امریکا اور ایران امن معاہدے کے قریب، آبنائے ہرمز کھولنے کا عندیہ
امریکا اور ایران کے درمیان امن معاہدے کی کوششوں میں اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جس کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم ہونے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ جنگ کے خاتمے اور امن معاہدے کے امکانات روشن ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کی بات بھی کی جا رہی ہے۔
امریکی صدر کے بیان سے قبل پاکستانی وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بھی کہا تھا کہ آئندہ چوبیس گھنٹوں میں اہم پیش رفت ہو سکتی ہے اور فریقین امن معاہدے کے قریب ہیں۔ تاہم بعد میں وضاحت کی گئی کہ حتمی فیصلہ ایران کے مثبت اشاروں اور امریکی مؤقف پر منحصر ہوگا۔
دوسری جانب ایران نے واضح کیا ہے کہ معاہدے پر فوری دستخط نہیں ہوں گے۔ ایرانی حکام کے مطابق مذاکرات جاری ہیں اور کسی بھی اعلان میں احتیاط برتی جا رہی ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ ابتدائی معاہدہ خطے میں جنگ کے خاتمے کے لیے ہوگا، جبکہ جوہری پروگرام سے متعلق معاملات بعد میں زیرِ غور آئیں گے۔
ادھر امریکی صدر نے دعویٰ کیا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے تحت ایران کے جوہری پروگرام کو محدود کیا جائے گا اور افزودہ یورینیم کے مسئلے کا مستقل حل تلاش کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ ماضی کے معاہدوں کے برعکس یہ سمجھوتہ زیادہ مؤثر اور سخت شرائط پر مبنی ہوگا۔
اسی دوران بھارتی وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے امریکی حملے میں تین بھارتی ملاحوں کی ہلاکت پر شدید احتجاج کرتے ہوئے امریکی حکام سے معاملہ اٹھایا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر مذاکرات کامیاب ہو جاتے ہیں تو یہ پیش رفت نہ صرف خطے میں امن کے لیے اہم ہوگی بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور تجارتی راستوں پر بھی مثبت اثرات مرتب کرے گی۔



