ہفتوں کی رکاوٹ کے بعد آبنائے ہرمز سے گیس بردار جہاز کی گزرگاہ بحال
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے درمیان ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے جہاں کئی ہفتوں کی رکاوٹ کے بعد پہلا گیس بردار جہاز آبنائے ہرمز سے گزرنے میں کامیاب ہو گیا۔ یہ پیش رفت عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی کے لیے ایک مثبت اشارہ سمجھی جا رہی ہے۔
اطلاعات کے مطابق یہ جہاز خلیجی علاقے سے روانہ ہوا تھا اور کچھ عرصہ تک وہیں رکا رہا، تاہم اب یہ جنوبی ایشیا کے قریب پہنچ چکا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت سے عالمی توانائی منڈی میں اعتماد بحال ہونے کی امید ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران بڑھتی ہوئی سیاسی کشیدگی اور باہمی ناکہ بندیوں کے باعث اس اہم گزرگاہ سے جہازوں کی آمد و رفت تقریباً معطل ہو گئی تھی۔ آبنائے ہرمز سے دنیا کی ایک بڑی مقدار میں گیس اور تیل کی ترسیل ہوتی ہے، اس لیے یہاں کی صورتحال عالمی معیشت پر براہ راست اثر ڈالتی ہے۔
دوسری جانب، عالمی سطح پر تیل کی قیمتیں بلند سطح پر برقرار ہیں، جبکہ خطے میں کشیدگی اب بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ ماہرین کے مطابق اگر صورتحال مزید بہتر ہوتی ہے تو توانائی کی سپلائی میں استحکام آ سکتا ہے۔



