بین الاقوامیعرب دنیا

خرگ جزیرے کے قریب دھماکے امریکہ کا ایرانی آئل ٹینکر پر میزائل حملہ

ایران کے اہم تیل مرکز خرگ جزیرے کے قریب دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، بعد ازاں یہ سامنے آیا کہ ہفتے کے روز امریکہ نے ایک آئل ٹینکر کو نشانہ بنایا۔ خبر رساں ادارے رائٹرز نے ایران کے سرکاری ادارے نور نیوز کے حوالے سے بتایا کہ اب تک کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی، جبکہ ایرانی حکام نے حملے سے ہونے والے نقصان کی تفصیلات ابھی تک جاری نہیں کیں۔

یہ حملہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران کے مہینوں سے جاری تنازع میں ایک بار پھر شدت آ گئی ہے، اور گزشتہ چند دنوں سے آبنائے ہرمز کے اسٹریٹیجک طور پر اہم سمندری راستے کے گرد لڑائی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

امریکہ نے 30 اگست کو ایرانی اہداف کے خلاف حملوں کی ایک نئی لہر شروع کی تھی، جس میں آبنائے ہرمز کے قریب لارک جزیرے پر ایرانی مورچوں کو نشانہ بنایا گیا۔ واشنگٹن کا کہنا تھا کہ یہ حملے بحری راستوں میں بارودی سرنگیں بچھانے اور جہاز رانی کو خطرے میں ڈالنے میں ملوث ایرانی افواج کے خلاف کیے گئے۔ جوابی کارروائی میں ایران نے اردن میں امریکی اڈوں پر بیلسٹک میزائل داغے۔

یکم ستمبر کو تصادم مزید بڑھ گیا جب امریکہ نے ایران کے جنوبی ساحل کے ساتھ ساتھ حملوں کا ایک اور سلسلہ شروع کیا۔ امریکی فوج کے مطابق ان حملوں میں ایرانی فضائی دفاعی نظام، رڈار تنصیبات، بحری اثاثے، بارودی سرنگیں بچھانے کی صلاحیت اور مواصلاتی مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی مرکزی کمان نے ایکس پر بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ یہ حملے پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز رانی اور امریکی فوجی اہلکاروں کے خلاف حالیہ کوششوں کے جواب میں کیے گئے۔

ایران نے جوابی طور پر خلیجی خطے میں امریکی اور اتحادی افواج کے ٹھکانوں پر حملے کیے، جن میں بحرین، اردن اور عراق شامل ہیں۔ آبنائے ہرمز موجودہ کشیدگی کا مرکزی نقطہ بن چکا ہے، جہاں ایران نے جہاز رانی پر پابندیاں برقرار رکھی ہیں جبکہ امریکہ اس اہم راستے پر تہران کے کنٹرول کو چیلنج کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ آبنائے عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے جہاں سے دنیا کی تیل رسد کا بڑا حصہ گزرتا ہے۔

رائٹرز کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب جہازوں پر حملوں اور فائرنگ کے تبادلے نے جہاز رانی کو متاثر کیا ہے، جبکہ امریکی حملوں اور ایرانی جوابی کارروائیوں نے عالمی تیل رسد میں مزید خلل کے خدشات بڑھا دیے ہیں۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button