بین الاقوامیعرب دنیا

قطر ایرانی حملوں کی اکثریت امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کے لیے کی گئی

قطر نے بین الاقوامی ٹیلی مواصلات یونین (آئی ٹی یو) کو جمع کرائی گئی ایک سرکاری دستاویز میں کہا ہے کہ حالیہ تنازع کے دوران تقریباً تمام حملے امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بناتے ہوئے کیے گئے، جبکہ کسی بھی شہری علاقے کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

جمعے، چار ستمبر کو ایکس پر ایک پوسٹ میں ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے قطر کی جانب سے تیار کردہ سلامتی و حفاظتی خطرے کے جائزے کی طرف توجہ دلائی، جو 2026 کی آئی ٹی یو مکمل اختیاراتی کانفرنس سے قبل آئی ٹی یو کونسل کے غیر معمولی اجلاس میں پیش کیا گیا۔

دستاویز کے مطابق قطر میں مخصوص اہداف کے خلاف براہِ راست حملے یکم اپریل کو ختم ہو چکے تھے، اور ’’تقریباً تمام حملے امریکی فوجی تنصیبات کی جانب کیے گئے۔‘‘ دستاویز میں صرف ایک استثنا کا ذکر کیا گیا، جو 18 مارچ کو راس لفان میں گیس تنصیبات پر ہونے والا حملہ تھا، تاہم اس میں بھی واضح کیا گیا کہ کسی شہری علاقے کو نشانہ نہیں بنایا گیا۔

جائزے کے مطابق موجودہ تنازع کا مرکز آبنائے ہرمز پر جاری تعطل ہے، جہاں بحری جہاز رانی تاحال متاثر ہو رہی ہے۔ دستاویز میں کہا گیا کہ آبنائے کے قریب فوجی کارروائیوں کا قطر کی سلامتی پر براہِ راست کوئی اثر نہیں پڑا، اور موجودہ کارروائیوں سے لاحق خطرے کو کم درجے کا قرار دیا گیا۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ قطری دستاویز ایران کے اس مؤقف کی تصدیق کرتی ہے کہ قطری سرزمین پر موجود امریکی افواج کے خلاف اس کے حملے فوجی تنصیبات کو ہدف بناتے ہوئے کیے گئے، نہ کہ شہری علاقوں کو۔ ان کا کہنا تھا کہ 18 مارچ کو نشانہ بنائی گئی راس لفان کی تنصیبات ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کی معاونت کر رہی تھیں۔

ایرانی ترجمان نے امریکہ پر الزام عائد کیا کہ اس کا شہری اہداف پر حملوں کا طویل ریکارڈ رہا ہے، جن میں اسکول، ہسپتال، رہائشی علاقے، شادی کی تقریبات اور پل شامل ہیں۔ یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے جب ایرانی فوجی تنصیبات پر حالیہ امریکی حملوں اور خطے میں امریکی اڈوں کے خلاف ایران کے جوابی حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان فوجی کشیدگی ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button