تلنگانہحیدرآبادعلاقائی خبریںقومی

مون سون اجلاس بی آر ایس کے کم از کم 20 ارکان اسمبلی معطل

تلنگانہ اسمبلی میں بدھ، 9 ستمبر کو ہنگامہ آرائی کے بعد بھارت راشٹر سمیتی کے کم از کم 20 ارکان اسمبلی کو مون سون اجلاس کی باقی مدت کے لیے معطل کردیا گیا۔ بی آر ایس ارکان نے ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالتے ہوئے نعرے لگائے اور ایوان کے وسط میں پہنچ گئے۔

معطل کیے گئے ارکان میں کے ٹی راما راؤ، ٹی ہریش راؤ، انیل یادو، جگدیش ریڈی، کوشک ریڈی، کووا لکشمی، کونیکنتی مانک راؤ، چنتا پربھاکر، پربھاکر ریڈی، سبیتا اندرا ریڈی، تالاسانی سرینواس یادو اور کے پی وویکانند سمیت دیگر شامل ہیں۔

بی آر ایس کا احتجاج

ایوان کا اجلاس شروع ہوتے ہی بی آر ایس ارکان ایوان کے وسط میں پہنچ گئے اور ’’ہمیں انصاف چاہیے‘‘ کے نعرے لگانے لگے۔ پارٹی کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ نے تحریک التوا پیش کرتے ہوئے دو روز قبل بی آر ایس کی خواتین ارکان اسمبلی کے ساتھ پولیس کی مبینہ بدسلوکی اور حکمران کانگریس کے بعض ارکان کی جانب سے بی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ کی موت کی خواہش سے متعلق مبینہ بیانات پر بحث کا مطالبہ کیا۔

اس دوران اسپیکر گڈم پرساد کمار، نائب وزیراعلیٰ ملو بھٹی وکرم ارکا اور وزیر برائے امور اسمبلی ڈی سری دھر بابو نے بارہا بی آر ایس ارکان سے اپنی نشستوں پر واپس جانے کی اپیل کی، تاہم ارکان نے انکار کردیا۔

حکومت کا جواب

نائب وزیراعلیٰ بھٹی وکرم ارکا نے کہا کہ انہوں نے اور دیگر کانگریس رہنماؤں نے کے چندر شیکھر راؤ کی صحت مند اور طویل زندگی کی خواہش کی ہے، اور ان کی موت سے متعلق الزامات کو مسترد کیا۔

بعد ازاں وزیر برائے امور اسمبلی ڈی سری دھر بابو نے بی آر ایس ارکان کی معطلی کے لیے تحریک پیش کی۔ اسپیکر گڈم پرساد کمار نے تحریک منظور ہونے کے بعد ارکان کو مون سون اجلاس کی باقی مدت کے لیے معطل کرنے کا اعلان کردیا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button