علاقائی خبریںقومی

سہارنپور عدالتی حکم پر کلکٹریٹ کے اندر مسجد شہید، آر اے ایف تعینات

اترپردیش کے سہارنپور کلکٹریٹ کمپلیکس میں موجود ایک مسجد کو ہفتے کی صبح سخت حفاظتی انتظامات میں منہدم کر دیا گیا۔ یہ کارروائی ضلعی جج کی عدالت کی جانب سے مسجد کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دینے والے سابقہ فیصلے کو برقرار رکھنے کے چند روز بعد ہوئی۔ حکام نے کلکٹریٹ کے پانچوں دروازے سیل کر دیے جبکہ ریپڈ ایکشن فورس سمیت بھاری نفری تعینات کی گئی۔

رات میں کلکٹریٹ میں جے سی بی مشینیں، ڈمپر اور سامان پہنچا دیا گیا تھا۔ افسران کی موجودگی میں ہفتے کی صبح عمارت ہٹانے کا کام شروع ہوا۔ ڈی آئی جی ابھیشیک سنگھ نے بتایا کہ سٹی مجسٹریٹ کی عدالت نے مسجد کو سرکاری زمین پر غیر قانونی تعمیر قرار دیا تھا۔ مسجد کمیٹی کی اپیل مسترد ہونے کے بعد انہدام کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ امن و امان برقرار رکھنے اور قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے احتیاطی اقدامات کیے گئے۔

عدالتی فیصلے کے بعد کارروائی

تنازع کا آغاز بجرنگ دل کے سابق کنوینر وکاس تیاگی کی شکایت سے ہوا۔ 24 مارچ 2025 کو متعلقہ قانون کے تحت درخواست دائر کی گئی۔ 16 جولائی 2026 کو سٹی مجسٹریٹ کی عدالت نے مسجد کو غیر قانونی قرار دے کر 6 کروڑ 41 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔ مسجد انتظامیہ نے 20 جولائی کو فیصلے کو ضلعی عدالت میں چیلنج کیا، تاہم 17 سماعتوں کے بعد 2 ستمبر کو درخواست خارج کر دی گئی۔

اقرا حسن کی مبینہ نظربندی

دریں اثنا کیرانہ کی رکن اقرا حسن کو سہارنپور جانے سے قبل رہائش گاہ پر مبینہ طور پر نظربند کر دیا گیا۔ حسن نے کہا کہ بھاری پولیس نفری پہنچی اور انہیں روکا۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا منتخب نمائندے کا عوامی مسائل پر حکام سے ملنا جرم ہے۔ سماج وادی پارٹی نے الزام لگایا کہ حکومت نے انہیں مسجد کے انہدام کا معاملہ اٹھانے سے روکا۔ اکھلیش یادو نے کہا کہ ہم آہنگی برقرار رکھنا حکومت کی سب سے بڑی ذمہ داری ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button