھر سے نکل جاتی ہے اور کئی دنوں کے گذرنے کے بعد رضیہ کے پاس زیورات روپیئے ختم ہوتے ہیں اور گھر کی راہ بھی بھول جاتی ہے۔ جنگل میں بہت دور جانے کے بعد ایک مندر نظر آتا ہے ، کڑی دھوپ میں مندر تک پہنچتی ہے۔ مندر کے پاس کچھ لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔ رضیہ ایک سادھو بابا سے کہتی ہے بابا کچھ کھانے کو ملے گا؟ سادھوبابا کہتا ہے بیٹی کھانا آنے کیلئے دو گھنٹے لگ جائیں گے ایک امیر آدمی یہاں آتا ہے اور سب کو کھلا کر جاتا ہے ۔ رضیہ سادھو سے کہتی ہے بابا تم میری پریشانی کے بارے میں بتائو آخر میری تقدیر میں کیا لکھا ہے۔ رضیہ اپنا ہاتھ سادھو بابا کے قریب بڑھاتی ہے سادھو کہتا ہے بیٹی میں ان ڈھونگی بابا لوگوں میں سے نہیں ہوںاگر میں کسی کی تقدیر کے بارے میں جانتا تو میں یہاں بیٹھ کر بھیک نہیں مانگتا ، یاد رکھنا بیٹی تم اپنا ہاتھ کسی کو مت بتانا تم ایک اچھے گھرانے کی لگ رہی ہو۔
تقدیر تو ان کی بھی ہوتی ہے جن کے ہاتھ نہیں ہوتے‘ رضیہ سادھو بابا کایہ جملہ سن کر حیران رہ جاتی ہے اور کہتی ہے سچ کہا بابا میں ڈھونگی با با لوگوں پر بہت روپیہ برباد کر چکی ہوں کوئی کسی کی تقدیر کے بارے میں نہیں جانتا آج مجھے تم سے ایک سبق ملا ہے۔سادھو کہتا ہے بیٹی تمہارا یہاں رات میں رکنا ٹھیک نہیں ہے۔یہاں سے ایک مل دور سفر کرنا تمہیں ایک گنبد نظر آئے گی، اس درگاہ کا نام بنگالی بابا ہے۔ وہاں جائو تمہارے لوگ ملیں گے اور تمہاری مدد کریں گے ۔ رضیہ بورویل سے پانی پی کر آسمان کی جانب دیکھتی ہے۔ اور درگاہ کی راہ لیتی ہے۔ کچھ دیر بعد رضیہ درگاہ پہنچ کر کسی کونے میں کانپتے ہوئے بیٹھ جاتی ہے رضیہ کی حالت سے ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے ایک پاگل‘ بکھیرے بال گندہ لباس ناخن ایسے جیسے نوک دار چاقو بھیانک صورت کیچڑ سے بھرے پائوں رضیہ اپنے نوک دار ناخن والے ہاتھ بالوں کو کھرچتی اور ناخنوں کو دیکھ کر ہنس پڑتی لوگ رضیہ کو پاگل رضیہ کہہ کرپھل کے چھلکے سے مارتا تو کوئی گلا ب کے پھول پھینک کر مارتا رضیہ ان لوگوں کا کچھ دور تک پیچھا کرتی اور واپس درگاہ کے سیڑھیوں پر بیٹھ کر کہتی ہے بتائوں گی تمہارا میراشوہر حامد کو آنے دو وہ تمہیں نہیں چھوڑے گا۔ حامد مجھے بہت چاہتا ہے اور گھل کھِلانے لگتی ہے ۔ درگا ہ پر بیٹھ کر مانگنے والے لوگ رضیہ کو مارنے لگتے ہیں تو یہاں نہیں بیٹھ سکتی یہ ہماری جگہ ہے ۔ ہم بہت دنوں سے یہاں بھیک مانگ رہے ہیں۔ رضیہ چیخ و پاکارکرتی تم انسان نہیں ہو ایک انسان دوسرے انسان کو نہیں سمجھ رہا ہے۔ میں بھوکی ہوں مجھے کھانا دو رضیہ کے آنسوئوں کو دیکھ کر ایک بڑھیا رضیہ سے کہتی آئو بیٹی میرے پاس بیٹھو ہمارے دیش میں بھیک بھی بڑی مشکل سے ملتی ہے تم بہت دنوں کی بھوکی لگ رہی ہو۔ میرے ٹفن میں تھوڑا سا کھانا اور دال ہے تم اسی سے اپنا پیٹ بھر لو۔ ٹفن کے کھلتے ہی رضیہ ایسا کھانے لگتی ہے جیسے بھوکی شیرنی ، تب رضیہ کو اپنے شوہر حامد کی بات یاد آتی ہے دنیا بڑی ظالم ہے تم انڈے کی زردی ہو، رضیہ کے آنسو دیکھ کر بڑھیا کہتی ہے۔ آخر بیٹی تم گھر کیوں چھوڑ آئی ہو؟ رضیہ کہتی ہے میرے بچوں کی خاطر میرے شوہر سے لڑ کر گھر سے نکل چکی ہوں۔ بڑھیا کہتی ہے تم بہت بد نصیب ہو بچوں کی خاطر اپنے شوہر کو چھوڑا، تمہیں معلوم ہے خدا کے بعد کسی کا درجہ ہے تو وہ شوہر کا ہے مرد مجازی خدا ہوتا ہے ۔ تم جاننا چاہتی ہو تو سنو میرے لڑکے جوان کمانے والے ہیں اور لاکھوں روپیئے ان لوگوں کے پاس ہیں وہ ماں باپ کی طرف دیکھتے تک نہیں ایک حادثہ میں میرے شوہر کا پائر کٹ گیا میں ان بچوں کو چھوڑ کرشوہر کو پالنے کے لئے بھیک مانگ رہی ہوں۔ یاد رکھنا بیٹی ماں باپ دس بچوں کو پال سکتے ہیں دس بچے ایک ماں باپ کو نہیں پال سکتے۔ ہم نے ہمارے بچوں کے لئے کیا کچھ نہیں کیا ، نومہینے پیٹ میں رکھ کرتکلیف اُٹھائی راتوں میں جگ کر دودھ پلایا اور ان کی گندگی صاف کر کے سینے سے لگایا کیا صیلہ دیا ہے انہوں نے ’’ماں جنت ہے، باپ جنت کا دروازہ ‘‘ کیا منھ دکھائیں گے۔یہ لوگ خدا کو کہہ کر؟ بڑھیا زارو قتار سے رونے لگی۔ رضیہ بڑھیا کے گلے لگ کر کہتی ہے مت رو ماں مت رواتنے میں پھولوں کی چادر لیے حامد رضیہ کا شوہر درگاہ پر آجاتا ہے ۔ رضیہ کی نظرحامد پر پڑتے ہی چیخ کر کہتی ہے میرے حامد میرے خدا مجھے معاف کر دو مجھ سے غلطی ہوئی میںآئندہ سے آپ کی ہر بات مان کر رہوں گی ۔ مجھے لے چلو، دنیا بڑی ظالم ہے۔ مجھے چھوڑ کر مت جا ئیے۔رضیہ حامد کے گلے لگ جاتی ہے۔ اتنے میں ایک لال رنگ کا لباس پہنی ہوئی خوبصورت لڑکی رضیہ کے گال پر تھپڑ مار کر کہتی ہے پاگل کہںکی تم غریب لوگ ہوتے ہی ایسے ہو۔ کسی بھی پیسے والے کو دیکھ کر گلے پڑ جاتے ہو۔ رضیہ کہتی ہے نہیں میں پاگل نہیں ہوں یہ میرے شوہر حامد ہیں۔ وہ لڑکی کہتی ہے میری اور حامد کی شادی ہوئی ہے ۔میرانام خدیجہ ہے ہم اس درگاہ پرزیارت کیلئے پھولوں کی چادر بھی لائے ہیں۔ وہ لڑکی حامد سے کہتی ہے بتائو اس پاگل کو کہ ہماری شادی ہو چکی ہے اور تم میرے شوہر ہو۔ حامد کہتا ہے ہاں ہاں ہماردی شادی ہوئی ہے میں تمہارا شوہر ہوں مگر یہ عورت پاگل نہیں ہے یہ میری سچی محبت رضیہ ہے۔ 18سال پہلے ہماری شادی ہوئی تھی ہمارے تین بچے ہیں رضیہ بچوں کی خاطر مجھ سے لڑ کر چلی گئی تھی میں نے رضیہ کو ہر جگہ تلاش کیا اس کے بعد میں تم سے شادی کی رضیہ نے خود اپنا گھر برباد کیا ہے مگر میں بھی قصور وار ہوں ۔ اب میں چاہتا ہوں کے ہم تینوںایک ساتھ ہنسی خوشی سے زندگی گذاریں ‘کیا تمہیں میرا یہ فیصلہ منظور ہے۔ رضیہ اور خدیجہ کہتی ہیںاگراﷲ نے ہماری تقدیرمیں یہی لکھا ہے توہم کیسے انکار کر سکتے ہیں۔اگر مرد عورت ایک دوسرے کو سمجھ کر چلے تو گھر جنت ہے ورنہ جہنم !!!
مقیم باباسرڈگی‘ محبوب نگر
