ایران امن منصوبہ پر شکوک کشیدگی دوبارہ بڑھنے کا خدشہ
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کی جانب سے پیش کیے گئے چودہ نکاتی امن منصوبے پر شکوک کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کی منظوری مشکل دکھائی دیتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران نے کوئی نامناسب اقدام کیا تو فضائی حملے دوبارہ شروع کیے جا سکتے ہیں۔
صدر کے مطابق وہ اس منصوبے کا جائزہ لے رہے ہیں، تاہم ان کا کہنا تھا کہ ایران ابھی تک اپنے اقدامات کی کافی قیمت ادا نہیں کر سکا۔ اس بیان کے بعد خطے میں کشیدگی ایک بار پھر بڑھنے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اطلاعات کے مطابق ایران کے منصوبے میں بحری ناکہ بندی کے خاتمے، نقصانات کے ازالے اور منجمد اثاثوں کی واپسی جیسے نکات شامل ہیں۔ ساتھ ہی ایک محدود مدت میں معاہدہ مکمل کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے، جس پر دونوں فریقین کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔
اگرچہ جنگ بندی کے باعث عارضی سکون قائم ہے، لیکن ایرانی حکام نے خبردار کیا ہے کہ ان کی افواج مکمل طور پر چوکنا اور تیار ہیں اور کسی بھی ممکنہ کارروائی کا جواب دیا جائے گا۔
ادھر ماہرین کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال نہایت نازک ہے، جہاں معمولی پیش رفت بھی بڑے تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے۔ خاص طور پر اہم سمندری راستوں اور عالمی توانائی کی ترسیل پر اس کے اثرات پڑ سکتے ہیں۔
مجموعی طور پر امن کی کوششیں جاری ہیں، لیکن غیر یقینی صورتحال کے باعث خطے میں خطرات بدستور موجود ہیں۔



