ادب

مشاعروں کا نشان امتیاز ملک زادہ منظور احمد

اپنے مرنے کی خبر جھوٹی اڑادی میں نے
زندہ رہنا ہے تو اخبار میں رہنا ہے مجھے

شاعروں، ادیبوں اور ادب سے محبت کرنے والوں کا بہترین دوست ‘ مشاعروں کی مقبولیت کی ضمانت سمجھے جانے والے اور دلکش آواز کے مالک‘شاعر‘نقاد وناظم مشاعرہ پروفیسر ملک زادہ منظور احمد کا مختصر علالت کے باعث انتقال ہوگیا۔ ملک زادہ منظور احمد سے میری ملاقات حیدرآباد میں ادبی ٹرسٹ کے مشاعرہ میں والد محترم جناب وقارؔ خلیل صاحب کے توسط سے ہوئی۔ میں نے اُن کا کلام ریکارڈ کیا۔ جب مشاعرہ اختتام پذیر ہوا تب میں نے اُن کاکلام سنایا تو بہت خوش ہوئے اور کہا وقارؔ تمہارا بچہ تو کافی بہترین ریکارڈنگ کرتا ہے ہاں !اسے مشاعروں کی ریکارڈنگ کرنا اور سننا بہت پسند ہے تو انہوں نے برجستہ کہا اُردو کامستقبل نوجوانوں کے ہاتھوں میں زیادہ محفوظ ہے بشرطیکہ وہ اُردو جانیں اور عام زندگی میں برتیں۔بد قسمتی سے ایسا نہیں ہے۔ حکومتوں کی دوہری پالیسی نے نوجوان نسل کو اُردو سے نابلد کردیا ہے۔پھر بھی نوجوان شعر و شاعری میں دلچسپی لیتے ہیں۔ اچھے اشعارپر داد دے کر اظہارِ مسرت کرتے ہیں۔مبارک وقارؔ یہ تمہارے ہی راستہ پر گامزن ہے۔
بابا مجھے ہر مشاعرے میں ساتھ لے جاتے تھے۔ ہر بڑے شاعر کو سننا مجھے بہت پسند تھا اور میں اُن کی ہو بہو نقل بھی کر لیا کرتا تھا۔ اور بابا کو سناتا تھا۔ وہ ہنس کر خاموش ہوجاتے تھے۔ تب میں نے والد محترم سے سنا تھا کہ پروفیسر ملک زادہ منظور احمد مشاعروں کی کاروائی بڑی اچھی طرح سے چلاتے ہیں۔ میں نے ان کی انتقال کی خبر سنی تو سکتہ میں آگیا وہ نہ صرف ہندوستان بلکہ دُنیا کے ان تمام ممالک میں جہاں اُردو بولی اور سمجھی جاتی ہے ۔مشاعروں کو قہقہہ زار بنانے والے اور سب کو ہنسانے والی یہ آواز ہمیشہ ہمیشہ کیلئے اب خاموش ہوگئی۔ ابھی کچھ دن پہلے ہم نے ندا فاضلی‘انتظار حسین اورزبیر رضوی کو کھویا ہے ابھی ہم سنبھل بھی نہ پائے تھے کہ ملک زادہ منظور احمد بھی ہمیشہ کیلئے رخصت ہوگئے یہ عظیم سانحہ ہے کہ اُردو کی بڑی بڑی ہستیاں اس دارفانی سے کوچ کررہی ہیں۔ جن سے ہم کو کچھ سیکھنے کو ملتا تھا وہ ہم سے دور ہورہی ہیں۔ ان کے انتقال سے نہ صرف ایک شاعر‘نقاد اور معلم ہمارے بیچ سے اُٹھ گیا بلکہ اُردو زبان میں عوامی رابطے کی علامت اور مشاعروں کی آبرو اور اعتبار کا نشان امتیاز چلا گیا۔ منظور کا اس طرح سے رخصت ہوجانا اُردو دُنیا کا وہ نقصان ہے جس کی تلافی ناممکن ہے۔
وہ لکھنو یونیورسٹی کے شعبہ اُردو کے صدر تھے۔ ملک زادہ منظور احمددُنیا کے مختلف علاقوں امریکہ‘ کینیڈا‘ایران‘ متحدہ عرب امارات‘بحرین‘ عمان‘ سعودی عرب‘ قطر اور پاکستان سمیت کئی ملکوں میں ہزاروں مشاعروں میں شرکت کی اور مشاعروں کو کامیابی کی طرف رواں دواں کیا۔
ملک زادہ منظور احمد‘ کا پہلا ناول 1954 میں ’’کالج گرل‘‘ کے نام سے شائع ہوا تھا۔ اُردو ادب کی بے پایاں خدمات کے اعتراف میں حکومت اُتر پردیش اور مدھیہ پردیش اُردو اکیڈیمی نے انہیں ایوارڈ سے سرفراز کیا گیا۔ وہ بیرون ملک متعدد ایوارڈز سے نوازے جاچکے ہیں۔
ملک زادہ منظور احمد زبان و قلم دونوں کے دھنی تھے شہر سخن کے نام سے ان کا شعراء کا تذکرہ‘ مولانا آزاد پر ان کا تحقیقی مقالہ’’ رقصِ شرر‘‘ کے نام سے‘ ان کی خود نوشت اور شہر ادب کے نام سے ان کے مضامین کا مجموعہ‘ ہمیں یاد دلاتے رہیں گے۔وہ ماہنامہ ’’ امکان‘‘ لکھنوکے ایڈیٹر بھی تھے۔ اُردو کے رسالے نکلتے ہیں اور بند ہوجاتے ہیں اور جو نکلتے بھی ہیں ‘اُردو میں ایسے رسائل او رجرائد کی شدید کمی تھی جو اپنا ایک معیار‘اور ایک زاویہ نگاہ رکھتے ہوں۔ آپ کا رسالہ علمی اور ادبی مضامین میں ایک ایسا گلدستہ ہے جس کی خوشبو سے پڑھنے والے اپنے اپنے علمی ظرف کو خوشگوار اور اپنے ادبی معیار و میزان کا پلہ بھاری کرسکتے ہیں۔
ملک زادہ منظور احمد کے کچھ غزلیں سامعین کیلئے ؎
شمع کی طرح شبِ غم میں پگھلتے رہئے
صبح ہو جائے گی، جلتے ہو، تو جلتے رہئے
وقت چلتا ہے، اُڑاتا ہوا لمحات کی گرد
پیرہن فکر کا ہے، روز بدلتے رہئے
آئینہ سامنے آئے گا، تو سچ بولے گا
آپ چہرہ جو بدلتے ہیں، بدلتے رہئے
کچھ غم ِجاناں، کچھ غمِ دوراں، دونوں میری ذات کے نام
ایک غزل منسوب ہے اس سے،ایک غزل حالات کے نام
روشن چہرہ، بھیگی زلفیں، دو ںکس کو، کس پر ترجیح
ایک قصیدہ دھوپ کا لکھوں،ایک غزل برسات کے نام
تشنہ لبی نے جب بھی ذوق عمل دیا ہے
رِندوں نے میکدے کا ساقی بدل دیا ہے
دُنیا ہے اس کی شاہد اس شہرِ بے اماں نے
جس میں اَنا سمائی، وہ سر بدل دیا ہے
ہوگی ہر اِک دعاء قبول قبلہ بدل کے دیکھ لو
کعبہ شہرِ یار میں سجدہ ادا بہت ہوا
یہ بھی خدا کی شان ہے رزم گہہِ حیات میں
زخم تو مجھ کو کم لگے حشر بپا بہت ہوا
عہد امروز ہو یا وعدہ فردا منظورؔ
ٹوٹنے والے کھلونے ہیں بدلتے رہئے
صبح کی تیز دھوپ میں اس کے سوا بہت ہوا
دِل کی کلی نہ کھل سکی رقصِ صبا بہت ہوا
پہنی زرہ ہوس کی پھر سوچ کے میں نے آخرش
متقلِ راہِ شوق میں کارِ وفا بہت ہوا
پھرتی رہی برہنہ سر بانوئے شہرِ حُریت
کوئی مگر نہ لاسکا ذکرِ رِدا بہت ہوا
اُس کے بدن کی چاندنی فکر میں میرے ڈھل گئی
نازشِ فن کے واسطے رنگِ قباء بہت ہوا
آئی منزل تو قدم آپ ہی رُک جائیں گے
زیست کو راہِ سفر جان کے چلتے رہئے
صبح ہوجائے گی تو ہاتھ آ نہ سکے گا مہتاب
آپ اگر خواب میں چلتے ہیں تو چلتے رہئے

عقیل الرحمن وقار

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button