ادب

کبھی کسی کو مکمل جہاں نہیں ملتا

برصغیر ہند و پاک کے معروف شاعر اور فلمی نغمہ نگار ندافاضلی اس دُنیا سے رخصت ہوگئے۔ ان کی عمر 77 برس تھی۔ندا فاضلی کا اصلی نام مقتدا حسن تھا۔ بالی ووڈ کی فلمی دنیاکیلئے بے شمار یادگار گیت تخلیق کرنے کے علاوہ ان کے لکھی گئی غزلوں کو جگجیت سنگھ اور کئی دوسرے گلو کاروںنے لاکھوں افراد تک پہنچایا۔ندا فاضلی صاحب سے میری پہلی ملاقات حیدرآباد میں شائد ادبی ٹرسٹ یا شنکر جی مشاعرے میں والد محترم حضرت وقارؔ خلیل صاحب کے توسط سے ہوئی تھی۔ مجھے نامور گلو کاروں کی غزلیں اور مشاعرے سننا بہت پسند تھا اور عظیم شاعروں کے آٹو گراف بھی لیا کرتا تھا۔ میں اُن کے’’ آہستہ آہستہ‘‘ اور ’’بازار‘‘ کے گیت سے بہت متاثر تھا۔ والد صاحب نے انہیں بتایا کہ یہ ’’ہر روز آپ کے گیت بڑی آواز میں سنا کرتا ہے‘‘۔ وہ یکلخت مسکرائے اور انہوں نے برجستہ کہا کہ وقارؔ یہ بھی شاعری کا ایک ادبی ذوق رکھنے والا ہے۔ وہ یادیں تازہ ہوگئیں۔ ندا صاحب کی غزلیں دل کو چھوتی تھیں ان کی غزلوں میں ایک درد چھپا ہوتا تھا۔ وہ اُردو شاعری میں الفاظ کا کثرت سے استعمال کرتے زبان کی چاشنی سے واقف تو تھے ہی جملوں کو جوڑنے کا ہنر بھی بخوبی جانتے تھے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ان کے جانے سے اُردو شاعری کا ایک عظیم باب ختم ہوگیا ہے جس کی تلافی بہت مشکل ہے۔ ندا صاحب نے کیا خوب کہا ہے ؎
اپنی مرضی سے کہاں اپنے سفر کے ہم ہیں

رخ ہواؤں کا جدھر کا ہے‘ اُدھر کے ہم ہیں
پہلے ہر چیز تھی اپنی مگر اب لگتا ہے

اپنے ہی گھر میں کسی دوسرے گھر کے ہم ہیں
ندا فاضلی 1938 میں ریاست گوالیار میں پیدا ہوئے تھے۔ ان کے والد بھی شاعر تھے جو 1960 میںفرقہ وارانہ فسادات کے دوران مارے گئے۔ ان کے خاندان کے باقی افراد پاکستان منتقل ہو گئے لیکن ندا فاضلی ہندوستان میںرہنے کو ترجیح دی۔ ندا نے تنہائی کا کرب برداشت کیا اور اس کرب کو انہوں نے لفظوں کی شکل میں اپنی غزلوں میں نمایاں مقام دیا ہے۔ ندا کی شاعری میں جو تنہائی اکیلے پن کا جو درد ملتا ہے وہ ان کی زندگی کا وہ حصہ ہے جو ابتداء سے موت تک ان کے ساتھ رہا ان کی پوری شاعری میں ملتا ہے۔
ہندوستانی حکومت نے ندا فاضلی کو پدم شری، ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ، اور میر تقی میر ایوارڈ سے بھی نوازا۔ ندا فاضلی نے اپنا پہلا مجموعہ کلام 1969 میں شائع کیا۔ اس کے بعد متعدد شعری مجموعے منظر عام پر آئے جن میں ’لفظوں کے پل‘ مور ناچ‘ آنکھ اور خواب کے درمیان‘ کھویا ہوا سا کچھ اور ’دنیا ایک کھلونا ہے،‘ وغیرہ شامل ہیں۔ ان کے مضامین کا ایک مجموعہ ’’ملاقاتیں‘‘ عنوان سے 1960 میں منظر عام پر آیا۔ انہوں نے جملہ 24 کتابیں مرتب کیں۔ فلمی دنیا کے سفر کے بارے میں ندا فاضلی نے فلمی رسالے کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ فلم ’’رضیہ سلطان‘‘ کے خالق کمال امروہی کو فلم کے اصل نغمہ نگار جانثار اختر کے اچانک انتقال کے بعد ایک شاعر کی ضرورت تھی، چنانچہ انھوں نے مجھ سے رابطہ کیا اور میں نے فلم کیلئے دو گیت لکھے۔ اس فلم کو بننے میں تو بہت دیر لگی لیکن اس دوران مجھے دوسری فلموں میں کام ملنا شروع ہو گیا۔ندا فاضلی نے ’رضیہ سلطان‘‘کے علاوہ ’سرفروش‘‘ ’اس رات کی صبح نہیں‘‘آپ ایسے تو نہ تھے،‘ اور ’گڑیا‘ کے گیت لکھے جن سے بہت شہرت حاصل ہوئی۔ 2003 میں انھیں فلم ’ سُر‘کیلئے ا سٹارا سکرین ایوارڈ کے بہترین نغمہ نگار کا ایوارڈ حاصل کیا۔فلم ’آپ ایسے تو نہ تھے‘ کے ان کا لکھا ہو گیت اور نامور گلو کار محمد رفیع کا گایا ہوا نغمہ ’تو اس طرح سے میری زندگی میں شامل ہے‘ آج بھی بہت مقبول ہے۔ عامر خان کی فلم’’ سرفروش‘‘ میں جگجیت سنگھ نے اُن کی غزل گائی ہے ’’ہوش والوں کو کیا خبر بیخودی کیا چیز ہے ‘‘جو کافی مقبول ہوئی۔ انہوں نے اپنی شعری صلاحیتوں کا لوہا منوا لیا۔ ندا فاضلی کی دوستی جگجیت سنگھ سے کافی گہری تھی جگجیت سنگھ کے لڑکے کا حادثہ میں انتقال پر انہوں نے اپنی نظم میں اپنے دکھ درد کا احساس کیا ہے ملاحظہ ہوں۔
اپنے غم لے کے کہیں اور نہ جایا جائے
گھر میں بکھری ہوئی چیزوں کو سجایا جائے
ندا فاضلی انسان دوست شاعر تھے اور اس سلسلے میں وہ سماج کی جانب سے عائد پابندیوں، خاص طور پر مذہبی قید و بند پر تنقید کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر ان کا شعر ہے:
گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کر لیں
کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے
یہ شعر بیحد مشہور ہوا تھا اور مشاعروں میں خاص طور پر فرمائش کر کے ان سے سنا جاتا تھا۔ اسی موضوع پر ان کا قطعہ ہے:
گھاس پر کھیلتا ہے اک بچّہ

پاس ماں بیٹھی مسکراتی ہے
مجھ کو حیرت ہے جانے کیوں دنیا

کعبہ و سومنات جاتی ہے
ندا فاضلی یوں تو سادہ خیالات کو سادہ الفاظ میں پیش کرنے میں مہارت رکھتے تھے لیکن 1980 کی دہائی میں ابھرنے والی علامت نگاری کی تحریک سے وہ بھی متاثر ہوئے نہ رہ سکے۔ اس ضمن میں ان کا ایک شعر اس زمانے میں خاصا بدنام ہوا تھا:
سورج کو چونچ میں لئے مرغا کھڑا رہا
کھڑکی کے پردے کھینچ دئیے رات ہو گئی
ملا حظہ کیجئے ان کا یہ ضرب المثل شعر ؎
دشمنی لاکھ سہی ختم نے کیجئے رشتہ
دل ملے یا نہ ملے ہاتھ ملاتے رہیئے
والد محترم حضرت وقارؔ خلیل صاحب نے بھی اس بحر پر اپنی ایک خوبصورت غزل کہی ہے ؎
دشمنی لاکھ سہی پھر بھی رفاقت رکھنا
کتنا دشوار ہے اس طور طبیعت رکھنا

عقیل الرحمان وقار

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button