عدالت کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا قدم درآمدی ٹیکس دوبارہ نافذ کرنے کی تیاری
امریکہ میں اعلیٰ عدالت کے فیصلے کے بعد حکومت نے نئے درآمدی ٹیکس نافذ کرنے کی تیاری شروع کر دی ہے تاکہ محصولات میں کمی کو پورا کیا جا سکے اور مقامی معیشت کو سہارا دیا جا سکے۔ اس سے قبل عدالت نے پرانے ٹیکس اقدامات کو اختیارات سے تجاوز قرار دیتے ہوئے ختم کر دیا تھا۔
حکام کے مطابق عارضی طور پر لگائے گئے ٹیکس جلد ختم ہونے والے ہیں، جس کے باعث حکومت اب زیادہ مستحکم اور دیرپا اقدامات کی جانب بڑھ رہی ہے۔ اس سلسلے میں مختلف ممالک کے خلاف تحقیقات اور سماعتوں کا آغاز کیا جا رہا ہے تاکہ نئی پالیسی کے تحت ٹیکس عائد کیے جا سکیں۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ بعض ممالک غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کے ذریعے فائدہ اٹھاتے ہیں، جس سے مقامی صنعتوں کو نقصان پہنچتا ہے۔ اسی لیے نئی پالیسی کے ذریعے ان ممالک پر مزید ٹیکس عائد کرنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ان اقدامات کے نتیجے میں اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس کا بوجھ براہِ راست صارفین پر پڑے گا۔ دوسری جانب درآمد کنندگان اور غیر ملکی ممالک نے اس عمل پر شفافیت کے حوالے سے خدشات ظاہر کیے ہیں۔
یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نئی ٹیکس پالیسی کو عدالت میں دوبارہ چیلنج کیا جا سکتا ہے، تاہم حکومت کو امید ہے کہ اس بار قانونی بنیادیں زیادہ مضبوط ہوں گی۔



