خواتین ریزرویشن ترمیمی بل کی شکست، ریونت ریڈی کا تاریخی دن قرار
تلنگانہ کے وزیر اعلیٰ ریونت ریڈی نے خواتین سے متعلق مجوزہ ترمیمی بل کی پارلیمنٹ میں ناکامی کو بھارت کی سیاسی تاریخ کا ایک اہم دن قرار دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن جمہوری قوتوں کے اتحاد کی علامت کے طور پر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔
وزیر اعلیٰ نے اپنے بیان میں کہا کہ اپوزیشن رہنماؤں نے متحد ہو کر ایک ایسے قانون کو روک دیا جسے وہ قومی سطح کے بحران کا سبب سمجھتے تھے۔ ان کے مطابق اس کامیابی میں متعدد جماعتوں کے رہنماؤں نے اہم کردار ادا کیا اور مشترکہ حکمت عملی کے ذریعے حکومت کو شکست دی گئی۔
پارلیمنٹ میں پیش کیے گئے اس بل کو منظور ہونے کے لیے دو تہائی اکثریت درکار تھی، لیکن مطلوبہ حمایت حاصل نہ ہو سکی۔ بل کے حق میں 298 ووٹ جبکہ مخالفت میں 230 ووٹ ڈالے گئے، جس کے باعث یہ منظور نہ ہو سکا۔
اس کے بعد حکومت نے مزید دو متعلقہ بل پیش نہ کرنے کا فیصلہ کیا، کیونکہ انہیں اسی قانون سے جڑا ہوا قرار دیا گیا تھا۔ ان بلوں میں حلقہ بندی اور قومی اسمبلی کی نشستوں میں اضافے کی تجاویز شامل تھیں۔
ریونت ریڈی پہلے ہی اس بات کی مخالفت کر چکے تھے کہ خواتین کے لیے مخصوص نشستوں کے معاملے کو حلقہ بندی کے ساتھ جوڑا جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ خواتین کو نمائندگی دینے کے قانون کو فوری نافذ کیا جائے اور اسے دیگر سیاسی معاملات سے الگ رکھا جائے۔



