وائٹ ہاؤس واقعے کے باوجود ٹرمپ کا ایران پالیسی پر مؤقف برقرار
امریکہ میں ایک اہم تقریب کے دوران پیش آنے والے فائرنگ کے واقعے کے باوجود صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ان کی ایران کے خلاف پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ انہیں اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کرے گا اور وہ اپنے اہداف کے حصول کے لیے پرعزم ہیں۔
صدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ حملہ کسی منظم سازش کا حصہ نہیں بلکہ ایک تنہا حملہ آور کی کارروائی معلوم ہوتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا کہ اس کا تعلق جاری ایران تنازع سے ہو سکتا ہے، اور اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے تناظر میں امن مذاکرات کے لیے نمائندوں کا دورہ منسوخ کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایران کا مؤقف تسلی بخش نہیں تھا، جس کی وجہ سے یہ فیصلہ کیا گیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں کشیدگی مسلسل بڑھ رہی ہے اور مختلف ممالک ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ مجموعی طور پر صورتحال غیر یقینی کا شکار ہے اور آئندہ دنوں میں مزید اہم فیصلے متوقع ہیں۔



