مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافہ امریکہ اور ایران آمنے سامنے
مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے دوران امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی پر غور کیا جا سکتا ہے، حالانکہ مذاکرات کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہے، مگر صورتحال اب بھی غیر یقینی ہے۔
صدر نے واضح کیا کہ مذاکرات محدود سطح پر جاری ہیں اور ان کی تفصیلات خفیہ رکھی گئی ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ فوجی آپشن کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا، جس سے خطے میں خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
امریکی حکام کے مطابق حالیہ کارروائیوں کے نتیجے میں ایران کی دفاعی صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچا ہے، جبکہ بعض رپورٹس میں اہم تنصیبات کو نشانہ بنانے کے منصوبوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔
دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ اگر اس پر دباؤ بڑھایا گیا تو وہ سخت اور غیر معمولی جواب دے گا۔ خاص طور پر سمندری راستوں اور اہم گزرگاہوں پر کسی بھی مداخلت کو خطرناک قرار دیا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت اور توانائی کی فراہمی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔



