علاقائی خبریںقومی

روسی تیل خریدنے کا مشورہ خود امریکا نے دیا تھا، جے شنکر کا یورپ کو کرارا جواب

بھارت کے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے انکشاف کیا ہے کہ روس سے تیل خریدنے کے معاملے پر امریکا نے خود بھارت سے کہا تھا کہ وہ عالمی منڈی میں استحکام برقرار رکھنے کے لیے روسی تیل کی خریداری جاری رکھے۔

فن لینڈ میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جے شنکر نے کہا کہ روس۔یوکرین جنگ کے آغاز کے بعد عالمی توانائی منڈی میں بڑی تبدیلیاں آئیں۔ یورپی ممالک نے مشرقِ وسطیٰ سے زیادہ تیل خریدنا شروع کر دیا، جس کے باعث بھارت کو متبادل ذرائع تلاش کرنا پڑے۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت عالمی منڈی میں مناسب قیمت پر دستیاب تیل زیادہ تر روس کے پاس تھا، اسی لیے بھارت نے اپنی ضروریات کے مطابق روسی خام تیل خریدنے کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق "ہم تیل قیمت اور دستیابی کی بنیاد پر خریدتے ہیں”۔

جے شنکر نے یورپی ممالک کی تنقید کو بھی مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو اصولوں اور اخلاقیات کا رنگ دینا درست نہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے کبھی یورپ کے مفادات کو نقصان نہیں پہنچایا، جبکہ بعض یورپی ممالک کی جانب سے فروخت کیے گئے ہتھیار برسوں سے بھارت کے خلاف استعمال ہوتے رہے ہیں۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ آج روس بھارت کا سب سے بڑا تیل فراہم کرنے والا ملک بن چکا ہے، جبکہ امریکا گیس کی فراہمی میں سرفہرست ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے شعبے میں فیصلے صرف قومی مفاد، توانائی کے تحفظ اور مناسب قیمتوں کو مدنظر رکھ کر کیے جاتے ہیں۔

انہوں نے واضح کیا کہ بھارت نے کسی بھی بیرونی دباؤ کے بجائے اپنی معاشی ضروریات اور عوامی مفاد کو ترجیح دی ہے، اور مستقبل میں بھی توانائی کی پالیسی اسی بنیاد پر طے کی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button