تلنگانہحیدرآبادعلاقائی خبریںقومی

تلنگانہ اسپیکر کے خلاف مبینہ نازیبا ریمارکس پر بی آر ایس کے دو ایم ایل سی گرفتار

تلنگانہ اسمبلی کے اسپیکر گڈم پرساد کمار کے خلاف مبینہ طور پر نازیبا اور توہین آمیز ریمارکس کرنے کے الزام میں بھارت راشٹر سمیتی کے دو ارکان قانون ساز کونسل ٹی مدھوسدن اور این نوین کمار ریڈی کو سیف آباد پولیس نے منگل، 8 ستمبر کو گرفتار کرلیا۔ یہ کارروائی اسپیکر کے خصوصی افسر برائے فرائض پولے پلی وینکٹیشم کی شکایت کے بعد کی گئی۔

ایف آئی آر کے مطابق دونوں ارکان اپنے سیاسی ساتھیوں کے ساتھ صبح تقریباً 9:30 بجے اسمبلی احاطے کے حفاظتی علاقے میں جمع ہوئے اور صحافیوں، اسمبلی عملے اور سیکیورٹی اہلکاروں کی موجودگی میں اسپیکر کے خلاف سخت الفاظ استعمال کیے۔ شکایت میں الزام ہے کہ مدھوسدن نے توہین آمیز زبان استعمال کی، جبکہ نوین کمار ریڈی نے اسپیکر کے احکامات جاری کرنے کے اختیار پر سوال اٹھایا۔

مقدمہ اور تفتیش

پولیس نے مقدمہ نمبر 364/2026 بھارتیہ نیائے سنہتا کی دفعہ 152 اور 3(5) کے تحت درج کیا، جبکہ درج فہرست ذاتوں اور قبائلیوں کے خلاف مظالم کی روک تھام کے قانون کی متعلقہ دفعات بھی شامل کی گئیں۔ پولیس واقعے کی ویڈیوز اور گواہوں کے بیانات کا جائزہ لے رہی ہے۔

ایک روز قبل اسمبلی میں ٹاٹا مدھو کے اسپیکر سے متعلق ریمارکس پر تنازع کھڑا ہوا تھا۔ مدھو نے الزام سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ان کے الفاظ اسپیکر کے خلاف نہیں بلکہ پولیس اہلکاروں کے مبینہ بدسلوکی کے خلاف تھے۔

کے ٹی آر اور ہریش راؤ کا ردعمل

بی آر ایس کے کارگزار صدر کے ٹی راما راؤ اور نائب فلور لیڈر ٹی ہریش راؤ نے گرفتاریوں کی مذمت کی۔ کے ٹی آر نے الزام لگایا کہ بی آر ایس خواتین ارکان سے مبینہ بدسلوکی پر کارروائی نہیں کی گئی، جبکہ مخالفین کے خلاف مقدمات درج کیے جارہے ہیں۔

ہریش راؤ نے وزیراعلیٰ اے ریونت ریڈی پر اپوزیشن کی آواز دبانے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ حکومت کی ایک ہزار روزہ کارکردگی، اراضی کے مسائل، کسانوں اور طلبہ سے متعلق معاملات پر بحث روکنے کے لیے گرفتاریاں کی جارہی ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button