علاقائی خبریںقومی

کڑپہ کے کسان نے ایووکاڈو کی کاشت سے فصل کے بحران کو آمدنی میں بدل دیا

آندھرا پردیش کے کڑپہ ضلع میں ایک 30 سالہ کسان نے روایتی فصلوں میں نقصان کے بعد ایووکاڈو کی کاشت شروع کرکے اپنی آمدنی بڑھانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی اپنے حالیہ خطاب میں اس کسان کی جدت اور فصل کی بڑھتی مقبولیت کا ذکر کیا۔

من کی بات کی 137ویں قسط میں، جو 30 اگست کو نشر ہوئی، مودی نے کڑپہ کے کرپا وردراج کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے ایووکاڈو کی کاشت یوٹیوب اور ایک دوسرے فارم کے تجربے سے سیکھنے کے بعد شروع کی۔

پلویندولا میں رہنے والے وردراج نے بتایا کہ اس سال مارچ سے ان کے باغ میں پھل آنا شروع ہوئے اور اب تک تقریباً چار ٹن ایووکاڈو پیدا ہوچکا ہے۔ وہ یہ پھل مقامی دکانوں کو فراہم کررہے ہیں۔

روایتی فصلوں سے نئی سمت

سال 2022 سے پہلے وردراج اور ان کا خاندان ٹماٹر اور کیلے کی کاشت پر انحصار کرتا تھا، تاہم فصل کے مسائل اور منڈی میں کم قیمتوں نے انہیں متبادل تلاش کرنے پر مجبور کیا۔ انہوں نے یوٹیوب سے معلومات حاصل کیں اور سائنسی رہنمائی کے لیے کرناٹک کا سفر بھی کیا۔

وردراج کے مطابق ابتدا میں ان کا خاندان ایووکاڈو کی کاشت کے فیصلے سے مطمئن نہیں تھا اور روایتی فصلیں جاری رکھنے کا مشورہ دیتا تھا، لیکن انہوں نے تقریباً چار سال قبل اپنے کھیت میں پودے لگانے کا فیصلہ کیا۔

براہ راست فروخت سے فائدہ

وردراج اب براہ راست مارکیٹنگ کے ذریعے اپنی پیداوار فروخت کررہے ہیں، جس سے ان کی آمدنی میں بہتری آئی ہے۔ تاہم ان کے لیے سب سے زیادہ خوشی وزیر اعظم کی جانب سے قومی سطح پر ذکر کیے جانے کی ہے۔

مودی نے کہا کہ بھارت میں ایووکاڈو تیزی سے گھروں کی میزوں تک پہنچ رہا ہے اور صحت و اعلیٰ معیار کی غذاؤں کی منڈی میں مقبول ہورہا ہے۔ انہوں نے اس رجحان کو کسانوں کے لیے روایتی فصلوں سے ہٹ کر نئی فصلیں اپنانے اور صارفین تک براہ راست پہنچنے کا موقع قرار دیا۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button