تلنگانہحیدرآبادعلاقائی خبریںقومی

تلنگانہ اسمبلی میں شدید ہنگامہ کے ٹی آر اور ہریش راؤ حراست میں، خاتون ایم ایل اے سے بدسلوکی

حیدرآباد: تلنگانہ اسمبلی کے مانسون اجلاس کے پہلے ہی دن ایوان کے اندر اور باہر شدید سیاسی کشیدگی اور ہنگامہ آرائی دیکھنے میں آئی۔ ریونت ریڈی کی زیر قیادت کانگریس حکومت کے خلاف احتجاج کے دوران بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کے ورکنگ صدر کے ٹی راما راؤ (کے ٹی آر)، سینئر رہنما ٹی ہریش راؤ اور متعدد ارکان اسمبلی کو پولیس نے حراست میں لے لیا۔ دوسری جانب بی جے پی ارکان نے بھی اراضی تنازع پر عدالتی تحقیقات کے لیے ایوان میں زبردست نعرے بازی کی۔

بی آر ایس قانون سازوں نے حکومت کی مبینہ ناکامیوں اور جھوٹے وعدوں کے خلاف سیاہ لباس زیب تن کر کے احتجاج کیا۔ اراکین نے گن پارک پر جمع ہو کر کانگریس حکومت کے ایک ہزار دن مکمل ہونے کے باوجود وعدے پورے نہ کرنے کے خلاف مظاہرہ کیا۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کے ٹی آر نے سخت الزامات عائد کیے اور کہا کہ کانگریس پارٹی نے عوام کو گمراہ کر کے اقتدار حاصل کیا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے 420 وعدے کیے تھے اور بانڈ پیپر پر تحریری ضمانت دی تھی کہ یہ 100 دنوں میں پورے ہوں گے، لیکن 1000 دن گزرنے کے بعد بھی ایک وعدہ پورا نہیں ہوا۔

جب بی آر ایس رہنماؤں نے اسمبلی کمپلیکس میں داخل ہونے کی کوشش کی تو پولیس نے انہیں روک دیا، جس پر تصادم کی صورتحال پیدا ہو گئی۔ پولیس کارروائی کے دوران حیدرآباد پولیس کی خواتین سوات کمانڈو کی جانب سے سابق وزیر و بی آر ایس ایم ایل اے سبیتا اندرا ریڈی کے بال کھینچ کر حراست میں لینے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد شدید عوامی و سیاسی ردعمل سامنے آیا ہے۔ اس ہنگامے اور دھرنے کے باعث اسمبلی کے اطراف شدید ٹریفک جام رہا اور 30 سے 40 منٹ تک سڑکیں مکمل بند رہیں۔

ادھر ایوان کے اندر بی جے پی اراکین نے رجسٹریشن ایکٹ کے سیکشن 22A کے تحت شہریوں کی نجی اراضیات کو ممنوعہ فہرست میں شامل کرنے کے خلاف صدائے احتجاج بلند کی۔ بی جے پی قانون سازوں نے پلے کارڈز تھام کر وقفہ سوالات میں خلل ڈالا، اسپیکر کے پوڈیم کا گھیراؤ کیا اور پورے معاملے کی عدالتی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button