ایران کے خلاف خلیجی ممالک کی خفیہ کارروائی
مشرقِ وسطیٰ میں امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری جنگ نے خطے کے دیگر ممالک کے لیے بھی خطرات بڑھا دیے ہیں۔ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنانے کے دعووں کے بعد بحرین اور کویت بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
رپورٹس کے مطابق بحرین اور کویت نے پہلی مرتبہ ایران کے خلاف براہِ راست فضائی کارروائی میں حصہ لیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دونوں ممالک نے اپنے جنگی طیاروں کے ذریعے ایران میں ڈرون اور میزائل ذخیرہ کرنے والے مقامات کو نشانہ بنایا۔ اس کارروائی میں متحدہ عرب امارات نے مبینہ طور پر ایران میں اہداف سے متعلق خفیہ معلومات فراہم کیں۔
رپورٹس کے مطابق سعودی عرب اور کویت کے جنگی طیاروں نے جولائی کے آغاز میں ایران میں ڈرون اور میزائلوں کے ذخائر کو نشانہ بنایا تھا۔ ابتدا میں سعودی عرب نے بھی متحدہ عرب امارات کے ساتھ تعاون کیا، تاہم بعد میں اس نے اپنی پوزیشن پر نظرثانی کر لی۔ ماہرین کے مطابق خلیجی ممالک کی براہِ راست کارروائی جنگ کے مزید پھیلاؤ کا اشارہ ہو سکتی ہے۔
ادھر آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد خطے میں کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے۔ ایران نے حالیہ دنوں میں بحرین، کویت اور اردن میں موجود امریکی مفادات کو بھی نشانہ بنایا ہے، جس سے خلیجی ممالک کی سلامتی پر تشویش میں اضافہ ہوا ہے۔
مبصرین کے مطابق موجودہ صورتحال نے مشرقِ وسطیٰ میں وسیع جنگ اور عالمی تجارت و توانائی کی فراہمی کے لیے نئے خدشات پیدا کر دیے ہیں۔



