بین الاقوامیعرب دنیا

امریکی حملے رکتے ہی ایران نے جوابی کارروائیاں روک دیں

امریکا کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں میں عارضی وقفے کے بعد ایران نے بھی خطے میں اپنی جوابی فوجی کارروائیاں روک دی ہیں۔ تقریباً دو ہفتوں سے جاری شدید کشیدگی کے بعد یہ پہلا موقع ہے جب دونوں ممالک کے درمیان حالات میں نسبتاً نرمی دیکھی جا رہی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ان خبروں کو مسترد کر دیا کہ امریکی فوج کے پاس اسلحے کی کمی ہو رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کے پاس وافر مقدار میں اسلحہ موجود ہے اور فوج ہر ممکن صورتحال سے نمٹنے کی مکمل صلاحیت رکھتی ہے۔

دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ اگرچہ امریکا نے پہلے مذاکرات کا اعتماد توڑا، تاہم دونوں ممالک کے درمیان ثالث ممالک کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے۔ ان کے مطابق سفارتی رابطے کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔

ادھر آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایران اور عمان کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں۔ اسماعیل بقائی نے بتایا کہ دونوں ممالک نے بحری جہازوں کی آمد و رفت سے متعلق مفید بات چیت کی، تاہم آبنائے ہرمز اب بھی بند ہے اور اس معاملے کا امریکا سے کوئی تعلق نہیں۔

ایران نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے بعض ممالک نے حالیہ جنگ میں امریکا کا ساتھ دیا۔ اگرچہ ترجمان نے کسی ملک کا نام نہیں لیا، لیکن کہا کہ ایران ایسے ممالک سے توقع رکھتا ہے کہ وہ مستقبل میں ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی میں تعاون نہیں کریں گے۔

دوسری جانب مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج اور آبادکاروں کی کارروائیاں مزید تیز ہو گئی ہیں۔ مختلف علاقوں میں چھاپے، گرفتاریاں اور گھروں کی مسماری کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے، جس سے خطے میں کشیدگی برقرار ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ امریکی حملوں میں وقفہ اور ایران کی جوابی کارروائیوں کا رکنا ایک مثبت پیش رفت ہے، لیکن خطے میں صورتحال اب بھی انتہائی نازک ہے اور کسی بھی وقت دوبارہ کشیدگی بڑھنے کا خدشہ برقرار ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button